مقبولیت کا خوف

یہ پہلا موقعہ نہیں کہ کوئی مسجد فوجی جنرل کے نام پر منسوب کی گئی ہو۔


Muhammad Saeed Arain October 15, 2015

پیپلز پارٹی کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے ایک نو تعمیر مسجد کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے نام سے منسوب کرنے پر بھی اعتراض کیا ہے جب کہ وہ جنرل راحیل کی مدت ملازمت میں توسیع کی بھی مخالفت کر چکے ہیں۔ یہ پہلا موقعہ نہیں کہ کوئی مسجد فوجی جنرل کے نام پر منسوب کی گئی ہو۔

اس سے قبل راولپنڈی میں ایک مسجد جنرل ضیا الحق کے نام سے منسوب ہے جس کی وجہ وہاں سابق صدر جنرل ضیا الحق کا اچانک گزرتے ہوئے وہاں نماز پڑھ لینا تھی جس کی یاد اور جنرل ضیا سے متاثر افراد نے مسجد کا نام ضیا مسجد رکھ دیا تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ سیاسی حلقوں میں آمریت کے باعث آمر کہے جانے والے فوجی جنرلوں کو عوامی سطح پر مقبولیت نہ ملی ہو۔ جنرل محمد ایوب خان کے دور کو لوگوں کی بہت بڑی تعداد اب بھی یاد کرتی ہے جن کے جانے کے بعد لوگ کہتے تھے اور گاڑیوں پر ان کی تصویر کے نیچے لکھا ہوتا تھا کہ تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد۔

فیصل مسجد اسلام آباد کے قریب سابق صدر جنرل ضیا الحق کی قبر پر اب بھی ان کے عقیدت مند فاتحہ خوانی کے لیے آتے ہیں اور آج بھی ملک میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو جنرل پرویز کے دور کو آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے دور سے بہتر قرار دیتی ہے اور اگر انھیں عدلیہ سے سیاسی نااہلی کی سزا نہ ہوئی ہوتی تو وہ بھی سیاسی میدان میں اپنے گھوڑے دوڑا رہے ہوتے۔

ملک بھر میں سیاسی حکومتوں سے اب کچھ کم ہو جانے والی مدت اقتدار فوجی حکومتوں کی رہی ہے اور سابق صدر جنرل یحییٰ خان کی کم مدت کی حکومت کے سوا عوام بڑی تعداد میں فوجی صدور کے حامی رہے ہیں اور ان کی حکومتوں میں ان کی حمایت میں متعدد تحریکیں بھی قائم ہوئیں جو اکثر مفادات کے لیے بھی تھیں اور انھیں سربراہان وقت کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ سابق فوجی صدر ایوب خان کے دور میں ملاوٹ، گراں فروشی اور صفائی کی مہم اب بھی لوگوں کو یاد ہے اور جب ان کے دور میں چینی چار آنے سیر مہنگی ہوئی تھی تو عوام صدر ایوب کے خلاف سڑکوں پر آ گئے تھے۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دیے گئے با اختیار ضلع حکومتوں کے نظام کے آج بھی لاکھوں لوگ حامی ہیں کہ جس میں بیوروکریٹس کو منتخب ناظمین کے ماتحت کر دیا گیا تھا اور کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنروں کے عہدے ختم کر کے بیورو کریسی کو لگام دی گئی تھی مگر آصف علی زرداری کی صدارت میں ملک بھر میں سیاسی حکومتوں نے کمشنری نظام بحال کر کے اپنی ذہنیت بیوروکریسی کے ماتحت رہنے کا ثبوت دیا کہ وہ نچلی سطح پر عوام کے بااختیار بلدیاتی نمایندوں کو بھی برداشت نہیں کر سکتے اور کمشنری نظام کی غلامی اور جی حضوری انھیں پسند ہے۔

یہ اعزاز بھی ملک کے تین فوجی صدور جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز کو حاصل ہے جنھوں نے اپنی حکومتوں میں مسلسل بلدیاتی انتخابات کرائے اور اب ملک میں جو بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں ان کا کریڈٹ بھی سپریم کورٹ کو جاتا ہے کیونکہ سیاسی حکومتیں اپنے چھ برس میں ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کرا سکیں۔

آخری فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے جانے کے بعد ملک کی سیاسی حکومتوں نے سات سال مکمل کر لیے مگر عوام کو کچھ نہ دیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور کے آخر میں ملک میں مہنگائی کے باعث عوام جنرل پرویز مشرف کے خلاف ہو گئے تھے اور ان کے بعد آنے والی نام نہاد عوامی حکومت اور بعد میں ڈھائی سال سے قائم نواز شریف حکومت سے ریلیف کی توقع رکھتے تھے مگر پی پی اور (ن) لیگی دونوں حکومتوں نے اپنے ساڑھے سات سالوں میں عوام کو ریلیف تو کیا دیا بلکہ بجلی اور پٹرول مہنگا کر کے عوام کو سیاسی حکومتوں سے ہی بیزار کر دیا اور عوام کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ان سے جنرل پرویز مشرف کی حکومت ہی بہتر تھی۔ سیاسی حکومتوں کے سیاسی رہنماؤں کی یہ حالت ہے کہ وہ اپنی حکومتوں کو ہی بہتر قرار دیتے نہیں تھکتے۔

عمران خان اپنی کے پی کے کی حکومت کی کارکردگی پر بہت نازاں ہیں اور اب تو انھوں نے شریف برادران کو کرپٹ ترین قرار دے کر آصف زرداری دور کو ان سے بہتر قرار دے دیا ہے اور کے پی کے حکومت سے کرپشن کے الزام میں نکالے گئے وزیروں کی پارٹی کو دوبارہ اپنی حکومت میں شامل کر لیا ہے اور شرمندگی کا اظہار بھی نہیں کیا۔ یہی عمران خان (ق) لیگ اور پی پی حکومتوں کو کرپٹ ترین قرار دیتے تھے۔

ملک میں جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے پیپلز پارٹی ہی نہیں (ن) لیگ بھی خوفزدہ تو ہے مگر اظہار نہیں کرتی۔ خواجہ آصف کے بعد آصف زرداری اور پھر میاں رضار بانی نے جذبات میں آ کر ایک بار تو فوج کے خلاف زبان کھولی مگر بعد میں پر اسرار خاموشی اختیار کر گئے۔ شاید اس کی وجہ عوام میں بڑھتی ہوئی فوج کی مقبولیت ہے جس سے پی پی خاص طور پر خائف ہے۔

ملک میں تین بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے اپنی مقبولیت کھوئی ہے۔ پنجاب، خاص کر لاہور، جو (ن) لیگ کا گڑھ تھا اب (ن) لیگ کی عدم مقبولیت کے باعث اب پی ٹی آئی کا بھی گڑھ بن گیا ہے۔ مہنگائی، جھوٹے وعدوں اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے تحریک انصاف 11 اکتوبر کے انتخابات میں (ن) لیگ کے برابر آ گئی ہے اور پیپلزپارٹی ضمانت ضبط کرانے والی پارٹی بن گئی ہے ۔ 11 اکتوبر کے ضمنی انتخابات کے نتائج (ن) لیگ کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ تینوں بڑی پارٹیاں اقتدار میں ہیں مگر اپنے صوبوں میں مقبولیت کھو رہی ہیں اور یہی حال رہا تو ملک میں فوجی مقبولیت اور بڑھے گی۔

مقبول خبریں