موبائل فون بندش سے حکومت کو یومیہ 50 کروڑ کا نقصان اورمعاشرے پرمنفی اثرات پڑ رہے ہیں رپورٹ

موبائل فونز کی بندش سے رضاکار، ایمرجنسی وتحقیقی اداروں کا کام، طلبہ اوردفتری امور بھی متاثر ہوتے ہیں


Kashif Hussain October 24, 2015
کراچی: 9محرم الحرام کے موقع پرموبائل فون سروس بند ہونے کی وجہ سے ہینڈ سیٹ پر سگنل نہیں آرہے ۔ فوٹو : راشد اجمیری / ایکسپریس

پاکستان میں اہم دنوں اور تہواروں پر موبائل فون کی بندش سماجی و معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق کے لیے بھی خطرہ ہے۔

برطانیہ کے انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن رائٹس اینڈ بزنس، بائٹس فار آل(بی فور اے) پاکستان، جرمنی کے سینٹر فار انٹرنیٹ اینڈ ہیومن رائٹس، یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے اینن برگ اسکول برائے کمیونی کیشن کے سینٹر فار گلوبل کمیونی کیشن اسٹڈیز کی جانب سے مشترکہ طور پر پاکستان میں موبائل فون بندش سے سماجی، معاشی اور انسانی حقوق پر پڑنے والے اثرات سے متعلق ریسرچ رپورٹ ''سیکیوریٹی بمقابلہ ایکسس، دی امپیکٹ آف موبائل نیٹ ورک شٹ ڈاؤن'' پیش کی ہے۔

جس میں کہا گیاکہ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال پر قابو پانے کے لیے دیگر عملی اقدامات کے بجائے اہم دنوں میں موبائل فون کی بندش کو نمونے کے طور پررائج کردیا گیا ہے جس سے ایمرجنسی اداروں سے رابطے بشمول پولیس، ایمبولینس، ہنگامی طبی امداد کے اداروں سے ہنگامی صورتحال میں رابطہ دشوار ہوجاتا ہے۔

موبائل فون کی بندش سے دفتری امور اور تحقیق کے کام بھی متاثر ہوتے ہیں، طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ساتھ ہی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور رضاکاروں کے لیے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی روک تھام سے متعلق اپنے امور کی انجام دہی اور نگرانی کے کام میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس تحقیق میں پاکستان میں 2012 سے مارچ 2015 تک کی جانے والی موبائل فون بندش کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق موبائل فون کی بندش پاکستان کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے، ایک روز کی بندش سے خود حکومت کو موبائل آپریٹرز کے ذریعے حاصل ہونے والے ریونیو کی مد میں 50کروڑ روپے سے زائد نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونی کیشنز ایکٹ 1996کے سیکشن 54کے تحت موبائل فون کی بندش سے موبائل فون آپریٹرز کو ہونے والے نقصان کی تلافی حکومت کی ذمے داری ہے لیکن پاکستان میں آپریٹرز کو کبھی بھی ہرجانہ ادا نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مندرجات کے بارے میں سی آئی ایچ آر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بین وانگر کا کہنا ہے کہ موبائل فون کی بندش کا بظاہر مقصد شہریوں کی جانوں کا تحفظ کرنا ہوتا ہے لیکن اس بندش کی وجہ سے اس کے الٹ اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں جیسے ہنگامی امداد کے ادارے کام نہیں کرسکتے جن سے شہریوں کی جان داؤ پر بھی لگ جاتی ہے۔

آئی ایچ آر بی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جان موریسن کے مطابق اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کو حقیقی سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے جن کے تدارک اور شہریوں کی سلامتی کے لیے حکومت کو تمام مناسب اقدامات کرنا ضروری ہیں لیکن اس رپورٹ میں تصویر کا دوسرا رخ سامنے آیا ہے جس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے موبائل فون سروس کی بندش کو حربہ بنانے پر ماہرین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے سروس کی معطلی طویل مدتی حل نہیں ہو سکتا، اس کے لیے دیگر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے روشنی میں حکومت پاکستان اور ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے 13نکاتی سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں جن میں کہا گیاکہ حکومت ایمرجنسی سروس سے رابطے کو یقینی بنائے، نیٹ ورک بندش کی پالیسی اور متعلقہ قوانین پر نظرثانی کی جائے، موبائل کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے، شہریوں کو بھی فیصلہ سازی میں شریک کیا جائے، بندش سے متعلق کسی بھی فیصلے کو شفاف رکھا جائے، نگرانی کے عمل کو موثر بنایا جائے۔

موبائل آپریٹرز کو بندش سے ہونے والے نقصان کا ہرجانہ ادا کیا جائے۔ موبائل فون کمپنیوں کے لیے سفارشات میں کہا گیا ہے کہ بندش کے بارے میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، انڈسٹری کی سپورٹ کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے، اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ روابط استوار کیے جائیں، صارفین کی شکایات کے ازالے کا میکنزم مہیا کیا جائے، شفافیت اختیار کی جائے۔

مقبول خبریں