پولیس بے لگام کیوں
ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ اور کوئی ہائی کورٹ ایسی نہیں ہے
ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ اور کوئی ہائی کورٹ ایسی نہیں ہے جہاں ملک کی پولیس کے خلاف منفی ریمارکس نہ ادا ہوئے ہوں اور پولیس میں سب سے اعلیٰ عہدوں پر فائز انسپکٹر جنرل آف پولیس کی سرزنش نہ ہوئی ہو مگر ملک کا کوئی ایسا صوبہ نہیں ہے جہاں پولیس مافیا کی شکل اختیار نہ کر چکی ہو اور بے لگام نہ ہو۔
غیر قانونی اقدامات، من مانی، لاقانونیت، جھوٹے مقدمات کے اندراج، جعلی مقابلوں میں لوگوں کی ہلاکتوں، ماورائے عدالت قتل، پولیس کے نجی عقوبت خانوں، انتہائی تشدد سے قیدیوں کو مار دینے، لوگوں کو اغوا کر کے تاوان وصول کر کے رہا کرنے جیسے واقعات خاص کر پنجاب اور سندھ میں سرفہرست ہیں جب کہ کے پی کے اور بلوچستان میں ایسی شکایات کم مگر موجود ضرور ہیں اور ملک بھر کی پولیس سیاسی بننے کے بعد اب ایسی مضبوط مافیا بن چکی ہے جو ہر حکومت اور حکمرانوں کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے کوئی صوبائی حکومت پولیس کی اصلاح نہیں کر سکی ہے اور سیاسی حکمران پولیس کو درست کرنا بھی نہیں چاہتے کیونکہ ان کے ذاتی اور سیاسی مفادات اسی پولیس سے وابستہ ہیں۔
سندھ ملک کا واحد صوبہ ہے جس کے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس اپنی گرفتاری کے خوف سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر چکے ہیں جب ایسے اعلیٰ عہدوں پر فائز اعلیٰ افسروں پر کرپشن اور غیر قانونی اقدامات کے الزامات ہوں تو ان کے ماتحت افسران نے کیا کچھ نہ کیا ہو گا اور وہ اعلیٰ عہدوں پر رہ کر کیا نہیں کر رہے۔
ان کی خبریں میڈیا پر اکثر آتی ہیں مگر اکثریت اصلاح نہیں چاہتی، عوام پر ہر قسم کے مظالم، رشوت کے حصول کے لیے ہر غیر قانونی کام کر جانے اور من مانیوں میں پنجاب اور سندھ کی پولیس سب سے زیادہ بدنام ہے اور پنجاب کے سخت گیری میں مشہور وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی اپنے صوبے میں سات سال وزیر اعلیٰ رہ کر بھی پنجاب پولیس کو نہیں سدھار سکے ہیں۔ پنجاب میں پولیس کے خلاف سنگین شکایات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور وزیر اعلیٰ فوری ایکشن تو لے لیتے ہیں مگر ذمے داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کو ضروری نہیں سمجھتے اور پولیس کے خلاف معطلی اور تبادلوں کو ہی شاید آخری حل سمجھتے ہیں۔ پولیس کے خلاف ایسی کون سی سنگین شکایات ہیں جو پنجاب اور سندھ میں نہ پائی جاتی ہوں۔
کے پی کے پولیس میں اصلاح کے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی طرف سے بڑے بڑے دعوے تو ضرور ہیں مگر صورتحال اتنی بھی بہتر نہیں ہے اور پولیس کا سیاسی استحصال اب بھی جاری ہے اور سیاسی حکمرانوں سے پولیس میں اطمینان بخش بہتری لانے کی امید ایک خواب ہی ہو سکتی ہے جو دیکھا تو جا سکتا ہے مگر اس کی اچھی تعبیر نہیں مل سکتی۔
بلوچستان میں پولیس چند اضلاع تک ہی محدود ہے اس لیے وہاں پولیس کی شکایات کم ہیں اور ظاہر نہیں ہوتیں۔ سندھ ملک کا ایسا صوبہ ہے جس کی حکومت اور پولیس کارکردگی پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ آئے دن سخت برہمی کا اظہار کرتی آ رہی ہیں مگر سات سال سے قبل سائیں کی ایسی حکومت ہے جو ٹس سے مس نہیں ہوتی۔
سندھ میں ہائی کورٹ تو کیا سپریم کورٹ کے فیصلوں پر بھی عمل نہیں ہو رہا اور اعلیٰ عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنا معمول بنا ہوا ہے اور سندھ حکومت اپنے پسندیدہ آئی جی پولیس کی تقرری ہر حال میں برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وفاقی حکومت سے اچھی شہرت کا حامل ملنے والا کوئی اعلیٰ پولیس افسر سندھ حکومت کے لیے قابل قبول نہیں رہا اور موجودہ آئی جی پولیس کی اتنی سیاسی پشت پناہی مضبوط ضرور ہے کہ حکومت سندھ کئی بار ان کے تبادلے میں رکاوٹ بن جاتی ہے اور خود بھی ان کی تبدیلی کا اعلان کر کے اپنا فیصلہ واپس لے لیتی ہے۔
سندھ میں پی پی حکومت نے سات سالوں میں ہر اس آئی جی کو برقرار رہنے دیا جو حکومت کے ہر قانونی غیر قانونی احکامات پر عمل کرتا رہا اور جس باضمیر آئی جی پولیس نے کسی غیر قانونی کام سے انکار کیا اس کو سندھ حکومت نے ہٹانے میں دیر نہیں کی۔ وفاقی حکومت نے کئی بار سندھ حکومت کو اچھا غیر جانبدار اور غیر سیاسی اعلیٰ پولیس افسر بطور آئی جی پی دینے کی کوشش کی مگر سائیں سرکار اپنے من پسند افسر کو آئی جی بنانے پر بضد رہی۔
موجودہ آئی جی پولیس سے سندھ حکومت مکمل مطمئن ہے اور ہر حکومتی من مانی کی آئی جی سندھ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے اس لیے سندھ میں وہ کچھ ہو رہا ہے جو پنجاب سمیت کسی اور صوبے میں نہیں ہو رہا۔ سندھ پولیس پہلے کی مکمل طور پر سیاسی بنائی جا چکی ہے اور من پسند پولیس افسروں کو غیر قانونی طور پر نوازا جا رہا ہے۔
سندھ حکومت نے میرٹ کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے احکامات بھی ہوا میں اڑا دیے ہیں اور سندھ پولیس میں پسند اور ناپسند کی بنیاد پر اعلیٰ پولیس افسروں کے تقرر و تبادلے جاری ہیں اور او پی ایس پر تعینات پولیس افسروں کو سپریم کورٹ کے حکم پر بھی نہیں ہٹایا گیا۔ سندھ میں 19 گریڈ کے عہدوں پر 18 گریڈ کے پسندیدہ افسروں کو لگایا گیا ہے جب کہ 19 گریڈ کے متعدد افسران موجود تو ہیں مگر وہ سندھ حکومت کے پسندیدہ اور گڈ بک میں نہیں ہیں اس لیے انھیں 18 گریڈ کے عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گریڈ 18 کے افسر کو گریڈ 20 کے ڈی آئی جی ٹی اینڈ ٹی کا چارج دیا ہوا ہے جب کہ گریڈ 19 کے افسر موجود ہیں اس ایک مثال سے سندھ حکومت کی من مانیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جہاں کوئی اصول ہے نہ قانون۔
غیر قانونی طور پر تعینات افسران حکومت کے ہر فیصلے پر عمل کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سندھ میں نہ صرف میرٹ پامال ہوا ہے بلکہ لاقانونیت اور بدامنی عروج پر ہے مگر حکومت کو کوئی پرواہ نہیں اور سندھ میں صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے۔