کرنسی اسمگلنگ کیس ماڈل ایان علی کے خلاف کیس کی سماعت 3 نومبرتک ملتوی

کیس کا ٹرائل وقت کا ضیاع ہے اس لئے عدالت اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے ماڈل کو با عزت بری کرے،لطیف کھوسہ


ویب ڈیسک October 28, 2015
کیس مفروضے پر مبنی ہے اس لئے میری موکل کو سزا نہیں ہو سکتی،لطیف کھوسہ:فوٹو:فائل

MULTAN: کرنسی اسمگلنگ کیس میں ماڈل ایان علی کی بریت اور منی لانڈرنگ کا نیا مقدمہ درج کرنے کی سماعت 3 نومبر تک ملتوی ہو گئی۔

کرنسی اسمگلنگ کیس میں ماڈل ایان علی کسٹم عدالت کے جج رانا آفتاب کے روبرو پیش ہوئیں۔ اس موقع پر ایان علی کے وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ کسٹم حکام کے پاس ایان علی کے خلاف کوئی شواہد نہیں ہیں۔ ایان کے پاس 5 لاکھ 8 ہزار 600 ڈالر ایان کی قانونی رقم تھی اور اس نے ساڑھے 3 بجے دبئی جانا تھا جب کہ ایان کے بھائی نے دوپہر ڈیڑھ بجے دبئی سے اسلام آباد آنا تھا جہاں ایان نے رقم اپنے بھائی کو دے کر دبئی کے لئے روانہ ہونا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایان کلیئرنس کے لئے کسٹم کاؤنٹر تک پہنچی ہی نہیں تھیں کہ اے ایس ایف حکام نے نے انھیں راول لاؤنج سے حراست میں لے لیا جو اس کا اختیار ہی نہیں۔

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ کیس کا ٹرائل وقت کا ضیاع ہے اس لئے عدالت اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے ماڈل کو با عزت بری کرے، کیس مفروضے پر مبنی ہے اس لئے میری موکل کو سزا نہیں ہو سکتی، ماڈل ایان علی کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد اپنے ریمارکس میں کہا کہ کیس کا فیصلہ قانون کے تقاضوں کے مطابق اورمیرٹ پرہوگا۔ عدالت نے ماڈل ایان علی کی بریت اوران کے خلاف منی لانڈرنگ کا نیا مقدمہ درج کرنے کی سماعت 3 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے ملزمہ کے وکیل کو اپنے دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ ماڈل ایان علی کو رواں برس مارچ میں اسلام آباد ایئرپورٹ سے 5 لاکھ سے زائد امریکی ڈالردبئی منتقل کرتے ہوئے گرفتارکیا گیا تھا جس کے بعد سے ان پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے متعدد بار سماعت ہوئیں لیکن فرد جرم عائد نہیں ہو سکا۔