الیکشن کمیشن تاثرات و تحفظات

سندھ کے سابق وزرائے اعلیٰ غوث علی شاہ، ارباب غلام رحیم، لیاقت جتوئی


Muhammad Saeed Arain November 12, 2015

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے منعقدہ ایکسپریس فورم کے پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلدیاتی نظام میں نقائص ہیں اور آیندہ بلدیاتی انتخابات کے دونوں مراحل میں موثر سیکیورٹی ہونی چاہیے اور الیکشن کمیشن کو اس سلسلے میں موثر اقدامات کر کے بلدیاتی انتخابات کو شفاف اور منصفانہ بنانے پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔ پیر صاحب پگارا نے بھی بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مزید خون خرابے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ہماری نشاندہی کے باوجود پہلے مرحلے میں موثر انتظامات نہیں کیے جس کی وجہ سے سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات منصفانہ اور شفاف نہیں ہو سکے۔

سندھ کے سابق وزرائے اعلیٰ غوث علی شاہ، ارباب غلام رحیم، لیاقت جتوئی اور دیگر نے بھی الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو موثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے تا کہ باقی دو مرحلوں میں وہ شکایات دوبارہ پیدا نہ ہوں جو 31 اکتوبر کے پہلے مرحلے میں سندھ کے پہلے مرحلے میں خود وزیر اعلیٰ سندھ کے اپنے ضلع خیرپور کے علاقہ درازہ شریف میں فنکشنل لیگ کے 12 کارکنوں کی ہلاکت کا واقعہ ہوا ہے ایسا افسوسناک خونریز واقعہ پنجاب کے 12 اور سندھ کے دیگر سات اضلاع میں کہیں پیش نہیں آیا۔ اتنی بڑی تعداد میں ایک ہی علاقے میں ہلاکتیں تو کبھی قومی اور صوبائی انتخابات کے موقعے پر نہیں ہوئیں۔

مختلف سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن سے پہلے بلدیاتی مرحلے کے موقعے پر بعض انتہائی حساس علاقوں میں فوج اور رینجرز کی تعیناتی کا مطالبہ کر رہی تھیں مگر الیکشن کمیشن چاہتا تھا کہ فوج اور رینجرز کی تعیناتی کا مطالبہ متعلقہ صوبائی حکومتیں کریں، گویا الیکشن کمیشن حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کو اعتماد کے قابل نہیں سمجھتا تھا۔ اسی لیے الیکشن کمیشن نے غیر حکومتی حلقوں کے مطالبات کو اہمیت نہیں دی اور الیکشن کمیشن کو بھی شاید کسی بڑے واقعے کا انتظار تھا۔

سندھ اور پنجاب میں حکومتوں نے بلدیاتی حلقوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا، جس میں انتہائی حساس اور عام حلقے شامل تھے۔ انتہائی حساس قرار دیے جانے والے علاقوں کو الیکشن کمیشن نے اہمیت دی اور نہ ہی چیف الیکشن کمشنر نے صوبوں کے دورے ضروری سمجھے۔ عام انتخابات کے برعکس بلدیاتی انتخابات زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جہاں حلقے چھوٹے اور امیدواروں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے جس میں سیاسی غیر سیاسی و سماجی حلقے اور برادریاں بھرپور حصہ لیتی ہیں اور ملک کی گلی گلی میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں اور اس بار تو ملک میں پہلی بار سیاسی جماعتوں کے نشانات پر بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں۔

کے پی کے میں چند ماہ قبل جب جماعتی انتخابات پورے صوبے میں ایک ہی روز ہوئے تھے تو ان میں کے پی کے کی حکومت پر شدید دھاندلیوں کے الزامات لگائے گئے تھے جس پر الیکشن کمیشن نے پنجاب اور سندھ میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کا فیصلہ کیا تھا جس کے مطابق ملک کے ایک سو سے زائد اضلاع میں صرف بیس اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہوئے اور اس کے باوجود غیر موثر الیکشن کمیشن ماضی کی طرح منصفانہ اور شفاف انتخابات نہ کرا سکا جس کی گونج کے پی کے کے بعد پنجاب اور سندھ میں ہر جگہ سنائی دے رہی ہے اور باقی دو مرحلوں میں بھی دھاندلیوں اور خونریزی کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور پہلے مرحلے کے تجربے کے بعد صرف یہ نظر آ رہا ہے کہ انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنوں پر فوج اور رینجرز تعینات ہو اور باقی عام حلقوں میں دھاندلیوں کا ویسا ہی سلسلہ نظر آئے جو ہر دفعہ ہوتا ہے۔

سندھ سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جن صوبوں میں جس سیاسی جماعت کی حکومت ہو گی وہاں وہی پارٹی کامیاب ہو گی۔ اگر یہ حقیقت ہے تو ضمنی انتخابات میں پنجاب میں (ن) لیگ اور کے پی کے میں تحریک انصاف کے امیدوار کیوں ہارتے سندھ میں پی پی کی حکومت میں اس کا کوئی امیدوار نہیں ہارا۔ اس کی وجہ حکومت کا دھاندلی میں ملوث ہونا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ اپنی اپنی حکومت کے احکامات ماننے پر مجبور اور اپنے نمبر بڑھانے کے لیے حکومتی امیدواروں کو کامیاب کرانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں پولیس اور انتظامیہ ہی نہیں خود حاکم صوبہٰ کی عزیزہ ٹھپے لگاتے ہوئے صاف نظر آئیں اور پنجاب کے وزیروں کے حلقے میں ان ہی کے من پسند امیدوار زیادہ کامیاب ہوئے۔الیکشن کمیشن کے پاس پہلے مرحلے کی دھاندلیوں کی شکایات کے انبار لگ گئے مگر الیکشن کمیشن کی کارروائی کہیں نظر آئی نہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں سے جواب طلبی ہوئی کہ انھوں نے الیکشن کمیشن کے ضابطوں اور ہدایات پر عمل کیوں نہیں کیا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں خود نہیں چاہتیں کہ ملک میں بھارت جیسا بااختیار اور موثر کردار ادا کرنے والا الیکشن کمیشن ہو جو منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے کی طاقت رکھتا ہو۔

الیکشن کمیشن کو خود کو غیر متنازعہ بنانے کے لیے خود بھی کچھ کرنا چاہیے تا کہ اس پر عوام کا اعتماد قائم ہو سکے۔

غیر موثر الیکشن کمیشن سے عوام کا انتخابات سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے اور ہر انتخاب متنازعہ بنا دیا جاتا ہے جس کے لیے حکومتوں کو نہیں خود الیکشن کمیشن کو کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہو گا۔

مقبول خبریں