الیکٹرانک ٹریفک چالان نظام تیار کر لیا گیا اگلے سال رائج ہوگا

شہریوں کوچالان جمع کرانے کیلیے بینکوں کے دھکے کھانے، کاغذات واپس لینے کیلیے ٹریفک پولیس کی منتیں کرنے سے نجات ملے گی۔


Kashif Hussain November 21, 2015
اس نظام کو شہریوں میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کے رجحان جانچنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ فوٹو؛ ایکسپریس

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں کا الیکٹرانک ٹریفک چالان نظام سال 2016کی پہلی سہ ماہی میں کام شروع کردے گا۔

اس نظام کو ٹریفک ٹکٹنگ مینجمنٹ سسٹم ( ٹی ٹی ایم ایس) کا نام دیا گیا ہے، جدید نظام کی بدولت چالان جمع کرانے کے لیے بینکوں کے دھکے کھانے، کاغذات واپس لینے کے لیے ٹریفک پولیس کی منتیں کرنے سے نجات ملے گی۔ چالان کی رقم براہ راست سرکاری خزانے میں جمع ہوگی، ڈرائیوروں کی جانب سے خلاف ورزیوں کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مرتب کیا جاسکے گا، اس نظام کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنیو الے شہریوں کا مکمل کمپیوٹرائزڈ نظام مرتب کرنے کے ساتھ چالان کے وقت ضبط کی جانے والی دستاویزات کی بھی ٹریکنگ ہوسکے گی۔

خلاف ورزی پر جرمانے کے الیکٹرانک ٹکٹ موقع پر ہی مخصوص ڈیوائس کے ذریعے جاری کیے جائیں گے جو کراچی میں6ہزار سے زائد ایزی پیسہ شاپ کے ذریعے جمع کرائے جاسکیں گے، منصوبے کے اگلے مرحلے میں موقع پر ہی ڈیبٹ کارڈز اور ایزی پیسہ موبائل اکائونٹ سے بھی ادائیگی کی جاسکے گی، ٹریفک ٹکٹنگ مینجمنٹ سسٹم ٹیلی نار پاکستان کی الیکٹرانک ادائیگیوں کی سہولت موبائل فون کمپنی ٹیلی نار کی ایزی پیسہ پر مبنی ہے۔

سافٹ ویئر اور تمام کمپیوٹرائزڈ نظام پاکستان کی آئی ٹی کمپنی اے ٹو زی ای پیمنٹس نے تیار کیا ہے جو اس سے قبل 2009میں پشاور کے ٹریفک چالان نظام کو بھی ڈیجیٹلائز کرچکی ہے، ٹیلی نار ایزی پیسہ کے چیف فنانشل سروسز آفیسر یحییٰ خان نے ایکسپریس سے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ ''ٹی ٹی ایم ایس'' پاکستان کا پہلا مربوط ڈیجٹیلائز نظام ہے جس کے ذریعے شہریوں کو ٹریفک چالان جمع کرانے میں آسانی کے ساتھ ٹریفک ڈپارٹمنٹ کو خلاف ورزیوں کا ریکارڈ مرتب کرنے اور چالان کی مد میں وصولیوں کو شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔

نظام ڈی آئی جی ٹریفک ڈاکٹر امیر شیخ کے ذہن کی پیداوار ہے جس کے لیے ٹیلی نار ایزی پیسہ عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے والے پے منٹ سلوشنز فراہم کرے گا، یہ نظام ٹریفک پولیس کی دیٹا بیس سے منسلک ہوگا جہاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا،کراچی میں ٹریفک جرمانوںکو ڈیجیٹلائز بنانے کے لیے شہر کے 86ٹریفک سینٹرز کو دستاویزات کی مینجمنٹ اور جرمانوں کی وصولی کے ایک مرکزی نظام سے منسلک کیا جائے گا جو انٹرنیٹ پر چلنے والی ڈیوائسز اور نیٹ ورک کی مدد سے کام کرے گا۔

اس نظام کے پہلے مرحلے میں دستاویزات کی مینجمنٹ کا کام جاری ہے اب تک 8سے 9 ٹریفک سینٹرز پر ٹریفک چالان کے وقت جمع کرائی جانے والی دستاویزات کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کرنے کا کام مکمل ہوچکا ہے،اس نظام پر آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی سے عمل درآمد ہوگا شہر کے وسیع حصے تک اس نظام کو سال کے وسط تک رائج کردیا جائے گا جبکہ سال کے اختتام پر پورے شہر میں روایتی مینوئل طریقے کے بجائے الیکٹرانک ٹکٹنگ کے نظام کو رائج کردیا جائے گا۔

اس بارے میں اے ٹو زی ای پیمنٹس کے پراجیکٹ منیجر ارشدخان نے بتایا کہ الیکٹرانک ٹکٹنگ کے نظام کے لیے ٹریفک وارڈنز کو خصوصی اسمارٹ دستی مشینیں فراہم کی جائیں گی،خلاف ورزی کی صورت میں ٹریفک وارڈنز اس مشین سے جرمانے کا ٹکٹ جاری کرے گا اور متعلقہ شہری کے موبائل فون پر ایس ایم ایس بھی وصول ہوگا۔

چالان وصول کرنے والے شہری کسی بھی ایزی پیسہ شاپ سے چالان کی رقم ادا کرسکیں گے منصوبے کے اگلے مرحلے میں ڈیبٹ کارڈ یا ایزی پیسہ موبائل اکائونٹ کے ذریعے بھی ادائیگیاں کی جاسکیں گی۔

اس نظام کے ذریعے شہری اپنی دستاویزات کی ٹریکنگ بھی کرسکیں گے،ارشد خان کے مطابق کراچی میں غیرقانونی پارکنگ پر لفٹ کی جانے والی گاڑیوں کا ریکارڈ اور جرمانے کی وصولی بھی اس نظام کا حصہ ہے جس شہری کی گاڑی غیرقانونی پارکنگ پر لفٹ کی جائیگی وہ ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی گاڑی کی لوکیشن معلوم کرسکتا ہے اور الیکٹرانک ٹکٹ کے ذریعے چالان جمع کراکے اپنی گاڑی واپس لے سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے پائلٹ پراجیکٹ کے بہت بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں اور کرپشن کی وجہ سے خزانے میں جمع نہ ہونے والی رقم اب براہ راست حکومتی خزانے میں جمع ہورہی ہے،انھوں نے بتایا کہ ڈی آئی جی ٹریفک امیر شیخ کی ہدایت پر ٹریفک جرمانوں میں ٹریفک وارڈنز کے کمیشن کی رقم بھی براہ راست متعلقہ وارڈن کے اکائونٹ میں جمع کرائے جانے کی سہولت پر کام جاری ہے۔

اس نظام کو شہریوں میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کے رجحان جانچنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا کسی بھی شہری کی جانب سے قوانین کی متواتر خلاف ورزیوں پر جرمانے کی شرح بڑھائی جاسکے گی اسی طرح سنگین خلاف ورزیوں اور قانون کو خاطر میں نہ لانے والے شہریوں کے لائسنس معطل اور منسوخ بھی کیے جاسکیں گے ۔

مقبول خبریں