خلع کے بعد خاتون نے والدین کے ہمراہ جانے سے انکار کردیا
اہل خانہ کی جانب سے زبردستی لے جانے پر عدالت نے پولیس طلب کرلی
خلع حاصل کرنے کے بعد والدین کے ہمراہ جانے سے انکار کرنے پر خاتون کے والدین و دیگر اہل خانہ نے زبردستی اپنے ہمراہ لے جانے کی کوشش کی،لڑکی کی چیخ و پکارسن کرعدالت نے پولیس طلب کرلی اورمکمل تحفظ فراہم کرنے اورمحفوظ مقام تک منتقل کرنے کا حکم دیا۔
تفصیلات کے مطابق شاہ فیصل کالونی کی رہائشی مسمات کنول نے فیملی جج شرقی زبحیہ خٹک کی عدالت میں خلع کا دعوی دائرکیا تھا ، بدھ کو فاضل عدالت نے شوہر سے میٹنگ (پری ٹرائل) کی ناکامی کے بعد خاتون کو خلع جاری کردی تھی،اس موقع پرخاتون کے والدین اوردیگر اہل خانہ کی بڑی تعداد موجود تھی،سماعت کے اختتام کے بعد خاتون نے باہر نکلتے ہی والدین کے ہمراہ جانے سے انکارکردیا،لڑکی کے اہل خانہ نے اسے زبردستی اپنے ہمراہ لے جانے کی کوشش کی توخاتون نے چیخ وپکار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا اور استدعا کی کہ وہ والدین کے ہمراہ نہیں جانا چاہتی وہ اسے زبردستی لے جانا چاہتے ہیں اورقتل کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
جبکہ خاتون کے والدین کا کہنا تھا کہ وہ شوہر سے ناچاقی کے بعد انکے ہمراہ ہی رہتی تھی اور انکے ہمراہ گھر سے آئی ہے تاہم خاتون اپنے والدین کے ہمراہ نہ جانے پر بضد تھی اس صورت حال کو دیکھتے ہی فاضل عدالت نے فوری طور پر تھانہ سٹی کورٹ پولیس کو طلب کیا اور پولیس کو خاتون کو مکمل تحفظ فراہم کرنے اور اسکی مرضی کے مطابق محفوظ مقام تک پہنچانے کا حکم دیا۔