بغیر بازوؤں کی خاتون نے طیارہ اڑا کر عزم و ہمت کی مثال قائم کردی

ایریزونا کی خاتون نے صرف 14 سال کی عمر میں بلیک بیلٹ حاصل کرکے اپنا نام گینز بک آف ورلڈ میں بھی درج کرایا


ویب ڈیسک December 05, 2015
ایریزونا کی خاتون نے صرف 14 سال کی عمر میں بلیک بیلٹ حاصل کرکے اپنا نام گینز بک آف ورلڈ میں بھی درج کرایا۔

کہا جاتا ہے کہ اگر جرات اور حوصلے سے کام لیا جائے تو جسمانی نقائص اور کمزوری بڑے بڑے کارناموں کا راستہ نہیں روک سکتی اور تاریخ رقم ہوجاتی ہے اور ایسا ہی کچھ کیا ایری زونا کی خاتون نے جس نے پیدائش سے ہی اپنے ہاتھ کی محرومی کو اپنے عزم اور ارادوں کے راستے میں حائل نہیں ہونے دیا اور بغیر ہاتھوں کے طیارہ فضا میں بلند کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔

پیدائشی طور پر بازوؤں سے محروم ایریزونا کی جسیکا نامی نوجوان خاتون کو اپنے بچپن سے ہی دیگر معذور بچوں کی طرح کئی مسائل کا سامنا تھا اور لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ کوئی ایسا کارنامہ انجام دے سکیں گی جو لوگوں کے لیے حیرانی کا سبب بنے گا۔ جسیکا نے اپنے بچپن ہی سے اپنی معذوری کو کمزوری نہیں بننے دیا اور جو کچھ ان کے پاس نہیں تھا انہوں نے اس کی محرومی کا غم کیے بغیر اپنے عزم اور منزل پر نظر رکھی اورمسلسل جدوجہد کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا اور صرف 14 سال کی عمر میں بلیک بیلٹ حاصل کرکے اپنا نام گینز بک آف ورلڈ میں درج کروالیا۔



بازوؤں کی محرومی کے بعد جسیکا کھانے، پینے، لباس پہننے سے لے کر ڈرائیونگ تک ہر کام اپنے پاؤں سے کرتی ہیں اور انہوں نے کبھی بھی مصنوعی بازور کا استعمال نہیں کیا لیکن جب انہوں نے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرلیا تو کچھ ہی عرصے میں ان کے ایک پڑوسی کے اس شکایت پر کہ جسیکا کا پاؤں سے ڈرائیونگ کرنا غیر محفوظ ہے ان کا لائسنس منسوخ کردیا گیا۔



ایک سال بعد جسیکا نے فلائنگ لائسنس حاصل کرلیا اور اپنے انسٹریکٹر کو قائل کرلیا کہ وہ اپنے پاؤں سے نہ صرف سڑکوں پر گاڑی دوڑا سکتی ہیں بلکہ بلندیوں میں جہاز بھی اڑا سکتی ہے۔ 3 سال تک مسلسل جدوجہد، لگن اور توجہ سے انہوں نے جہاز کو اڑانا سیکھ لیا اور آخر کار انہیں 2008 میں پائیلٹ کا لائسنس دے دیا گیا اور ان کی اس شاندار کارنامے کی بدولت انہیں پوپ بینیڈکٹ سے ملاقات کا بھی شرف حاصل ہوا۔ یونیورسٹی آف ایریزونا سے نفسیات میں گریجویشن کرنے والی جسیکا اب ترغیبی مقرر کی حیثیت سے دنیا بھر کا سفر کرتی ہیں اور یہ پیغام دیتی ہے کہ عزم جوان ہوتو منزل مل ہی جاتی ہے۔