جانوروں کو ذبح کرنے کیلئے منہ مانگی اجرت طلب

گائے ذبح کرنے کیلیے6سے8ہزار روپے جبکہ بکروںکیلیے3ہزار روپے طلب کیے جارہے ہیں،90فیصد قصابوں نے آرڈر لینا بندکردیے


Kashif Hussain October 26, 2012
گائے ذبح کرنے کیلیے6سے8ہزار روپے جبکہ بکروںکیلیے3ہزار روپے طلب کیے جارہے ہیں،90فیصد قصابوں نے آرڈر لینا بندکردیے فوٹو : فائل

شہر کے قصابوں نے قربانی کے جانور ذبح کرنے کیلیے منہ مانگی اجرت طلب کرکے لوٹ مچادی ہے۔

شہر کے90فیصد قصابوں نے قربانی کے جانور ذبح کرنے کیلیے آرڈر لینا بندکردیے ہیں،موقع سے فائدہ اٹھانے کیلیے موسمی قصابوں نے بھی چھریاں تیز کرلی ہیں، قریشی برادری نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ پیسے بچانے کیلیے اناڑی اور غیرمسلم قصابوں سے ہوشیار رہیں،انجانے قصابوں سے جانور ذبح کروانے سے قبل قصاب کے مسلمان ہونے کی تصدیق کرلیں، ایکسپریس سروے کے مطابق قصابوں کی جانب سے پہلے روز گائے بیل بچھیا کو ذبح کرنے کیلیے 6سے 8ہزار روپے، بکرے اور دنبے کو ذبح کرنے کیلیے2سے3ہزار روپے طلب کیے جارہے ہیں۔

پوش علاقوں کے قصاب گائے بیل بچھیا کی قربانی کے لیے جانور کے وزن اور قیمت کے لحاظ سے اجرت طلب کررہے ہیں، قصابوں کے مطابق دوسرے روز اجرت پہلے روز کے مقابلے میں ایک سے دو ہزار روپے کم ہوگی جبکہ تیسرے روز کی اجرت پہلے روز کے مقابلے میں 40 سے 50فیصد کم لی جائیگی، مختلف علاقوں میں ماہر قصابوں کی خدمات پیشگی بک کرائی جاچکی ہیں، زیادہ تر شہری جان پہچان کے قصابوں سے قربانی کے جانور ذبح کرانے کو ترجیح دیتے ہیں تاہم قصابوں کی جانب سے نوبکنگ کے اعلان کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد پیشہ ور قصابوں کے بجائے موسمی قصابوں کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہوگئی ہے، قصابوں کی قلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موسمی قصابوں نے شہر میں یلغار کردی ہے۔

اندرون ملک سے محنت مزدوری کے لیے شہر آنے والے افراد نے پوش علاقوں کے مصروف چوراہوں اور بازاروں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں اور زیادہ سے زیادہ جانور ذبح کرنے کے لیے آرڈر لینے کے لیے کوشاں ہیں، قصابوں کی قلت کی وجہ سے قصابوں کے مطالبات بھی بڑھ گئے ہیں زیادہ تر قصاب آرڈر بک کرتے وقت ایڈوانس رقم کا تقاضہ کررہے ہیں جبکہ بہت سے قصاب قربانی کا گوشت بالخصوص جانور کی کمر (پُٹھ) کا گوشت لینے کی شرط عائد کررہے ہیں، قربانی کے جانور ذبح کرنے کیلیے کمیلے کے قصابوں کو ترجیح دی جاتی ہے، ان قصابوں کے ریٹ عام قصابوں سے 20سے 30فیصد تک زائد ہیں، قصابوں کی قلت کے پیش نظر گلی محلے کے نوجوانوں نے بھی گروپ تشکیل دیکر چھری بغدے تیار کرلیے ہیں۔

یہ نوجوان ہر سال قربانی کرنے کے بعد کسی حد تک مہارت حاصل کرچکے ہیں، ایسے قصاب پیشہ ور قصابوں کی نسبت 50فیصد کم اجرت پر جانور ذبح کرنے کو تیار ہیں، ادھر قریشی برادری نے عوام کو ہوشیار کیا ہے کہ قربانی کے جانور ذبح کراتے وقت اناڑی قصابوں سے اجتناب کریں، اناڑی قصاب گوشت کے غلط پارچے بنانے اور ہڈیوں کا چورا کرنے میں ماہر ہوتے ہیں جس سے گوشت میں ہڈی کی کرچیاں شامل ہوکر گوشت کھانے والوںکیلیے تکلیف کا سبب بنتا ہے یہی نہیں بلکہ اناڑی قصاب قربانی کے جانوروں کی قیمتی کھال کی بھی درگت بنانے میں ماہر ہوتے ہیں جس سے مستحق افراد کیلیے دی جانیوالی کھالیں بھی بے قیمت ہوجاتی ہیں، اناڑی قصابوں کے ساتھ ہر سال غیرمسلم کمیونٹی بھی سرگرم ہوجاتی ہے جس سے بچنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں