اسٹیٹ بینک نے3104ارب کے ٹیکس ہدف کو دشوار قرار دیدیا

2014-15کے لیے ٹیکس وصولیوں میں 30فیصد نمو کا ہدف رکھا گیا تاہم سال میں اصل شرخ نمو 17.7 فیصد تک محدود رہی،اسٹیٹ بینک


Business Reporter/Kashif Hussain December 12, 2015
اسٹیٹ بینک کے مطابق محاصل بڑھانے کے عارضی اقدامات سے یہ مسائل حل نہیں کیے جاسکتے۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ٹیکس نظام کی ساختی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ملک میں ٹیکس کلچر کے فروغ کے لیے کوئی تاخیر کیے بغیر بھرپور قومی مہم چلانے کی سفارش کردی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی سالانہ جائزہ رپورٹ برائے سال 2014-15کے مطابق ٹیکس بڑھانے کے کئی اقدامات کے باوجود ایف بی آر 2014-15میں ٹیکس اہداف حاصل نہ کرسکا جبکہ مالی سال 2015-16کے لیے بھی 3104ارب روپے کا ہدف دشوار ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2014-15کے لیے ٹیکس وصولیوں میں 30فیصد نمو کا ہدف رکھا گیا تاہم سال میں اصل شرخ نمو 17.7 فیصد تک محدود رہی، کمی کی وجوہ میں ٹیکس نفاذ کے مستقل مسائل، تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے سیلز ٹیکس وصولیوں میں کمی اور مینوفیکچرنگ کی پست سرگرمی شامل ہیں، مالی سال 2014-15کے لیے ایف بی آر ٹیکس محاصل کا ہدف 2810ارب روپے تھا جسے کم کرکے 2588.2 ارب روپے اور بعد ازاں 2605ارب روپے کیا گیا تاہم ایف بی آر یہ ہدف بھی حاصل نہ کرسکا۔

ایف بی آر ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے ہر سال کئی اقدامات کرتا ہے تاہم یہ اپنی کارکردگی بہتر نہ بناسکا، ٹیکس نظام میں ساختی خامیوں کی وجہ سے ایف بی آر ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب گزشتہ ایک دہائی سے 8.5فیصد سے 9.5فیصد کے درمیان منجمدہے، ایف بی آر کی کارکردگی کا بہتر نہ ہونا اور ٹیکس نظام کی ساختی خامیاں ایک دہائی سے ٹیکسوں کے جی ڈی پی کے تناسب میں جمود کا سبب بنی ہوئی ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ٹیکس محاصل میں کمی معاشی نمو کو نقصان پہنچاتی ہے، محاصل میں کمی ترقیاتی اخراجات میں کمی کا سبب بن رہی ہے، حکومت نے مالی سال 2018تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 11.3فیصد کی سطح تک لانے کا ہدف مقرر کیا ہے تاہم اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ساختی خامیوں کا دور کرنا بہت ضروری ہے۔

ٹیکس وصولی میں سست روی کی وجوہ کی نشاندہی کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے غیر رسمی معیشت اور دستاویزی فقدان، معاشرے میں ٹیکس چوری کا رجحان اور کوئی پکڑ نہ ہونا، رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کے نظام کی پیچیدگی، ٹیکس اکھٹا کرنے کے اختیار میں انتظامی مسائل اور صوبوں کے سرپلس میں کمی کو اہم کمزوریاں قرار دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق محاصل بڑھانے کے عارضی اقدامات سے یہ مسائل حل نہیں کیے جاسکتے۔

اس کے لیے ٹیکسیشن کی ایک قومی مہم کی ضرورت ہو گی جس میں معاشرے کے تمام طبقات کو شریک کرنا ہوگا، اس قسم کی بھرپور مہم شروع کرنے میں مزید تاخیر معیشت کا پہیہ چلانے میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ایف بی آر نے نادرا کے ڈیٹا بیس اور دیگر معلومات کے ذریعے شناخت کیے گئے ممکنہ ٹیکس گزاروں کو نوٹس جاری کرنا شروع کردیے ہیں۔

اگر یہ مہم کامیاب رہی تو انکم ٹیکس کی مد میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے نیشنل ٹیکس نمبر رکھنے والے 36لاکھ افراد کے موجودہ ڈیٹا بیس کو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے ڈیٹا بیس میں ضم کیے جانے سے 15 کروڑ افرادکے بارے میں معلومات حاصل ہوں گی۔

مقبول خبریں