حادثے کا شکار ہونیوالے دوست گوشت بانٹنے گئے تھے

نعمان گوشت تقسیم کرنے کے لیے مقبول کو بھی ساتھ لے گیا تھا ، بھائی سلمان


Staff Reporter October 31, 2012
مقبول شمروز نے اپنی تعلیم چھوڑ کر گھر کی کفالت شروع کردی تھی ،رشتے دار فوٹو : فائل

عیدالاضحی کے تیسرے روز ناتھاخاں پل کے قریب ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے دوستوں کو سپرد خاک کر دیا گیا ۔

متوفین قربانی کا گوشت بانٹنے گئے تھے کہ حادثے کا شکار ہوگئے، تفصیلات کے مطابق عید الاضحی کے تیسرے روز پیر کو ایئر پورٹ سے میٹرو پول آتے ہوئے شارع فیصل ناتھا خان پل پر ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے 22 سالہ نعمان شفیق اور 14سالہ مقبول شمروز کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ گذری قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

متوفی نعمان کے بڑے بھائی سلمان شفیق نے ایکسپریس کو بتایا کہ نعمان قربانی سے فارغ ہونے کے بعد گوشت تقسیم کرنے کے لیے مقبول کو بھی اپنے ہمراہ لے گیا تھا کہ ملیر سے موٹر سائیکل پر واپس آرہے تھے کہ ناتھا خان پل پر ٹریفک حادثہ پیش آ گیا، متوفی کے بھائی کا کہنا تھا کہ نعمان کا بھائیوں میں دوسرا نمبر تھا اور لیڈیز ٹیلر کی دکان پر کام کرتا تھا،جاں بحق ہونے والے 14سالہ مقبول شمروز کے ایک عزیز نے ایکسپریس کو بتایا کہ شمروز 6 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا اور دہلی کالونی میں سینیٹری کی دکان پر کام کر کے گھر کی کفالت کرتا تھا.

انھوں نے بتایا کہ مقبول نے تعلیم چھوڑ کر گھر کی کفالت شروع کردی تھی،حادثے کے روز مقبول کی ماں اسے کھانا کھانے کے لیے روکتی رہیں لیکن وہ نہیں رکا اور جاتے جاتے ماں کو بریانی کھانے کی فرمائش کرکے گیا تھا ، متوفی نعمان شفیق اور مقبول شمروز کی نماز جنازہ دہلی کالونی میں جبکہ تدفین گزری قبرستان میں کی گئی، جاں بحق نوجوانوں کے ورثا نے واقعے کے اصل ذمے دار وںکو گرفتار کر کے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے ، دوسری جانب شاہراہ فیصل پولیس نے روایتی انداز میں تحقیقات کاآغاز کرتے ہوئے ٹریفک حادثے کی ذمے دار کراچی سے ٹھٹہ جانے والی اے سی مسافر کوچ P-9912 کے کنڈ یکٹر رحیم کو حراست میں لے کر مسافر کوچ کو قبضے میں لے لیا ہے جبکہ موقع پر سے فرار ہونے والے کوچ کے ڈرائیور کو تلاش کیا جارہا ہے،ایس ایچ اوشاہراہ فیصل انسپکٹر بشیر خان بتایا کہ واقعے کا مقدمہ ابھی درج نہیں کیا گیا۔