سانحہ بلدیہ اطالوی کمپنی نے فیکٹریوں کا بغیر اطلاع معائنہ شروع کر دیا

عالمی کمپنی کی ٹیم نےعلی انٹرپرائززکامعائنہ کرکےفیکٹری کومحفوظ قراردیا تھا،اطالوی کمپنی نےپاکستان میںخدمات معطل کردیں.


Kashif Hussain October 31, 2012
کمپنی ملک بھر میں مزید 100کمپنیوں کومحفوظ قرار دے چکی،محفوظ قراردی گئیں فیکٹریوں میں ورکرز کی سلامتی کے اقدامات مشکوک فوٹو: فائل

علی انٹرپرائزز کا آڈٹ کرنیو الی اطالوی کمپنی پاکستان میں مزید100کمپنیوں کو محفوظ قرار دے چکی ہے۔

سانحہ بلدیہ ٹائون کے بعد محفوظ قرار پانے والی دیگر فیکٹریوں میں بھی ورکرز کی سلامتی کے اقدامات مشکوک ہوگئے ہیں،آڈٹ کرنے والی اطالوی کمپنی نے واقعے کے بعد پاکستان میں خدمات معطل کرکے محفوظ قرار دی گئی فیکٹریوں کا بغیر اطلاع اچانک معائنہ شروع کردیا ہے، تفصیلات کے مطابق صنعتی ورکرز کی سلامتی کو یقینی بنانے والی عالمی سرٹیفکیشن SA8000 کے اجرا کے لیے اطالوی کمپنی نے پاکستان میں 100کمپنیوں کے آڈٹ کیے ہیں، علی انٹرپرائز میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ناکافی انتظامات اور ہنگامی اخراج کے راستے مسدود ہونے سے قیمتی جانی نقصان کے بعد ان 100کمپنیوں میںورکرز کی سلامتی کے اقدامات بھی مشکوک ہوچکے ہیں۔

سوشل اکائونٹبلیٹی انٹرنیشنل نامی کمپنی کے لیے آڈیٹنگ کی خدمات انجام دینے والی اطالوی کمپنی ''RINA'' نے دنیا میں 540 کمپنیوں کو SA8000 سرٹیفکیشن جاری کی ہے جس میں 100پاکستانی کمپنیاں شامل ہیں، پاکستان میں عالمی صنعتی تاریخ کے بدترین آتشزدگی کے واقعے کے بعد اطالوی کمپنی نے پاکستان میں اپنی خدمات معطل کردی ہیں، اطالوی کمپنی نے آتشزدگی کے واقعے کے بعدپاکستان میں خصوصی تحقیقات شروع کردی ہیں اور سرٹیفکیشن حاصل کرنے والی کمپنیوں میں بغیر اطلاع اچانک معائنے کی مہم شروع کردی ہے جس میں ورکرز کی سلامتی کے لیے اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیا جارہا ہے.

آڈٹ کرنے والی اطالوی کمپنی RINA کے مطابق علی انٹرپرائز کا آڈٹ 22 جون 2012 کو شروع کیا گیا اور 5جولائی تک جاری رہنے والے آڈٹ میں 10افراد کی ٹیم نے ماہرین کی نگرانی میں علی انٹرپرائز میں ورکرز کی سلامتی کے لیے کیے گئے اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ،اس جائزے کی روشنی میں 20اگست 2012کو علی انٹرپرائزز کے لیے SA8000سرٹیفکیشن جاری کی گئی، اطالوی کمپنی کی آڈٹ رپورٹ میں علی انٹرپرائزز میں ورکرز کی سلامتی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کو اطمینان بخش اور سرٹیفکیشن کے تقاضوں کے عین مطابق قرار دیا گیا اطالوی کمپنی نے اپنی رپورٹ میں آگ بجھانے کے آلات، ریت سے بھری بالٹیوں کی وافر تعداد کی موجودگی ظاہر کی، اسی طرح آگ بجھانے کے آلات کی آسان رسائی اور نمایاں مقامات پر تنصیب بھی آڈٹ رپورٹ میں درج کی گئی.

اطالوی آڈیٹنگ کمپنی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ فیکٹری میں ہنگامی اخراج کے راستے موجود ہیں اور ان راستوں پر کوئی رکاوٹ نہیں پائی گئی اسی طرح آگ بجھانے کے آلات تک بھی بلارکاوٹ رسائی کا ذکر کیا گیا اسی طرح فیکٹری میں ورکرز کی موجودگی کے دوران معمول کے راستوں کے ساتھ ہنگامی اخراج کے راستے بھی کھلے رہنے کی رپورٹ درج کی گئی، اطالوی کمپنی نے اپنی آڈٹ رپورٹ میں کہا کہ علی انٹرپرائزز میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ورکرز کو تربیت دی جاتی ہے اور اس حوالے سے ہنگامی صورتحال بالخصوص آتشزدگی سے نمٹنے اور جان بچانے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ مشقیں بھی کرائی جاتی ہیں.

سانحہ بلدیہ ٹائون کے بعد علی انٹرپرائزز کی عالمی سرٹیفکیشن کے بارے میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں، کیا آڈیٹرز کی جیب گرم کرکے سرٹیفکیٹ حاصل کیا گیا،متاثرہ فیکٹری کے بجائے کسی دوسری فیکٹری کا معائنہ کرایا گیا یا آڈٹ کے لیے نمائشی انتظامات سرٹیفکیٹ کے حصول کے بعد ختم کردیے گئے؟ آڈٹ کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کمپنی کے معائنے کے موقع پر لی گئی تصاویر کا ریکارڈ موجود ہے جس میں ہنگامی حالت میں ریسکیو اور اخراج کے مناسب انتظامات ظاہر ہیں۔

مقبول خبریں