تھیلیسیمیا بیماری والدین سے بچوں میں منتقل ہورہی ہے ماہرین

پاکستان میں یہ بیماری تقریباً 6فیصد آبادی میں بطور تھیلیسیمیا مائنر پائی جاتی ہے


Staff Reporter November 01, 2012
پاکستا ن میں ہر سال ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا مائنر کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ فوٹو : فائل

تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو کہ والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔

پاکستان میں یہ بیماری تقریباً 6فیصد آبادی میں بطور تھیلیسیمیا مائنر پائی جاتی ہے، پاکستا ن میں ہر سال ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا مائنر کی وجہ سے مر جاتے ہیں، اس بیماری کا کوئی علاج نہیں، اس سے بچائو ہی واحد ذریعہ ہے جو کہ آگاہی سے مکمن ہے، ان خیالات کا اظہار ماہرین نے ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈائو میڈیکل کالج میں منعقدہ تین روزہ تھیلیسیمیا کی بیماری پر آگاہی پروگرام اور تھیلیسیمیا اسکریننگ کیمپ میں کیا، اس کیمپ کا مقصد طلبہ و طالبات میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی دینا اور اسکریننگ کرنا تھا، آگاہی پروگرام سے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر مسعود حمید ، ڈاکٹر طاہر شمسی، ڈاکٹر ساقب انصاری اور ڈاکٹر اکبر آغا نے کہا کہ تھیلیسیمیا خون کی ایک ایسی بیماری ہے جو نسل در نسل بچوں میں منتقل ہوتی ہے، یہ پاکستان کی عام موروثی بیماری ہے۔

انھوں نے کہاکہ ایک اندازے کے مطابق سندھ میں 80 فیصد افراد کو اس بیماری کے بارے میں معلومات نہیں ہیں،80 فیصد اس بیماری کے اخراجات نہیں اٹھاسکتے،5 فیصد تھیلیسیمیا کے مریض خون کے منتقلی کے مراحل میں ہیں اور 80 فیصد افراد اس بیماری میں ایرن کے مقدار سے مرجاتے ہیں، انھوں نے کہا کہ تھیلیسیمیا کی دونوں اقسام موروثی ہیں اور صرف والدین سے ہی بچوں میں منتقل ہوتی ہے، انھوں نے مزید بتایا کہ اگر والدین میں سے صرف ایک کو تھیلیسیمیا مائنر ہو تو بیماری کی بچوں کی منتقلی کا امکان ہے اور یہ چانس ہر حمل میں 50 فیصد ہے ایسی شادی کے نتیجے میں بچوں کو تھیلیسیمیا میجر نہیں ہوسکتا۔