ٹرانسپورٹ کے غیر قانونی اڈے ختم کرائے جائیں اسلم خان

منسوخ اجازت ناموں کی بحالی موٹر وہیکل آرڈیننس کی خلاف ورزی اور توہین عدالت ہے.


Numainda Express November 01, 2012
منسوخ اجازت ناموں کی بحالی موٹر وہیکل آرڈیننس کی خلاف ورزی اور توہین عدالت ہے. فوٹو: فائل

چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ٹرانسپورٹ سب کمیٹی کے چیئرمین اسلم خان نے کہا کہ لطیف آباد کے رہائشی علاقوں میں پبلک و پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کے غیر قانونی اڈوںسے ٹریفک کی روانی میں خلل پڑنے کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیکریٹری آر ٹی اے بشیر میر جت نے 13ستمبر 2012 اور بعد ازاں نئے سیکریٹری آر ٹی اے ضمیر حسین بروہی نے بھی 3 اکتوبر کو اپنے احکامات میں یونٹ نمبر پونے 7، یونٹ نمبر 7 اور لطیف آباد نمبر 2 میں قائم پبلک و پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کے غیر قانونی اڈوں کے اجازت نامے منسوخ کر دیے، جبکہ ایس ایس پی حیدرآباد نے عدالت عالیہ سندھ کو تحریری طور پر بتایاکہ لطیف آباد نمبر 7 سے ٹرانسپورٹ اسٹینڈ و اسٹاپ ختم کر دیے گئے ہیں، لیکن اب نئے سیکریٹری آر ٹی اے حیدرآباد نے کینسل شدہ اجازت نامے بحال کر کے موٹر وہیکل آرڈیننس 1969 اور رول نمبر 96 کی سنگین خلاف ورزی کی اور توہین عدالت کے مرتکب ہو ئے ہیں۔

کیونکہ ایک آئینی درخواست میں سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد بینچ نے واضح احکامات دیے ہیں کہ حیدرآباد سے دوسرے شہروں کو جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ شہر میں داخل نہیں ہو سکتی۔ اسلم خان نے گورنر، وزیر اعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سے اپیل کی کہ شہریوں کے بہتر مفاد میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد کراتے ہوئے لطیف آباد میں قائم غیر قانونی پبلک و پرائیویٹ اسٹاپ و اسٹینڈ فوری طور پر ختم کیے جائیں۔