سی آئی ڈی سول لائن پر مجسٹریٹ کا چھاپہ پولیس افسر کی جج سے بدتمیزی

فاضل جج کو گیٹ پر روک دیا گیا،10منٹ کے بعد پولیس افسر آصف عثمان آیا اسی اثنا میں شہری کو غائب کردیا گیا


Staff Reporter November 01, 2012
ڈی ایس پی مظہر مشوانی کے تعاون سے سول لائن گیٹ کھولاگیا،فاضل جج کی رپورٹ پر پولیس افسر کو شوکاز نوٹس جاری

سیشن جج کے حکم پر شہری کی بازیابی کیلیے جوڈیشل مجسٹریٹ کاسی آئی ڈی سول لائن سینٹر پر چھاپہ جوڈیشل مجسٹریٹ کو گیٹ پر روک دیا گیا تھا۔

پولیس افسر نے فاضل جج سے بدتمیزی کی، ڈی ایس پی مظہر مشوانی کے تعاون سے سی آئی ڈی سول لائن کا گیٹ کھولاگیا،ا سی اثنا مغوی کو غائب کردیا گیا سیشن جج نے فاضل جج کی رپورٹ پر پولیس افسر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا اور ڈی ایس پی سے پولیس افسر آصف عثمان کی مکمل رپورٹ طلب کرلی ہے، تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی احمد صبا نے رکن الدین کی درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی عبدالقادر کو مذکورہ سی آئی دی سینٹر سول لائن میں چھاپہ مارنے اور شہری کی بازیابی کا حکم دیا تھا سیشن جج کے حکم پر فاضل جج نے سول لائن میں چھاپہ مارا اس موقع گیٹ پر تعینات پولیس اہلکار نے انھیں گیٹ پر روک دیا اور دس منٹ کے انتظار کے بعد سی آئی ڈی پولیس افسر آصف عثمان گیٹ پر آیا اور فاضل جج سے بدتمیزی کی بعدازاں ڈی ایس پی مظہرمشوانی کو مطلع کیا گیا جنھوں نے فاضل جج سے تعاون کیا اور اندر لے گئے۔

اسی اثنا میں سی آئی ڈی پولیس نے شہری کو غائب کردیا، فاضل جج نے شہری کی عدم بازیابی اور پولیس کے مذکورہ رویے کی تحریری رپورٹ سیشن جج کودی جس پر فاضل عدالت نے پولیس افسر کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور5نومبر کو جواب طلب کرلیا ، فاضل عدالت نے ڈی ایس پی سے پولیس افسر کی محکمانہ کارکردگی اور محکمے میں اسکے رویے سے متعلق مکمل رپورٹ بھی طلب کی ہے، قبل ازیں درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 491کے تحت حبس بے جا کی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ 19اکتوبر کو اس کے بھائی محمد علی کو اہل محلہ کی موجودگی میں سی آئی ڈی کے انسپکٹر یعقوب نے زبردستی گھر سے حراست میں لیکر سی آئی ڈی سول لائن سینٹر میں قید کردیا، اس کیخلاف کوئی مقدمہ نہیںاسے کسی بھی عدالت میں پیش کیا اور نہ ہی رہا کیا،درخواست میں مغوی کی بازیابی کی استدعا کی تھی۔