صوبائی خودمختاری یا بااختیار مملکت
سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی غیر جانبدار رہنے کی بجائے آجکل ’جیالے‘ بنے ہوئے ہیں،
سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی غیر جانبدار رہنے کی بجائے آجکل 'جیالے' بنے ہوئے ہیں، انھوں نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد صوبوں کو آئین کے مطابق خودمختاری نہیں دے رہی اور صوبوں کو تعلیم اور صحت کے محکمے مکمل طور پر حوالے نہیں کیے جا رہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے پی پی حکومت میں صوبوں کو خود مختاری دلانے کے لیے میاں رضا ربانی نے جو اہم کردار ادا کیا تھا، اس پر پی پی کے اہم رہنما اور اس وقت کے گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے کڑی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ترامیم کمیٹی کی سربراہی کر کے میاں رضا ربانی نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔
اٹھارہویں ترمیم کے وقت پیپلز پارٹی اور اے این پی قیادت بڑی پیش پیش تھیں اور مسلم لیگ (ن) بھی ان کی حمایت اس لیے کر رہی تھی کہ وفاق میں پی پی حکمران تھی اور (ن) لیگ کی پنجاب میں ایسی مضبوط حکومت نہیں تھی، جیسی اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب ہے۔ پی پی قیادت کو تو پتہ چل چکا تھا کہ وہ 2013ء کے الیکشن میں دوبارہ جیت نہیں سکے گی۔ اس لیے ان کی خواہش تھی کہ انھیں سندھ کا ہی اختیار مل جائے جو انھیں توقع کے مطابق مل گیا۔ غیر تحریری معاہدے کے تحت (ن) لیگ اور پی پی نے ایک دوسرے کو باری مکمل کرانا تھی، جو پہلے (ن) لیگ نے کرائی اور چند ماہ قبل تک پی پی بھی اپنا وعدہ نبھا رہی تھی اور دھرنے میں اسے (ن) لیگ حکومت کو نہیں بلکہ اپنے بقول جمہوریت کو بچایا۔
سابق صدر آصف زرداری کے قابل اعتماد ساتھی ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری نے صورتحال تبدیل کر دی اور وزیر اعظم مجبوری میں ان کی مدد نہ کر سکے اور سندھ میں رینجرز، ایف آئی اے اور نیب نے جب دہشتگردوں اور بدعنوانوں پر ہاتھ ڈالنا شروع کیا تو پی پی اور سندھ حکومت بلبلا اٹھی۔ متحدہ کے خلاف رینجرز کارروائی پر خوش ہونے والی پیپلز پارٹی نے اپنے رہنماؤں کے خلاف کارروائی پر احتجاج شروع کر دیا اور سندھ حکومت ڈاکٹر عاصم کو بچانے کے لیے کھل کر میدان میں آ گئی۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ اور رہنماؤں نے گرفتار پی پی رہنماؤں سے جیل میں جا کر ملاقاتیں کیں، انھیں سہولتیں دلائیں۔ ڈاکٹر عاصم کے خلاف رینجرز کی کارروائی پر سندھ حکومت انتہا پر چلی گئی اور رینجرز کے اختیارات سندھ اسمبلی سے اپنی مرضی کے مطابق ایک منٹ میں منظور کرا لیے، جسے وفاق نے تسلیم نہ کیا اور دیگر ذرائع استعمال کرنے کا آپشن دیا تو سندھ حکومت نے نیا مشیر اطلاعات مقرر کر کے جارحانہ بیانات وفاقی حکومت کے خلاف شروع کرا دیے اور رینجرز کے اختیارات نہ بڑھانے پر ڈٹ کر سندھ کی خودمختاری میں وفاق کی مداخلت کے الزام لگانا شروع کر دیے۔
پی پی کی 5 سال مدت پوری کرنے والی وفاقی حکومت میں پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ اور دیگر غیر آئینی اور انتقامی کارروائیوں پر خاموش تماشائی بنے رہنے والے سینیٹر میاں رضا ربانی نے آنسو بہائے نہ اصول پرستی کے دعویدار چوہدری اعتزاز احسن کچھ بولے۔ تمام سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت سے بلامقابلہ منتخب ہونے والے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کو اپنی غیر جانبداری اصولی طور پر برقرار رکھ کر حکومت اور پی پی کے درمیان مفاہمت کی کوشش کرنا تھی مگر وہ بھی جیالے بن گئے اور ان کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں پی آئی اے نجکاری کے معاملے پر حکومتی آرڈیننس کی مخالفت میں قرارداد جلدی میں منظور کرا لی گئی، جس پر وفاقی حکومت کی جگ ہنسائی ہوئی اور وہ برہم بھی ہوئی۔
سندھ میں رینجرز اختیارات محدود کرانے پر سندھ اسمبلی میں موجود تمام پارلیمانی جماعتوں اور اسمبلی سے باہر کی تمام پارٹیوں نے مخالفت کی مگر پی پی اڑی رہی اور وفاق کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان پر کامیابی سے عمل کرانیوالے حساس اداروں کو بھی ناراض کر دیا اور ایک ڈاکٹر عاصم کو بچانے کے لیے سندھ حکومت نے وہ کچھ کر دکھایا جس کی توقع خود مختار صوبائی حکومت سے نہیں بلکہ مکمل با اختیار مملکت سے ہی کی جا سکتی ہے۔سندھ حکومت کراچی سے نہیں دبئی سے چلائی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ، وزراء اور اعلیٰ افسران دبئی جا کر احکامات حاصل کر رہے ہیں۔ نیب، ایف آئی اے اور رینجرز کے انجانے خوف سے خود سابق صدر سمیت دیگر پی پی رہنما اور حکومت کے ایما پر سنگین کرپشن میں ملوث اعلیٰ افسران بیرون ملک پناہ لیے بیٹھے ہیں اور سندھ حکومت اور پی پی کی پوری کوشش ہے کہ وفاقی حکومت کو سندھ میں گورنر راج لگانے پر مجبور کر دیا جائے تا کہ وہ مظلوم بن جائیں اور وفاقی حکومت اور حساس اداروں پر الزام تراشیوں کا موقعہ ہاتھ آ سکے اور ان کی سیاسی ساکھ سندھ ہی میں بچ جائے۔
تمام محکموں میں کرپشن کے ریکارڈ قائم ہونے کے بعد اب سندھ حکومت نے مذہبی فریضے زکوٰۃ کی وصولی بھی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور وفاق سے کہہ دیا گیا ہے کہ سندھ میں زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم اب سندھ حکومت خود کرے گی۔
سندھ حکومت کے تیوروں سے اب یہ لگ رہا ہے کہ صوبے کے مجموعی مفاد میں نہیں بلکہ صرف ایک شخص کے مفاد اور اسے بچانے کے لیے اب وہ وفاق اور وفاقی اداروں سے ٹکرانا چاہتی ہے خواہ وفاقی حکومت انتہائی اقدام پر مجبور ہو جائے۔
سندھ کے جذبات میں جلد آ جانے اور حقائق کے برعکس میڈیا ٹاک کرنیوالے نئے مشیر اطلاعات نے کہا ہے کہ سندھ حکومت آئین پر عمل کی بات کرتی ہے اور وفاق کے خلاف بغاوت نہیں کر رہی جب کہ وفاق سندھ سے زیادتی کر رہا ہے اور یکطرفہ کارروائی ہو رہی ہے جس کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
صرف رینجرز کے اختیارات کے معمولی مسئلے پر سندھ حکومت اب وفاق سے ٹکراؤ کی خواہاں ہے جب کہ کے پی کے حکومت نے اس سلسلے عقلمندی کا مظاہرہ کیا ہے جس کا وفاقی حکومت سے اقتصادی راہداری کے اہم مسئلے پر شدید اختلاف ہے مگر پہلے انھوں نے اپنے صوبے کی سیاسی پارٹیوں کو اپنے موقف پر رضامند کیا اور اب وہ سب مل کر وفاق سے اپنا موقف منوائیں گے جو اصولی فیصلہ ہے جب کہ کے پی کے کے برعکس سندھ حکومت رینجرز سے متعلق اپنے موقف پر بالکل تنہا ہے جب کہ سندھ کی ساری اپوزیشن رینجرز کو اختیار دینے کی حامی اور حکومتی موقف کے خلاف ہے اور سندھ میں پی پی کے سوا کوئی سندھ حکومت سے خوش نہیں ہے۔
صوبائی خودمختاری کا یہ مقصد نہیں ہے کہ کوئی صوبے کو اپنی من مانی سے چلائے، گڈ گورننس تباہ کرے، میرٹ کا جنازہ نکال دے۔ عدالت عظمیٰ کے احکامات کے برعکس من مانے افسروں کو اہم عہدوں پر تعینات اور ہر محکمے میں کرپشن، اقربا پروری اور لاقانونیت عام کر دے اور وفاق خاموش تماشائی بنا سندھ لٹتا دیکھتا رہے۔ حساس اداروں کو کام نہ کرنے دیا جائے تو ایسا تو صرف خود مختار مملکت میں ممکن ہو سکتا ہے جب کہ سندھ کو صوبائی خودمختاری ملی ہے مکمل آزادی نہیں۔