سیکیورٹی ایجنسیوں کی مدد سے چربہ سازی روکیں گے سجاد بھٹہ

جعلسازوں کیخلاف کارروائی کیلیے انفورسمنٹ اداروں کی استعداد میں اضافہ کیا جائے.


Khususi Reporter November 02, 2012
آئی پی رائٹس چوروں کو سزا کیلیے روڈ میپ بنا رہے ہیں، ڈی جی ادارہ تحفظ حقوق دانش. فوٹو: رائٹرز

ادارہ برائے تحفظ حقوق دانش پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل سجاد احمد بھٹہ نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے پاکستان میں چربہ سازی کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے گا جس سے اندرونی و بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گااور ملک میں سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔

وہ جمعرات کو آئی پی او ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں اجلاس کی صدارت کررہے تھے جس میں پولیس، کسٹمز، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کے افسران کے علاوہ انسداد چربہ سازی کے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سجاد احمد بھٹہ نے کہا کہ پاکستان میں چربہ سازی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کا عمل بری طرح متاثر ہورہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متعلقہ حکام کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے اور انہیں ضروری سہولتوں سے لیس کیا جائے تاکہ وہ زمینی، سمندری اور فضائی راستوں سے قانونی طور پر ممنوع قرار دی گئی مصنوعات کی درآمد روک سکیں اور ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لاسکیں جو چربہ سازی کے ذریعے رجسٹرڈ برانڈز کی نقول تیار کرکے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کیلیے بھی مسائل کا باعث بن رہے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل آئی پی او نے کہا کہ یورپی یونین اور ڈبلیو آئی پی اوکے تعاون سے اب تک انفورسمنٹ اداروں کے افسران کیلیے متعدد تربیتی کورسز منعقد کرائے جاچکے ہیں اور انفورسمنٹ ایجنسیوںکو فعال کرکے متحرک کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ قومی سطح پر جامع منصوبہ بندی کے ذریعے ایک ایساروڈ میپ تیار کیا جارہا ہے جس کے ذریعے آئی پی رائٹس کی خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جاسکے گی۔ اجلاس میں شریک انفورسمنٹ اداروں کے حکام نے چربہ سازی کی روک تھام کیلیے انتظامات سے آگاہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی معیشت کو چربہ سازی کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان سے بچانے کیلیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اوراس حوالے سے انفورسمنٹ کیلیے جدید تقاضوں کے مطابق طرز عمل اختیار کیا جائیگا۔ اجلاس میںقانون سازی کے علاوہ انفورسمنٹ اداروں کا کردار مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

مقبول خبریں