صرف ایک فیصد طبقہ آدھی دنیا کے پاس موجود پیسے کے برابر دولت پر قابض ہے رپورٹ

2011 تک اتنی دولت کے مالک 388 لوگ تھے لیکن 2011 کے اختتام تک یہ تعداد کم ہوکر 177 رہ گئی جو اب 62 ہے، رپورٹ


ویب ڈیسک January 18, 2016
2011 تک اتنی دولت کے مالک 388 لوگ تھے لیکن 2011 کے اختتام تک یہ تعداد کم ہوکر 177 رہ گئی جو اب 62 ہے، رپورٹ، فوٹو؛ فائل

کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے اسی لیے ہر گرزتا لمحہ اور ماہ و سال امیر لوگوں کو امیر ترین اور غریب لوگوں کو غریب بنا رہی ہے بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر کی دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی چلی جا رہی ہے اسی لیے ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کے 62 امیر ترین لوگوں کے پاس دنیا کی کل آبادی کے نصف غریب لوگوں کی دولت کے برابر دولت جمع ہے اس طرح امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے۔

عالمی فلاحی تنظیم آکسفام کی جانب سے کی گئی تازہ تحقیق نے لوگوں کے ہوش اڑا دیے ہیں اور یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ دولت تیزی سے چند ہاتھوں میں مرتکز ہو کر غربت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ آکسفام کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے 62 امیر ترین لوگ اتنی دولت پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں جتنی دولت باقی دنیا کی نصف آبادی کے پاس ہے۔ تحقیق کے مطابق گزشتہ 5 سالوں میں دنیا بھر کی نصف آبادی کے 3 ارب 60 کروڑ غریب ترین لوگوں کی دولت میں 41 فیصد کمی ہوئی جسے اگر پیسوں میں دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ غریبوں کی دولت میں ایک کھرب امریکی ڈالر کی کمی ہوئی جب کہ 62 امیروں کا یہ گروپ مزید امیر ہوگیا اور ان افراد کی دولت میں نصف کھرب امریکی ڈالر کا اضافہ ہوا جس سے ان کی دولت ایک کھرب 76 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2011 تک اتنی دولت کے مالک 388 لوگ تھے لیکن 2011 کے اختتام تک یہ تعداد کم ہوکر 177 رہ گئی تاہم دولت کے یوں تیزی سے مرتکز ہونے کا عمل یہیں نہیں رکا بلکہ 2014 تک پہنچتے پہنچتے یہ تعداد صرف 80 رہ گئی اور امیر غریب کے درمیان وسیع ہوتی یہ خلیج 2015 تک پہنچتے پہنچتے ساری حدیں پار کر گئی اور اس وقت یہ دولت صرف 62 لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آکسفام نے یہ رپورٹ اس وقت جاری کی ہے جب دنیا بھر کے امیر لوگوں یعنی ورلڈ اکنامک فورم کی کانفرنس ڈیوس میں ہونے جا رہی ہے۔ آکسفان کے چیف ایگزیکٹو مارک گولڈ کا کہنا ہے کہ دولت کی تقسیم کی عدم مساوات کا بڑھنا انتہائی خطرناک اور یہ ناقابل قبول ہے اور اسے کہیں نہ کہیں تو روکنا ہوگا لیکن عالمی سطح پر اس کے خلاف ابھی تک کوئی ٹھوس اقدامات سامنے نہیں آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان لوگوں سے ٹیکس کی بھر پوروصولی کی جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے غریب ممالک میں صورت حال ابتر ہوتی جارہی ہے جیسا کہ افریقی ممالک کی 30 فیصد دولت ان ملکوں سے باہر موجود ہے جس سے ان ممالک کو ہر سال 14 ارب ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑتا ہے اور اگر ان پر قابو نہ پایا گیا تو امیر اور غریب کے درمیان فرق خطرناک حد تک بڑھ جائے گا۔