جعلی مقابلے میں 2 نوجوانوں کی ہلاکت مشتعل افراد کا شارع نور جہاں تھانے پر حملہ

تھانے میں کھڑی موبائلوں کو نقصان پہنچایا، ایک موبائل کو نذرآتش کرنیکی بھی کوشش کی،ایس ایچ اواور ڈی ایس پی معطل


Staff Reporter November 03, 2012
جعلی مقابلے میں ہلاک ہونے والے عدنان کی یادگار تصویر۔ فوٹو : راحیل سلمان / ایکسپریس

نارتھ ناظم آباد بلاک آئی میں پولیس مقابلے کا پول کھل گیا۔ دونوں نوجوان بے گناہ نکلے۔

نوجوانوں کے زندہ بچ جانے والے تیسرے ساتھی نے بتایا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے ان پر فائرنگ کی تھی، واقعے کا علم ہونے پر نامعلوم افراد نے شارع نور جہاں تھانے پر حملہ کردیا اور موبائلوں کو نقصان پہنچایا، کھڑکیوں اور دروازوںکے شیشے توڑدیے جبکہ ایک موبائل کو نذرآتش کرنے کی بھی کوشش کی، پولیس نے 2 ڈاکوئوںکو مقابلے میں ہلاک کر کے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا ،ایس ایچ او شارع نور جہاں راجہ طارق کو معطل کردیا گیا جبکہ ایس پی نارتھ ناظم آباد لطیف صدیقی کو سی پی او رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب نارتھ ناظم آباد بلاک آئی میں شارع نور جہاں پولیس نے مقابلے کے بعد2ڈاکوئوں کو ہلاک کرکے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا، نوجوانوں کی شناخت عدنان ولد مقیم اور نعیم الدین ولد غلام الدین کے نام سے ہوئی تھی ، نوجوانوں کے زندہ بچ جانیوالے ساتھی آصف نے بتایا کہ انھوں نے عید الاضحیٰ پر آئی بلاک میں قربانی کے جانور ذبح کیے تھے جس کی وہ اجرت لینے پہنچے تھے،آصف نے مزید بتایا کہ عدنان اور نعیم بنگلے کے پاس ہی کھڑے تھے جبکہ وہ کچھ فاصلے پر تھا کہ اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد آئے اور ان پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے جس سے عدنان اور نعیم کو گولیاں لگیں اور وہ گرپڑے جبکہ وہ فوراً جان بچاتے ہوئے بھاگا تو ملزمان نے اس پر بھی فائرنگ کردی،خوش قسمتی سے وہ زندہ بچ گیا ۔

وہ فوراً علاقے میں پہنچا اور اہل خانہ کو مطلع کیا جبکہ اس دوران پولیس نے مرنے والوں کو ڈاکو قرار دیکر ان سے اسلحہ بھی برآمد کرنیکا دعویٰ کردیا، واقعے کا علم ہونے پر درجنوں علاقہ مکین شارع نور جہاں تھانے پہنچ گئے اور تھانے پر حملہ کردیا، اس دوران پولیس سے تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی،مشتعل افراد نے تھانے کے دروازے اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے، موبائلوں کو توڑ پھوڑ دیا جبکہ ایک موبائل کو نذر آتش کرنے کی بھی کوشش کی جس سے اسے جزوی نقصان پہنچا۔

اس موقع پر ایس ایچ او شارع نور جہاں راجہ طارق نے مشتعل افراد سے معافی بھی مانگی، مشتعل افراد نے سڑک پر دھرنا بھی دیا جبکہ عباسی شہید اسپتال میں بھی درجنوں افراد لاشیں وصول کرنے پہنچ گئے جہاں مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی بھی کی، بعدازاں زندہ بچ جانیوالے محمد آصف کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 547/12 بجرم دفعہ 302/34 نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا گیا ، بطور ڈی آئی جی ویسٹ کام کرنے والے ایس ایس پی عامر فاروقی نے ایکسپریس کو بتایا کہآئی جی سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او شارع نور جہاں راجہ طارق کو فوری طور پر معطل جبکہ ایس پی نارتھ ناظم آباد لطیف صدیقی کو فوری طور پر سی پی او رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے .

انھوں نے مزید بتایا کہ ایس پی انویسٹی گیشن نارتھ ناظم آباد نعمان صدیقی کو واقعے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیدیا گیا، واضح رہے کہ ڈی آئی جی ویسٹ حج کی ادائیگی کی غرض سے سعودی عرب گئے ہوئے ہیں،علاوہ ازیں جعلی پولیس مقابلے میں2نوجوانوں کی ہلاکت پر ایس ڈی پی او شادمان ٹائون ڈی ایس پی مشتاق تنولی کو بھی معطل کردیا گیا ، سندھ پولیس کے ترجمان کے مطابق مشتاق تنولی کو فوری طور پر ان کے عہدے سے معطل کردیا گیا ہے۔