سانحہ بلدیہ تحقیقات نامکمل ایس پی کو عدالت نے طلب کرلیا

فیکٹری مالکان شاہداور ارشد بھائیلہ کو بی کلاس کی سہولت فراہم کرنے کا حکم.


Staff Reporter November 03, 2012
فیکٹری مالکان شاہداور ارشد بھائیلہ کو بی کلاس کی سہولت فراہم کرنے کا حکم. فوٹو: اے ایف پی

سانحہ بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں نامزد فیکٹری مالکان کے منجمد کھاتے کی بحالی ۔

فیکٹری میں ذاتی سیکیورٹی کی تعیناتی اور فیکٹری سے متصل پلاٹ کوپولیس کے قبضے سے واگزار کرانے سے متعلق تین مختلف درخواستوں پر وکیل سرکار اور تفتیشی افسر سے جواب طلب کرلیا ، عدالت نے جیل میں پابند سلاسل فیکٹری مالکان شاہد بھائیلہ اور ارشد بھائیلہ کو بی کلاس دینے کا حکم دیا ہے،مقدمے کی تفتیش مکمل کرنے کی ناکامی پر ایس پی کو ذاتی طور پر عدالت نے طلب کرلیا، تفتیش مکمل کرنے کیلیے مزید 12نومبر تک مہلت دی ہے ،تفصیلات کے مطابق جمعہ کو جیل حکام نے مذکورہ کیس میں نامزد ارشد بھائیلہ اور شاہد بھائیلہ ، فیکٹری منیجر منصور احمد ، سیکیورٹی گارڈ فضل محمد ، ارشد محمود ، علی محمد کو پیشی کیلیے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی سہیل مشوری کے روبرو پیش کیا اورضمانت پر رہا ملزم عبدالعزیز عدالت میں موجود تھے ،اس مقدمے کی سماعت کے موقع پر فیکٹری مالکان کے وکیل نے ملزمان کی جانب سے تین مختلف درخواستیں دائر کیں۔

منجمد فیکٹری کھاتے کی بحالی سے متعلق دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ انکے موکلوںکو بنیادی زندگی گزارنے اور دیگر گھریلو اخراجات کیلیے مخصوص رقم ضروری ہے،کھاتہ منجمد اس صورت میں کیا جاتا ہے کہ رقم بیرون ملک منتقل کرنے کا خدشہ ہو،فیکٹری میں اپنی سیکیورٹی تعینات کرنے سے متعلق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیکٹری میں انکی سیکیورٹی تعینات کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ قیمتی سامان کی چوری وغیرہ پر نظر رکھی جاسکے، تیسری درخواست میں موقف اختیارکیا ہے کہ فیکٹری سے متصل پلاٹ پر بھی پولیس نے قبضہ اور اسے سیل کردیا ہے لہٰذا پولیس کے قبضے سے واگزار کیا جائے، فاضل عدالت نے تینوں درخواستوں پر پولیس سے جواب طلب کرلیااورنوٹس جاری کرتے ہوئے وکیل سرکار کو5 نومبر کوعدالت میں طلب کرلیا ۔

وکیل صفائی کی جانب سے فیکٹری مالکان کو بی کلاس کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق دائر درخواست وکلا کے حتمی دلائل مکمل ہونے پر درخواست منظور کرتے ہوئے جیل حکام کو انھیں جیل میں بی کلاس کی سہولت دینے کا حکم دیا اور دوران سماعت ملزمان کی ہتھکڑی بھی کھول دی تھی،اس موقع پر فاضل عدالت نے مقدمے کی تفتیشی افسر سے گذشتہ دس روز کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کی جس پر پولیس افسر نے بتایا کہ وہ بیمار تھا اور عید کی تعطیلات کے باعث تفتیش مکمل نہ ہوسکی ۔

لیبر ڈیپارٹمنٹ کے جوائنٹ ڈائریکٹر نے ایک لیبر آفسر تعینات کیا تھا لیکن وہ تاحال رخصت پر ہے اور کوئی پولیس سے تعاون نہیں کیا، ڈی این اے رپورٹ بھی موصول نہیں ہوئی ہے ودیگر محکموں کی جانب سے کوئی تعاون نہیں ہوا ہے، تفتیش کی ناکامی پر فاضل عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور ایس پی ویسٹ کو ذاتی طور پرعدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور حتمی چالان جمع کرانے کیلیے مذید 12نومبر تک مہلت دی ہے۔