بلدیاتی نظام سب حکومتیں ایک
مارچ میں منتخب ہونے والے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کو بلدیاتی خزانے خالی اور بلدیاتی مسائل کا انبار ضرور ملے گا
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کے حکم پر چاروں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات صوبائی حکومتوں کو مجبوراً کرانا پڑے اور وفاقی حکومت بھی کنٹونمنٹس میں پندرہ سولہ سال بعد اور اسلام آباد میں پہلی بار بلدیاتی انتخابات کرانے پر مجبور ہوئی، جب کہ ملک میں بلدیاتی انتخابات کا وقت مقررہ پر کرانا ایک آئینی تقاضا ہے، کسی حکومت کا عوام پر احسان نہیں ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے مجبوری میں یہ زہر پی ہی لیا ہے مگر لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکام سب حکومتوں کے گلے پڑ گئے ہیں جن سے وہ جان چھڑانا چاہتی تھیں مگر نہ چھڑا سکیں اور سب نے ملک کو ایک کمزور بے اختیار نظام ضرور دے دیا ہے۔
دو سال قبل بلوچستان میں، نو ماہ قبل کے پی کے میں اور اب گزشتہ ماہ دسمبر میں سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات تو کرا دیے گئے مگر مکمل نہیں ہوئے اور فروری میں مخصوص نشستوں پر انتخابات ہوں گے اور مارچ تک ہی میئر، ضلعی کونسلروں، میونسپل کمیٹیوں اور ٹاؤن کمیٹیوں کے چیئرمینوں اور وائس چیئرمینوں کے الیکشن ہو پائیں گے، جس کے بعد وہ اپنے عہدوں کے جب چارج سنبھالیں گے تو سندھ اور پنجاب کے بلدیاتی بجٹ ختم کیے جا چکے ہوں گے اور 2015-16ء کے بجٹوں کی رقم ہی پوری نہیں ہو گی بلکہ دونوں صوبوں کے سرکاری ایڈمنسٹریٹر اپنے کمیشن وصول کر کے ترقیاتی و تعمیراتی کام ادھورے اور ٹھیکیداروں کے اربوں روپوں کے بقایاجات نومنتخب بلدیاتی اداروں کے سربراہوں میں ورثے میں دے کر جائیں گے اور چارج سنبھالتے ہی وہ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے۔
مارچ میں منتخب ہونے والے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کو بلدیاتی خزانے خالی اور بلدیاتی مسائل کا انبار ضرور ملے گا اور خالی خزانے کے بعد وہ نئے مالی سال کے بجٹوں کی تیاری میں لگ جائیں گے اور جولائی اگست تک ان کے منظور شدہ بجٹوں کی سندھ و پنجاب کی حکومتیں منظوری دیں گی تو یہ کچھ کرانے کی پوزیشن میں آئیں گے۔
سندھ و پنجاب کی حکومتوں نے بھی کے پی کے اور بلوچستان کی حکومتوں نے جو بلدیاتی نظام اپنے صوبوں کو دیے ہیں ان میں بلدیاتی سربراہوں کو ضلعی حکومتوں جیسے مالی اور انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہیں اور وہ محکمہ بلدیات اور اپنے وزرائے اعلیٰ کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ ملک کے کنٹونمنٹس میں عوام کے منتخب نمایندوں کے اختیارات پہلے ہی محدود ہیں اور اسلام آباد میونسپل کارپوریشن کی حالت بھی کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور سے مختلف نہیں ہو گی، کیونکہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات کم سے کم دینے کے معاملے پر سب حکومتیں ایک ہیں اور جنرل پرویز مشرف کا دیا گیا بااختیار ضلعی نظام اب ایک خواب بن چکا ہے۔
شرمناک بات یہ ہے کہ ملک کو ایک بااختیار بلدیاتی نظام ایک جنرل نے دیا تھا۔ ملک میں مدت مکمل ہونے پر بلدیاتی انتخابات بھی باقاعدگی سے فوجی حکومتوں میں ہوئے اور چھ سال بعد سپریم کورٹ کے حکم پر جو انتخابات ہوئے ان میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات انتہائی کم ہیں۔
کوئٹہ میونسپل کارپوریشن کے میئر ڈاکٹر کلیم اللہ نے احتجاج کیا ہے کہ انھیں منتخب ہوئے ایک سال ہو گیا مگر بلوچستان حکومت اختیارات نہیں دے رہی۔ ملک میں انصاف کے دعویداروں کی کے پی کے حکومت نے نو ماہ گزر جانے کے بعد بھی بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہیں دیے جس پر وہ احتجاج کر چکے ہیں اور وہاں بھی یوسی کونسلر اور ولیج کونسلر کا سمجھ میں نہ آنے والا بلدیاتی نظام دیا گیا ہے۔ سندھ میں کراچی میں یونین کمیٹیاں اور باقی اضلاع میں یونین کونسلوں کا نظام وجود میں تو آ گیا ہے مگر سندھ حکومت نے ملک کے سب سے بڑے شہر کی بلدیہ عظمیٰ کے پر کاٹ دیے۔
جس کے اختیارات چھ اضلاع کی ڈی ایم سیز کو اور دیہی علاقوں کے ڈسٹرکٹ کونسل کراچی کے پاس ہوں گے اور کراچی کے ہر ضلع کے بلدیاتی ادارے کو ڈی ایم سی کا درجہ حاصل ہو گا جس کا سربراہ میئر نہیں بلکہ چیئرمین کہلائے گا اور بلدیہ عظمیٰ جو دو کروڑ آبادی کی ہے وہ بے اختیار اور ڈی ایم سیز کے اختیارات بلدیہ عظمیٰ سے زیادہ رکھے گئے ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کا سربراہ لاہور کی طرح لارڈ میئر نہیں بلکہ میئر کہلائے گا۔
سندھ حکومت بلدیہ عظمیٰ سے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور صفائی کا نظام بھی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ذریعے اپنے کنٹرول میں لے چکی ہے جب کہ کراچی کا ترقیاتی ادارہ کے ڈی اے بھی ختم ہو چکا ہے اور ایم ڈی اے اور ایل ڈی اے پہلے ہی سندھ حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔
بلدیاتی نمایندوں کو کچرا اٹھوانے اور نالیاں سڑکیں صاف کرانے والا طنزیہ کہا جاتا ہے مگر سندھ کے بعض اضلاع میں یہ کام ایک پرائیویٹ ادارے کے سپرد ہے جو مکمل ناکام رہا ہے، جس کے بعد کراچی میں صفائی کا کام سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے حوالے کر دیا ہے جس کے بعد کراچی کے بلدیاتی نمایندے اب اپنے شہر میں صفائی ستھرائی کے کاموں سے بھی فارغ کر دیے گئے ہیں۔
5 دسمبر کو بلدیہ عظمیٰ کی اکثریتی نشستیں واضح طور پر ایم کیو ایم نے جیت لیں اور اپنے میئر کی نامزدگی کا بھی اعلان کر دیا ہے جس کے بعد سے نامزد میئر نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو اختیارات دینے کے مطالبے شروع کر رکھے ہیں جس پر وزیر اعلیٰ نے اعتراض کیا ہے کہ میئر منتخب نہیں ہوا اور اختیارات سندھ حکومت کے مانگے جا رہے ہیں، انھیں اختیارات دے کر سندھ حکومت کیا کرے گی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما کئی سال سے دعوے کرتے آ رہے تھے کہ کراچی کا آیندہ میئر متحدہ کا نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کا ہو گا مگر پی پی کا یہ خواب متحدہ نے پورا نہیں ہونے دیا، جس کا انتقام بلدیہ عظمیٰ کے اختیارات سندھ حکومت نے جبری طور پر حاصل کر لیے ہیں اور نیا میئر اور کے ایم سی اب مکمل طور پر سندھ حکومت کی محتاج ہو کر رہ گئی ہے۔
سندھ حکومت نے تو پنجاب سے بھی پہلے 2013ء کے بلدیاتی ایکٹ میں تیسری ترمیم اچانک اور وہ بھی پرائیویٹ ڈے پر غیر قانونی طور پر پیش اور اکثریت نہ ہونے کے باوجود اپوزیشن کے شور میں منظور کر کے ایک اور وار کیا ہے جس کے بعد حکومتی دباؤ اور لالچ میں آ جانے والے چیئرمین اور کونسلر اپنا حق رائے دہی خفیہ طور پر استعمال نہیں کر سکیں گے۔ حکومت جانتی ہے کہ متحدہ کے نمایندے متحدہ کے فیصلے کے مطابق ووٹ دیتے ہیں، اس لیے ویسٹ، ساؤتھ اور ملیر کی ڈی ایم سی کی سربراہی حاصل کرنے کے لیے شو آف ہینڈ کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے، جس میں تحریک انصاف نے حیرت انگیز طور پر سندھ حکومت کا ساتھ دیا ہے۔
کے پی کے میں 9 ماہ گزر جانے کے باوجود مخصوص نشستوں کے انتخابات نہیں ہو سکے۔ چاروں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات وقت پر نہ کرائے اور اب تاخیر پہ تاخیر کا ذمے دار الیکشن کمیشن ہے، جس کے سربراہ اپنی خامیوں کی درستگی کے بجائے عدالت عظمیٰ سے الجھنے لگے ہیں۔