سیاسی بھرتیوں نے حیدرآباد کو تباہ کر دیا قموس گل خٹک

ہر شخص لاقانونیت پر آمادہ اور شہر میں حکومت کے بجائے مسلح سیاسی گروہوں کا راج ہے


Numainda Express November 04, 2012
حالات کی درستی کیلیے شہری مشترکہ جدوجہد کریں، سیکریٹری جنرل متحدہ لیبر فیڈریشن

متحدہ لیبر فیڈریشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل قموس گل خٹک نے کہا ہے کہ حیدرآباد، صوبہ سندھ کا خوبصورت ترین شہر ہوا کرتا تھا لیکن بلدیات، پولیس اور دیگر شہری اداروں میں سیاسی بھرتیوں اور ان اداروں کے وسائل پر قبضے نے شہر کو گندگی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔

اندرونی سڑکوں پر ون وے ٹریفک کا نظام لاقانونیت کی نذر ہو گیا ، ٹریفک پولیس صرف بھتہ وصولی میں مصروف دکھائی دیتی ہے ،ہر شخص لاقانونیت پر آمادہ اور اس کیلیے خود کو آزاد سمجھتا ہے، شہر میں حکومتی اداروں کی بجائے مسلح سیاسی گروہوں کا راج ہے۔انھوں نے کہا کہ سینٹری ورکرز کی اسامیوں پر 50 فیصد سے بھی زیادہ سیاسی ورکرز بھرتی کیے گئے جو صفائی کا کام نہیں کرتے بلکہ گھروں پر بیٹھ کر تنخواہیں لیتے ہیں۔شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ میں منظور شدہ اسامیوں کے برعکس لاتعداد افراد کو بھرتی کیا گیا۔

جن کی تنخواہوں کیلیے بجٹ میں فنڈز مختص نہیں، اس لیے کئی کئی مہینوں سے ان عارضی ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملتیں، قموس گل خٹک نے کہا کہ سندھ کے بلدیاتی وزیر برائے نام اتھارٹی ہیں کیونکہ سیاسی مصلحت کی بناء پر وہ بلدیاتی اداروں میں کرپشن و لاقانونیت کا نوٹس نہیں لے سکتے، اس لیے ان حالات کی درستی صرف شہریوں کی متحدہ جدوجہد سے ہی ممکن نظر آتی ہے کیونکہ حکومتی ادارے عوامی مسائل سے لاتعلق صرف اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔