بنگالیوں کے مسائل حل نہ ہوئے تو احتجاج کیا جائیگاشیخ فیروز

پاکستان کی بنیادوں میں بنگالیوںکا لہو شامل ہے، احتجاجی مظاہرے سے خطاب.


Staff Reporter November 04, 2012
سپریم کونسل پاکستانی بنگالیزایکشن کمیٹی کے تحت پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

پاکستان بنگالیز ایکشن کمیٹی کے چیئرمین شیخ محمد فیروز نے کہا ہے کہ ملک میں مقیم 30 لاکھ سے زائد بنگالی محب وطن پاکستانی ہیں، انھیں غیر قانونی اور تارکین وطن کہنے والے اپنا قبلہ درست کرلیں۔

اگر ایک ماہ میں بنگالی پاکستانیوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری نہ کیے گئے اور ان کے بنیادی مسائل حل اور مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو کراچی میں دھرنا اور احتجاج ہوگا، وہ ہفتے کو کراچی پریس کلب کے باہر پاکستان بنگالیز ایکشن کمیٹی کے تحت منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کررہے تھے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیادوں میں بنگالیوں کے آباء واجداد کا لہو شامل ہے۔

اس ملک میں بسنے والے محب وطن بنگالیوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا ملک میں بسنے والی دیگر اقوام کا حق ہے،انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بنگا لیوں کوبلاتاخیر شناختی کارڈ، پاسپورٹ سمیت دیگر دستاویزات مہیا کیے جائیں، غیر ملکی اور تارکین وطن کی آڑ میں محب وطن بنگالی عوام کے خلاف آپریشن بند کیا جاے، انھوں نے کہا کہ ہم نے بنگلہ دیش کو کبھی تسلیم ہی نہیں کیا ہے، بنگالی قوم نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو اپنا رہنما اور ایم کیو ایم کو اپنی جماعت سمجھا اور مانا ہے،ہم الطاف حسین سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے خلاف ریاستی ظلم وزیادتی اور ٹارگٹ کلنگ بند کرانے میں ہماری مدد کریں اور ہمیں تمام آئینی وقانونی دستاویزات فراہم کرائی جائیں، تاکہ غیر ملکی اور تارکین وطن کا موازنہ صحیح طرح سے ہوسکے۔