کسان بورڈ نے گنے بجلی کی قیمتیں مسترد کردیں تحریک شروع کرنے کا اعلان

گنے کے نرخ کسانوں کے حقوق پر ڈاکہ ہیں‘مشاورت سے نئی قیمت مقرر کی جائے،کسان بورڈ کا مطالبہ


Staff Reporter November 05, 2012
بجلی کا زرعی ٹیرف کم ‘فیول ایڈجسٹمنٹ لینا بند ‘بلوچستان کی طرح باقی صوبوں میں زرعی ٹیوب ویل کیلیے فلیٹ ریٹ مقرر کیے جائیں . فوٹو: اے ایف پی

لاہور میں کسان بورڈ پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس مرکزی صدر سردار ظفر حسین خان کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں مرکزی نائب صدور ڈپٹی سیکرٹری جنرلز چاروں صوبائی صدور ہمراہ سیکرٹریز شریک ہوئے اجلاس میں شرکا کی باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کی کسان دشمن اور زراعت کش پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے جس کی ابتدا اسلام اباد سے 12نومبر کو احتجاجی کیمپ لگا کر کیا جائے گا اگر حکومت وقت نے کاشت کاروں کے ان کے جائز حقوق نہ دیے تو تحریک کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا ۔ اجلاس میں متفقہ قرارداد کے ذریعے کہا گیا کہ گنے کا موجودہ مقرر کردہ ریٹ 170روپے فی من کسانوں کے حقوق پر ڈاکہ ہے۔

اس سے ان کے پیداواری اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے موجودہ قیمت فوری طور پر معطل کی جائے اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک میٹنگ بلا کر باہمی مشاورت سے نئی قیمت مقرر کی جائے۔بجلی کا زرعی ٹیرف کم کیا جائے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر کاشت کاروں کو لوٹنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور بلوچستان کی طرز پر باقی تینوں صوبوں میں بھی زرعی ٹیوب ویل کے لیے فلیٹ ریٹ مقرر کیے جائیں دھان گندم کپاس اور دیگر تمام زرعی اجناس کی قیمتیں مقرر کرتے وقت کسانوں کے حقیقی نمائندوں سے مشاورت کے بغیر کوئی نرخ مقرر نہ کیا جائے اور قیمتوں کا اعلان فصل کی بوائی سے کم از کم ایک ماہ قبل کر دیا جائے گنے کی گزشتہ سالوں کے پے منٹ کے کروڑوں روپے فوری ادا کیے جائیں اور ائندہ کے لیے گنے کی پے منٹ سی پی آر کی بجائے بذریعہ چیک کی جائے۔

مقبول خبریں