تین جماعتی اتحاد سپنا کا الیکشن مشترکہ طور پر لڑنے کا اعلان بلدیاتی نظام کیخلاف پٹیشن سے اظہار لاتعلقی
حکمراں سندھ کےٹکڑےٹکڑےکرناچاہتے ہیں،سیاسی معاملے پرعدالتی راستہ اختیارکرناجدوجہد سے ہٹانےکی کوشش ہے,ایاز پلیجو.
بلدیاتی نظام کیخلاف 10نومبر کو ٹنڈو الہیار میں جلسہ، 13کو کراچی پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال کرینگے،سربراہ عوامی تحریک
سندھ کی تین قوم پرست جماعتوں کے اتحاد سندھ پروگریسیو نیشلسٹ الائنس (سپنا) نے انتخابات ایک پلیٹ فورم سے لڑنے اور ایک دوسرے کے مقابلے میں امیدوار کھڑے نہ کرنے اعلان کیا ہے۔
رہنمائوں نے نئے بلدیاتی نظام کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر آئینی پٹیشن سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملے پر عدالتی راستہ اختیار کرنا سیاسی جدوجہد سے ہٹانے کی کوشش ہے، سندھ کے عوام کسی بھی صورت موجودہ بلدیاتی نظام قبول نہیں کریں گے،اتوار کو سپنا کے اجلاس کے بعد سپنا کے کنوینر و عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو نے اپنی رہائش گاہ میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید جلال محمود شاہ، شاہ محمد شاہ و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔
ایاز لطیف پلیجو کا کہنا تھا کہ سپنا کے اجلاس میں ایک بار پھر نئے بلدیاتی نظام کو مسترد کر دیا گیا ہے، موجودہ بلدیاتی نظام پاکستان اور سندھ دشمن ہے جس کے ذریعے پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت اپنے بیرونی آقاؤں کے اشارے پر پہلے کراچی پھر سندھ اور اس کے بعد پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتی ہے، شہری علاقوں کا اقتدار ایک پارٹی کے حوالے کر کے مذموم مقاصد پورے کیے جارہے ہیں، بلدیاتی نظام سندھ اور پاکستان کی وحدت اور عوام پر وار ہے، نفاذ کا مقصد عوام کو دست و گریباں کرانا ہے،انھوں نے کہا کہ سپنا بلدیاتی نظام کے خلاف سندھ بچاؤ کمیٹی کی جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔
سپنا میں شامل تینوں جماعتیں بلدیاتی نظام کے خلاف 10نومبر کو ٹنڈو الہیار میں ہونے والے جلسہ عام اور 13نومبر کو کراچی پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال میں بھرپورشرکت کرے گی،انھوں نے کہا کہ اردو بولنے والے بھائیوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ جدوجہد ساتھ دیں ، اپنے گھروں اور گلیوں سے نکل کر سندھ کی بقاکی جدوجہد میں حصہ لیں، سپنا میں شامل جماعتیں بلدیاتی نظام کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل کی جانے والی آئینی درخواست سے لاتعلقی کا اظہارکرتی ہیں۔
اگرکوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس درخواست کے نتیجے میں عدالت بلدیاتی نظام کی کچھ شقوں کو ختم کر کے ترمیم کرنے کا حکم دیتی ہے اور اس کے بعد سندھ کی عوام اسے قبول کر لیں گے تو یہ ان حلقوں کی بھول ہے جن کے اشارے پر سپریم کورٹ میں یہ درخواست داخل کی گئی ہے کہ اس طرح عدالت کے ذریعے عوام کو شکست دے دی جائے گی، افسوس کہ درخواست داخل کرنے والے دوستوں نے ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی جبکہ عدالتی راستہ اختیار کر کے ہمیں سیاسی جدوجہد سے ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان کاکہنا تھاکہ ایک سازش کے تحت ٹارگٹ کلنگ کے عفریت کو حیدرآباد لایا جارہا ہے، انھوںنے قوم پرستوں کے اتحاد سپنا کی جانب سے صوبائی اسمبلی حلقہ اکیس کے ضمنی الیکشن میں نیشنل پیپلز پارٹی کے امیدوار ابرارشاہ کی حمایت اور ان کی انتخابی مہم کے سلسلے میں 8نومبر کو کنڈیارو میںہونے والے جلسے میں بھرپور شرکت کا اعلان بھی کیا، انھوں نے پیپلز پارٹی پر الزام عائد کیا کہ اس نے سندھ دشمن کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں مخصوص افراد کے ذریعے درخواست دائر کرائی ہے لیکن عدالت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ سندھ اور خیبرپختونخواکی عوام کے قسمت کے فیصلے کرے، پیپلز پارٹی نے مظالم کی انتہا کر رکھی ہے لیکن عوام یقین رکھے کہ قوم پرست جماعتیں اپنی عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گی۔ اس موقع پر سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ بلدیاتی نظام سے سندھ کا مستقل اور استحکام وابستہ ہے ۔
کسی وکیل کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بغیر مشاورت کے اس مسئلے پر سپریم کورٹ میں درخواست داخل کرے، سیاسی فیصلے عدالت میں نہیں ہونے چاہیے، ہم نہیں چاہتے کہ حکومت کو عدالت کے ذریعے کچھ ترامیم کے بعد موجودہ بلدیاتی نظام کو قائم رکھنے کا جواز مل جائے ، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید جلال محمودشاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو پیسوں کے علاوہ کسی چیز کی سمجھ نہیں اور ان سمیت ان کی پوری قیادت کو نہ صرف رات کو خواب میں پیسے دیکھائی دیتے ہیں بلکہ ان کی پوری سیاست کا محور ہی پیسہ ہے جس کی وجہ سے وہ قوم پرستوں پر نوازشریف سے پیسے لینے کا الزام عاید کر رہے ہیں۔