وزارت داخلہ کی جانب سے عدم تعاون پر عدالت کی برہمی
متحدہ کے ریفرنڈم کے خلاف درخواست کی سماعت 13نومبر تک ملتوی
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے عدم تعاون پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کیا گیا تو وزارت داخلہ کے متعلقہ افسر پر کم از کم 50ہزار روپے جرمانہ عائد اور یکطرفہ فیصلہ سنادیا جائے گا۔
عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ عدالت کی ناراضگی متعلقہ حکام تک پہنچادیں، فاضل بینچ نے بدھ کو تاجرمحمد حنیف کی ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے وزارت داخلہ کاجواب داخل کرنے کیلیے عدالت سے مہلت طلب کی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیا،علاوہ ازیں متحدہ قومی موومنٹ کے ریفرنڈم کی تاریخ میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اس ریفرنڈم کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست کی سماعت بھی 13نومبر تک ملتوی ہوگئی۔
جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے ریفرنڈم کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 13نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانونی نکات پر دلائل کیلیے تیاری کرکے آئیں، بدھ کو سماعت کے موقع پر عدالت نے آبزرو کیاکہ درخواست گزار حاجی گل احمد کی آئینی نکات پر بحث کیلیے تیاری نہیں، عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر آئینی نکات کا جائزہ لے کر آئیں،درخواست میں چیف الیکشن کمشنر، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزارت قانون، وفاقی وزارت داخلہ، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اور متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینرڈاکٹرفاروق ستار کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے حکم پر متحدہ سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ نے ملک بھر میں 8 نومبر 2012کو ریفرنڈم کروانے کا اعلان کیا ہے جوآئین کے آرٹیکل 48 اور آرٹیکل 5 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔