بلدیہ عظمیٰ کے ماتحت اسپتالوں میں دواؤں کا شدید بحران

بلدیہ عظمی کے تحت چلنے والی 270 ڈسپنسریاں بھی عملے اور دوائوں کے نہ ہونے سے غیر فعال ہوگئیں۔


Staff Reporter November 09, 2012
اسپتالوں میں تلخ کلامی کے واقعات بڑھ گئے، دوائوں کی فراہمی کیلیے 2 سال سے ٹینڈرز جاری کیے جارہے ہیں مگر ٹینڈز میں کامیاب فرمیں دوائیں فراہم نہیں کر رہی، ذرائع فائل فوٹو

عباسی شہید اسپتال سمیت بلدیہ عظمیٰ کے ماتحت اسپتالوں میں دوائوں کابحران شدت اختیار کرگیا۔

ان اسپتالوں میں ایکسرے فلمیں، لیبارٹری و سرجیکل سمیت دیگرطبی سامان بھی ختم ہوگیا، بلدیہ عظمیٰ کے ماتحت چلنے والی270ڈسپنسریاں، داوئوں اور عملہ نہ ہونے کی وجہ عملاً غیر فعال کردی گئی جبکہ شام کے اوقات میں چلنے والی بیشتر ڈسپنسریاں بندکردی گئیں ہیں، سینئر میڈیکل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز بلدیہ عظمیٰ نے غیر اعلانیہ طور پر عوام کو صحت کی سہولتوںکی فراہمی بندکردی اوراسپتالوں میں ادویات ناپیدہونے کے مسئلے پر چپ سادھ لی ہے، دوسری جانب اسپتالوں میں آنیوالے مریضوںکو دوائیں نہ ملنے سے اسپتالوں میں آئے دن تلخ کلامی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوگیا،اسپتالوںکی انتظامیہ کاکہنا ہے کہ2سال سے دوائیں فراہمی نہیںکی جارہی ہیں اور اپنی مددآپ کے تحت اسپتال چلائے جارہے ہیں جس کی وجہ سے اسپتالوں کی کارکردگی شدید متاثرہوکر رہ گئی ہے اور مریضوںکو حصول علاج میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان اسپتالوں میںگذشتہ 2 سال سے ادویات کی سپلائی نہیںکی جارہی،عباسی شہید اسپتال کے انتظامی ذرائع کے مطابق اسپتال میں ڈھائی سال سے ادویات کی سپلائی نہیںکی جارہی جبکہ بجٹ میں اسپتال کیلیے ادویات کی مد میں 13کروڑ روپے سالانہ مختص کیے جاتے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ2سال سے ادویات کی سپلائی کیلیے ٹینڈرزکیے جارہے ہیں لیکن ٹینڈزمیںکامیابی حاصل کرنے والی فرموں نے ادویات کی سپلائی نہیںکی، ان کاکہناتھا کہ سابقہ شہری حکومت نے ہماری سابقہ ادائیگیاں نہیںکی اس لیے مزید ادویات کی سپلائی نہیںکی جا سکتی، اسپتال کے ذرائع کے مطابق عباسی شہید اسپتال، کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز،سوبھراج میٹرنٹی ہومز، لیپروسی اسپتال منگھوپیر،رفیقی شہیدا سپتال، گذدر آباد اسپتال ،گذری میٹرنٹی ہومز، سولجربازارمیٹرنٹی ہومز، کارڈیک سینٹرشاہ فیصل، لانڈھی میڈیکل کمپلیکس سمیت دیگراسپتالوں میں دوائوں کا شدیدبحران پیدا ہوگیا ہے۔

ان اسپتالوں میں ادویات کے ساتھ دیگر طبی سامان بھی ناپید ہوگیا جبکہ بلدیہ کی 270ڈسپنسریوں میں بھی ادویات ناپیدہوگئیں ۔ان میں سے بیشترڈسپنسریوں کوعملا بند کردیا گیا جبکہ شام کے اوقات میں چلنے والی ڈسپنسریاں بھی بند کردی گئیں، ذرائع نے بتایاکہ متعددمیٹرنٹی ہومزبھی غیر فعال پڑے ہیں،ان تمام اسپتالوں، ڈسپنسریوں میں ادویات کی عدم دستیابی کے نتیجے میں مریضوں اور انتظامیہ کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔