اداروں کی حدود آرمی چیف کا مشورہ صائب ہےمنورحسن

حکمران عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے بجائے ان کا مذاق اڑاتے اور روڑے اٹکاتے رہے، بیان


Numainda Express November 09, 2012
قوم مستقبل سے مایوس ہے،کراچی کو خون میں نہلانے والوں پرہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں۔ فوٹو: فائل

لاہور: جماعت اسلامی کے امیرمنورحسن نے کہا ہے کہ اگرفوج اوردیگرآئینی ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے قوم کی خدمت کرتے توآج ملک جن حالات کا شکار ہے وہ نہ ہوتا۔

ملکی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، قبضہ مافیا نے تمام اداروں پرتسلط جمارکھا ہے۔کرپشن اورلوٹ مارکی داستانیں عام ہیں، بدامنی اور بے چینی نے ہر جگہ ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور قوم مستقبل سے مایوس ہے۔ ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ امیروں اور غریبوں کے لیے الگ الگ قوانین ہیں۔ جھوٹے الزامات میں ملوث ملزموں سے جیلیں بھری ہوئی ہیں جبکہ بڑے مگرمچھ قانون کی پکڑ سے بچ جاتے ہیں ۔کراچی میں لینڈ مافیا،بوری بند لاشوں، بھتہ کلچر اور ٹارگٹ کلنگ روکنے والا کوئی نہیں۔ ان حالات میں اداروں کو حدود میں رہ کر کام کرنے کا آرمی چیف کا مشورہ صائب ہے لیکن کیا یہ سارے جرائم سب کے سامنے نہیں ہورہے؟۔

قومی سلامتی کے ادارے کہاں سورہے ہیں ؟ ان اداروں کی ناکامی یا لاپرواہی کا بھی نوٹس لینا چاہیے۔ منورحسن نے کہاکہ موجودہ حکومت کا پورا دور عدلیہ سے تصادم اور محاذ آرائی میں گزراہے، حکمران عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے بجائے، مذاق اڑاتے اور روڑے اٹکاتے رہے ۔ کراچی کو خون میں نہلانے اور ہر روز درجنوں معصوم شہریوں کو قتل کرنیوالوں کاریکارڈ قومی سلامتی کے اداروں کے پاس موجود ہے لیکن اسکے باوجود اگر وہ حکومت میں بیٹھے ہیں تو تسلیم کرنا چاہیے کہ یہاں اداروں کی نہیں جرائم کی دنیا کے بادشاہوں کی حکومت ہے اور ان بڑے مجرموں پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں ۔