خودکش حملے میں لشکر جھنگوی ملوث ہے ابتدائی تفتیش

خود کش بمبار کا ڈی این اے کروانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، ایس ایس پی سی آئی ڈی


Staff Reporter November 09, 2012
خود کش بمبار کا ڈی این اے کروانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، ایس ایس پی سی آئی ڈی فوٹو فائل

JACOBABAD: ابتدائی تفتیش کے مطابق نارتھ ناظم آباد میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر بم دھماکے میں کالعدم لشکری جھنگوی ملوث ہے ۔

ایک سال قبل بھی رینجرز پر پے درپے حملوں میں اسی تنظیم کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے خودکش بمبار کے چہرے کے علاوہ تقریباً تمام اعضا مل گئے ، خود کش بمبار کا ڈی این اے کروانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، ایس ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان نے ایکسپریس کو بتایا کہ دھماکے میں کالعدم لشکر جھنگوی نعیم بخاری گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے تاہم واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں ، ڈی این اے اس لاش کا ہوتا ہے جس کا کوئی دعویٰ دار موجود ہے، خود کش بمبارکے ڈی این ایکو میچ کرنے کے لیے بھی ایک ایسا شخص چاہیے جس سے اس کا خونی رشتہ ہو ۔

کالعدم لشکری جھنگوی سے تعلق رکھنے والا نعیم بخاری اس سے قبل بھی شہر میں دہشت گردی کی متعدد وارداتوں اور رینجرز پر حملوں میں ملوث ہے ،40 سے 45 سالہ نعیم بخاری کا آبائی تعلق سکھر سے ہے جبکہ یہ کالعدم القاعدہ کا اہم رکن بھی ہے، انھوں نے بتایا کہ نعیم بخاری سکھر سے کراچی آگیا تھا اور ناظم آباد پاپوشنگر میں رہائش اختیار کی تھی ، کراچی یونیورسٹی میں پنجابی مجاہدین کے نام سے اپنا ایک گروپ بنایا تھا تربیت حاصل کرنے وزیرستان چلا گیا تھا جہاں اس نے کالعدم لشکر جھنگوی میں شمولیت اختیار، کراچی میں متعدد ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں میں بھی ملوث ہے ان دنوں کراچی میں طالبان کے لیے کام کر رہا تھا۔