لاہور:
اسلام پورہ کی حدود میں فلیٹ سے لڑکی کی لاش ملنے کا واقعہ نیا رخ اختیار کر گیا، ارشم مقصود کی موت خودکشی قرار دینے کے بعد قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
مقدمہ ارشم مقصود کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
مدعی مقدمہ کے مطابق مقتولہ ارشم نے کچھ عرصہ قبل اکیڈمی کے ٹیچر سے پسند کی شادی کی لیکن ملزم اکرم پہلے سے شادی شدہ تھا، اکرم نے لڑکی کو والدین کے گھر کے قریب فلیٹ کرائے پر لے کر دیا۔
والد کے مطابق ارشم اور اکرم کے درمیان جھگڑا رہتا تھا، اکرم اور اس کی پہلی بیوی ارشم کو پریشان کرتے تھے۔ شوہر اکرم نے ہی میری بیٹی کو قتل کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے، حالات اور واقعات خودکشی کی نشاندہی کرتے تھے تاہم معاملے کی جامع تفتیش کرکے حقائق سامنے لائے جائیں گے۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق اسلام پورہ میں خاتون ارشم مقصود کی 4 ستمبر کو فلیٹ سے پھندا لگی لاش برآمد ہوئی اور ابتدائی طور پر واقعہ خودکشی کا معلوم ہوا، جس پر پولیس نے تمام پہلوؤں سے تحقیقات شروع کیں۔ پولیس نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا۔
پولیس نے نامزد ملزم اکرم سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا، پولیس نے واقعے کی تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔ زیر حراست افراد کے واقعے میں ممکنہ کردار کا تعین شواہد کی روشنی میں کیا جا رہا ہے۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو موصول ہوگئی، جسے تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ، موقع سے ملنے والے شواہد اور دیگر حقائق کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
ترجمان کے مطابق خاتون کی موت خودکشی تھی یا کسی اور پہلو کا شاخسانہ، پولیس مختلف زاویوں سے جانچ کر رہی ہے، تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین اور شواہد کی روشنی میں حتمی نتیجے تک پہنچا جائے گا۔