ڈھٹائی تکبر اور جھوٹ کی سیاست
ملک کے نوجوانوں میں سیاستدانوں سے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ ملک کے نوجوانوں میں سیاستدانوں سے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور باور کرایا جا رہا ہے کہ سیاستدان بدترین انسان ہیں، تو کیا کرپشن سیاستدان ہی کرتے ہیں، بیوروکریسی کرپشن نہیں کرتی۔
میاں صاحب کا یہ کہنا اہمیت کا حامل ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ کرپشن بیوروکریسی میں بھی بہت ہے بلکہ بیوروکریسی ہی کرپشن سکھانے میں سیاستدانوں کی استاد ہے اور وہ خود جو کرپشن کرتی ہے وہ اس قدر کامیابی سے کرتی ہے جو پکڑی نہیں جاتی جب کہ کرپشن سے ناواقف سیاستدان خاص کر نئے سیاستدان بیورو کریٹس کے کہنے میں آ جاتے ہیں اور اپنی کرپشن کا کوئی نہ کوئی ثبوت چھوڑ جاتے ہیں اور بیورو کریٹس اپنی ہوشیاری سے نہ صرف بچ جاتے ہیں بلکہ حکومت بدل جانے یا کرپٹ سیاستدان کے سرکاری عہدے سے فارغ ہونے کے بعد سیاستدانوں کی کرپشن کی نشاندہی کر کے انھیں پھنسانے میں پیچھے نہیں رہتے اور خود کو صاف بچا لیتے ہیں۔
سیاستدان ڈھٹائی، تکبر اور جھوٹ پہ جھوٹ بول کر خود کو مسٹر کلین ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سیاستدانوں کی بدقسمتی تو یہ ہے کہ ان کی کرپشن کی تحقیقات سرکاری افسران ہی کرتے ہیں۔
نیب ہو یا ایف آئی اے یا صوبوں کے احتساب کمیشن ہوں یا اینٹی کرپشن کے صوبائی محکمے ان میں فرشتے نہیں بیوروکریٹس ہی ہوتے ہیں اور پولیس کی طرح اپنے لوگوں کا خیال ضرور رکھتے ہیں جب کہ سیاستدان ہمیشہ ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے میں خود ہی آگے آگے ہوتے ہیں۔ سیاستدانوں کے لیے مشہور ہے کہ وہ کروڑوں روپے خرچہ کر کے ہی حکومت اور اسمبلیوں میں آتے ہیں اور انھیں اپنے اخراجات نکالنے کے لیے بیوروکریسی سے ہی مدد لینا پڑتی ہے اور اپنے لوگوں کو نوازنے کے لیے غیر قانونی کام بھی کرنا پڑتے ہیں اور یہ غیر قانونی کام بیورو کریسی کی ملی بھگت سے ہی ممکن ہوتے ہیں۔
اس لیے انھیں بیوروکریسی کی ہر بات ماننا پڑتی ہے اور بعد میں ان بیوروکریٹس کے ہاتھوں بلیک میل اور ذلیل بھی ہونا پڑتا ہے۔ غیر قانونی کاموں میں بیوروکریٹس تحریری طور پر انتہائی محتاط رہتے ہیں کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ انھیں اپنی مقررہ مدت تک سرکاری ملازمت میں رہنا ہے جب کہ سیاستدانوں کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ دوبارہ بھی حکومت میں آتے ہیں یا نہیں۔ اس لیے بیورو کریٹس سیاستدانوں کے کہنے پر جو کام کرتے ہیں اس میں اپنا بچاؤ تحریری طور پر بھی کر جاتے ہیں اور اپنے ایسے نوٹ لگاتے ہیں جو سیاستدان سمجھ نہیں سکتے اور اپنے ماتحت سرکاری افسروں کے کہنے پر سرکاری کاغذات پر دستخط کر دیتے ہیں جو بعد میں ان کے پھنسنے کی راہ کھولتے ہیں۔
نو منتخب لوگوں کو وہ بلدیاتی اداروں کے ہوں یا اسمبلیوں کے ان کا واسطہ بیوروکریسی سے ہی پڑتا ہے جس کا راقم کو بھی تجربہ ہے۔ جب راقم بلدیہ شکارپور کے کونسلر کی حیثیت سے اہم مشینری کی خریداری کے لیے چیئرمین بلدیہ اور چیف میونسپل افسر کے ہمراہ کراچی آیا تھا اور ہمیں بلدیہ کے لیے ٹریکٹر خریدنا تھا اور ایسی خریداری کا راقم اور چیئرمین کو کوئی تجربہ نہیں تھا اس لیے سی ایم او ہی آگے تھا جنھوں نے ٹریکٹر کمپنی سے معاملہ طے کر کے موقعہ ملتے ہی راقم سے کہا کہ یہ ٹریکٹر خرید لیتے ہیں.
جس کی خریداری پر خاموش رہیں تو میں بعد میں آپ کو حصے کی رقم دے دی جائے گی جس کا ذکر راقم نے موقعہ ملتے ہی اپنے چیئرمین سے کر دیا اور کہا کہ سی ایم او کے کہنے پر تو یہ ٹریکٹر کسی حالت میں نہیں خریدنا اور وہ نہیں خریدا گیا جس کی خریداری کی وکالت سی ایم او نے بہت کی مگر ان کی نہیں چلنے دی گئی اس کی وجہ یہ تھی کہ بلدیہ کے چیئرمین ایماندار اور شریف آدمی تھے اور سرکاری خریداری میں کمیشن لینے کے خلاف تھے۔
بلدیاتی انتخابات سے قبل سرکاری ایڈمنسٹریٹر ہوا کرتے تھے اور ایک شریف ایڈمنسٹریٹر تھے جنھوں نے راقم سے کہا تھا کہ ہم کوئی کرپشن نہ بھی کریں تو سرکاری کاموں ہی میں گھر بیٹھے معقول کمیشن مل جاتا ہے اور ہاتھ بھی صاف رہتے ہیں۔
سیاستدان کرپشن سرکاری افسران سے ملے بغیر کر ہی نہیں سکتے جب کہ سرکاری افسر ایسا ہر کام اپنے ہاتھ پاؤں بچا کر کرتے ہیں اس لیے وہ اکثر بچ جاتے ہیں اور پھنس منتخب لوگ جاتے ہیں۔
سرکاری عہدے پر آ کر منتخب لوگ عوامی سطح پر خود کو عقل کل سمجھنے لگتے ہیں اور پھنسنے کے بعد بھی ڈھٹائی اور جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اور پھنسنے کے بعد ہاتھ پاؤں بچانے کے لیے بہت مارتے ہیں کیونکہ انھوں نے یہ بھی سن رکھا ہے کہ لے کے رشوت پھنس گیا تو دے کر رشوت چھوٹ جا۔ کرپٹ لوگوں سے سرکاری مال نکلوانے کے لیے نیب نے پلی بارگیننگ کا اصول وضع کر رکھا ہے جو کسی طرح بھی قانونی اور اصولی نہیں ہے کہ کوئی اربوں روپے کھا جائے اور اس سے دو چار کروڑ دے کر چھوٹ جانے کی بارگیننگ کر لی جائے تا کہ نیب کو وصول ہونے والی رقم سے اس کے افسروں کو 25 فیصد حصہ مل جائے اور نیب فخریہ طور پر اپنی کارکردگی بھی ظاہر کر دے۔
کے پی کے کے سابق وزیر اعلیٰ کے سابق مشیر کی معصومیت دیکھیں جن پر اربوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے اور وہ بچنے کے لیے پونے تین کروڑ روپے واپس کرنے کو بھی تیار ہیں اور نیب کے نہ ماننے پر انھوں نے خودکشی کی بھی کوشش کی اور ناکامی پر ان کا کہنا ہے کہ پونے تین کروڑ لے کر بھی نیب انھیں چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے کی یہ معصومیت نہیں بلکہ ڈھٹائی ہے۔ اس ملک میں ایسے سیاستدان بھی ہیں جو کرپشن میں مشہور ہیں مگر وہ خود کو فرشتہ سمجھتے ہیں اور اگر ان کے خلاف سرکاری کارروائی ہو تو وہ حکومت پر انتقامی کارروائی کا الزام لگانے میں دیر نہیں کرتے۔
ایک غریب سیاسی کارکن نے ایک پارٹی کا رکن اسمبلی بننے کے بعد کسی طرح وزارت حاصل کر لی تھی مگر ان کی حکومت بعد میں کرپشن کے الزام میں برطرف ہو گئی تو نئی حکومت میں ان کی کرپشن کی خبریں شایع ہونے کے بعد وہ خود ایک روز اینٹی کرپشن والوں کے دفتر پہنچ گئے اور باہر وی(V) کے نشان کے ساتھ فوٹو بنوا کر ان کا دعویٰ تھا کہ ثبوت ہے تو مجھے پکڑ لو۔ ان سابق وزیر سے کسی سرکاری محکمے نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ غریب سے اتنے امیر کیسے ہو گئے ہیں۔
کسی کرپٹ سیاستدان کو پکڑنے کے لیے اس کے ماضی کا حال اور موجودہ ٹھاٹ باٹھ کیا اس کی کرپشن کا واضح ثبوت نہیں ہو سکتے کہ اس کے پاس مال کہاں سے آ گیا۔ ہر سیاستدان کو اس کے حلقے کے لوگ بہتر طور پر جانتے ہیں کہ حکومت میں آنے سے قبل وہ کیا تھا اور اب کیا ہے۔
سرکاری افسر اور کرپٹ سیاستدان اپنے نام پر جائیداد نہیں خریدتے مگر شاہانہ زندگی گزارتے ہیں اور فخریہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میرے پاس تو اپنی کار بھی نہیں ہے بیٹے کی کار میں سفر کرتا ہوں اس سے بڑھ کر ڈھٹائی کیا ہو سکتی ہے۔ عوام دیکھتے ہیں کہ ملک بھر میں کرپشن کا شور ہے اور اپنے کرپٹ سیاستدانوں کے جھوٹ اور تکبر پر حیران ہیں کیونکہ وہ کچھ نہیں کر سکتے اور یہاں تک کہ ایسے سیاستدانوں سے نفرت بھی نہیں کرتے اور ایسے میں چیئرمین سینیٹ کا بیان انھیں مزید حیران کر دیتا ہے کہ کتنے معصوم ہیں یہ۔