برما کے مسلمانوں کی نسل کشی قابل مذمت ہے محنتی

جماعت اسلامی کے تحت برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ.


Staff Reporter November 10, 2012
جماعت اسلامی کے تحت برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ. فوٹو: ایکسپریس

جماعت اسلامی کراچی کے امیرمحمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ برما کے مسلمانوں کی نسل کشی اقوامِ متحدہ،عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

اقلیتوں کے حقوق کیلیے آواز بلند کرنے والے برما کی مسلم اقلیت کیلیے آواز بلند کیوں نہیں کرتے ،اگر مشرقی تیمور،سوڈان کا مسئلہ ہوتوریفرنڈم کرایا جاتا ہے مگر مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا، حکومت برما میں مسلمانوں کے قتل عام پر سفیر کوطلب کرکے احتجاج کرے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے برما کے مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف جمعے کو جماعت اسلامی کے تحت منائے جانے والے یومِ احتجاج کے سلسلے میں کراچی پریس کلب پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مظاہرے میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی، محمد حسین محنتی نے خطاب میں مزید کہا کہ برماکے مسلمانوں کا بے دریغ خون بہایا جارہا ہے اور دنیا کاکوئی ادارہ اس پرآواز بلند کرنے کو تیار نہیں، پوری دنیا میں سب سے زیادہ برما کے مسلمان بے یارو مدد گار ہیں اقوام متحدہ امن کا ادارہ ہے لیکن برما کے مسئلے پر خاموش ہے۔

اگر مشرقی تیمور،سوڈان کا مسئلہ ہوتوریفرنڈم کرایا جاتا ہے مگر مسلمانوں کے مسائلحل کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا، انھوں نے کہا کہ بر ما کی اپوزیشن لیڈر آنگ سان سوچی نے بھی مسلم دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے برما کے مسلمانوں کی شہریت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے،مولانا ظفر آزاد نے کہا کہ بر ما میں ظلم و ستم کی نئی تاریخ رقم کی جارہی ہے مگر اقوام متحدہ خاموش تماشائی ہے،مولانا طاہر اراکانی نے کہا کہ برما میں ہونیوالے پر تشدد واقعات میں7ہزار افراد شہید کیے جا چکے ہیں،مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے،نورحسین اراکانی نے کہا کہ بر ما کے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنا ہم سب کی ذمے داری ہے،مفتی ظل الرحمن نے کہا کہ آج برما میں مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے مگر ہم خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔