پی سی بی میں مشیروں کی فوج کس کام کی چیئرمین کو سوچنا ہوگا
پاکستان نے عالمی ٹائٹلز ملکی کوچز کی نگرانی میں ہی جیتے پھرغیر ملکی کوچز کو بھاری معاوضوں پر رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔
چیئرمین پی سی بی کے قریبی ساتھی ان کے لئے مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں۔ فوٹو : فائل
رچرڈ نکسن امریکہ کی تاریخ کا ذہین ترین صدر تھا، اس کا آئی کیو لیول 70ء کی دہائی کے تمام صدور سے زیادہ تھا اور افغانستان سے کیوبا اور پولینڈ سے سائبیریا تک دنیا کے تمام ایشوز اس کی فنگر ٹپس پر تھے۔
نکسن پروفیسر صدر بھی کہلاتا تھا لیکن خداداد صلاحیتوں کے مالک اس صدر کے دور میں واٹر گیٹ سکینڈل آیا اور اسے اڑھائی برس بعد ہی وائٹ ہائوس کو خیر باد کہنا پڑا۔کسی نے نکسن سے پوچھا، آپ اتنے سمجھ دار، عقلمند اور پڑھے لکھے سیاستدان تھے لیکن آپ کی حکومت اڑھائی سال ہی میں ختم ہو گئی، آخر اس کی وجہ کیا تھی، رچرڈ نکسن نے حسرت بھری نگاہوں سے فضا میں دیکھا اور افسردہ انداز میں جواب دیا، مشیروں کی وجہ سے ، میرے مشیر ناتجربہ کار، جلد بازاور مفاد پرست تھے، چنانچہ میرا اقتدار بھی گیا، عزت بھی اور ساکھ بھی۔
پاکستان کے مشیر بھی اس لحاظ سے خاصے سیانے اور عقلمند ہیں کہ یہ اپنے باس کو تو ''بلیدان'' چڑھا دیتے ہیں لیکن اپنے مفادات پر کسی طور پر بھی حرف نہیں آنے دیتے جس کی زندہ اور واضح مثال پاکستان کرکٹ بورڈ کی ہے جس میں سالہا سال سے پرکشش عہدوں پر ایسے ملازمین بیٹھے ہیں، جن کے غلط فیصلوں کی وجہ سے نہ جانے کرکٹ بورڈ کے کتنے سربراہان گھروں کی راہ لے چکے ہیں لیکن بورڈ کے ان ماہر اور شاطر مشیروں نے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ملبہ خود کی بجائے سابق چیئرمینوں پر ڈال کر اپنا دامن بچا لیا اور نئے آنے والے چیئرمین کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے رام کر لیا۔ پی سی بی کے یہ مشیر ہر وہ کام کر گزرتے ہیں جن میں ان کا فائدہ ہو۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میں ساڑھے 4 کروڑ کی بائیو میکنکس لیب این سی اے میں پڑی پڑی خراب ہو رہی ہے، اس کو بھی پاکستان میں لانے کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔
واقفین حال کا کہنا ہے کہ بورڈ کے سابق سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف کے دور میں بورڈ کے4 اعلی عہدیدار قذافی سٹیڈیم کے وی آئی پی کمرے میں بیٹھ کر گپ شپ لگانے میں مصروف تھے کہ کسی نے آسٹریلیا دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا، دوسرے عہدیداروں نے پہلے کی ہاں میں ہاں ملائی، اب اگلا سوال یہ تھا کہ کینگروز کے دیس جانے کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے ، چنانچہ اس کے لئے ایک تدبیر یہ نکالی گئی کہ بائیو میکنکس لیب دیکھنے کے بہانے سیر کرلی جائے حالانکہ چاروں میں سے کوئی ایک بھی مذکورہ ٹیکنالوجی میں ماہر نہ تھا، وفد سیر سپاٹے کے بعد خالی ہاتھ وطن لوٹا، بعد ازاں بائیو مکینکس لیب انگلینڈ سے منگوائی گئی۔
ماضی کی طرح موجودہ دور میں بھی پاکستان میں نت نئے تجربات کا سلسلہ جاری ہے۔ وقار یونس نے خرابی صحت کی وجہ سے کوچنگ سے معذرت کی تو پی سی بی کے مشیروں نے نئے چیئرمین بورڈ ذکاء اشرف کو غیر ملکی کوچز کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ دیاحالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ باہر سے آئے ہوئے کوچز کبھی بھی گرین شرٹس کوکوئی بڑی کامیابی نہیں دلا سکی۔ باب وولمر کی کوچنگ میں تو پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کے پہلے ہی رائونڈ سے باہر ہو گئی تھی۔ طویل طریقہ کار کے بعد آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر ڈیو واٹمور کا چیف کوچ جبکہ جولین فائونٹین کا بطورفیلڈنگ کوچ کا تقرر کیا گیا۔ اوول ٹیسٹ تنازعہ کے بعد شکست خوردہ ٹیم کی قیادت مصباح الحق نے سنبھالی تو انہوں نے قائدانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر گرین شرٹس کو مسلسل6 سیریز میں کامیابی دلا دی ،ان بڑی کامیابیوں کے باوجود نئے غیر ملکی کوچ نے نیا تجربہ کرتے ہوئے مصباح الحق کو ٹوئنٹی 20 کرکٹ سے ہی باہر کر دیا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم نے اب تک 2 عالمی کپ کے ٹائٹلز اپنے نام کئے ہیں۔1992ء کے ورلڈ کپ میں سابق کپتان انتخاب عالم ٹیم کے کوچ اور منیجر تھے، یونس خان کی قیادت میں گرین شرٹس نے ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ جیتا تو بھی کوچ انتخاب عالم ہی تھے، اسی طرح پاکستان نے تمام بڑی سیریز اور بڑے عالمی ٹائٹلز ملکی کوچز کی نگرانی میں ہی جیتے اس کے باوجود پینل آف کوچز کی شکل میں غیر ملکی کوچز کو بھاری معاوضوں پر رکھنے کی آخر کیا ضرورت ہے۔ ڈیو واٹمور کو چیف کوچ بناتے وقت موقف یہ اختیار کیا گیا کہ واٹمور کے ہوتے ہوئے ٹیم کو بیٹنگ کوچ کی ضرورت نہیں ہے ، ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستانی بیٹنگ لائن اپ ناکام ہوئی تو بیٹنگ کوچ کی بھی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے اور اس کے لئے ایک اشتہار بھی دے دیا گیا ہے۔
اس سے قبل اسی طرز کا اشتہار بولنگ کوچ کے لئے بھی دیا گیا لیکن تمام تر شرائط اور قوانین کو کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف 9 ٹیسٹ کھیلنے والے پیسر محمد اکرم کوبولنگ کوچ کی ذمہ داری سونپ دی گئی، محمد اکرم کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹوئنٹی 20ورلڈ کپ کے دوران بیٹنگ کی طرح ہماری فاسٹ بولنگ لائن بھی بری طرح ناکام رہی، یہی حال فیلڈنگ کوچ جولین فائونٹین کی کارکردگی کا بھی رہا۔
سری لنکا میں شیڈول ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران ہی بورڈ کے سابق ٹیسٹ کرکٹرملازمین کو ٹیلی ویژن اور اخبارات میں ماہرانہ رائے دینے سے روک دیا گیا جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے موجودہ اور سابق کپتانوں سمیت متعددکھلاڑی ملکی اور غیر ملکی ٹی وی چینلز پر تبصرے کرتے رہے۔ بورڈ ہی کے ایک اعلی عہدیدار معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کمرشل شوٹ کرتے دکھائی دیئے اورکوئی ان کا بال بھی بیکا نہ کر سکا۔ پی سی بی کی اس دوغلی پالیسی سے بورڈ میں موجود سابق ٹیسٹ کرکٹرز میں غم و غصہ کی فضا پیدا کی جا رہی ہے، ان ٹیسٹ کرکٹرز کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ملک وقوم کی خدمت کرتے گزارا ہے، انہیں شوکاز نوٹسز جاری کرنے اور پیشی کے نام پر اس طرح ذلیل کیا جاتا ہے جیسے ان سے کوئی بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہو۔
ریورس سوئنگ کے موجد سرفراز نواز بے بیباک گفتگو کرنے میں ثانی نہیں رکھتے، ان کوخاموش کروانے کے لئے اب پی سی بی کے ہی ملازم ٹیسٹ کرکٹرز کے ذریعے میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے۔ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے پی سی بی کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے اس حوالے سے بورڈ کی طرف سے پاکستان پریمیئر لیگ کروائے جانے کا پلان ہے جس کے مارچ میں کروائے جانے کا امکان ہے، تجویز اس حوالے سے مناسب دکھائی نہیں دیتی کیونکہ اسی دوران قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن متوقع ہیں۔اگر پریمیئر لیگ اور ملکی انتخابات کی تاریخیں گڈ مڈہو گئیں تو سوچنے کی بات ہے کہ سکیورٹی ایجنسیاں غیر ملکی کھلاڑیوں کو سکیورٹی فراہم کریں گی یا ملکی انتخابات کروائیں گی، اس پر بھی پی سی بی کو سوچنا ہوگا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ پاکستان کے پانچ بڑے عہدوں صدر مملکت،وزیر اعظم چیف جسٹس سپریم کورٹ، چیف آف آرمی سٹاف اور وزیر خارجہ کے بعد ملک کا سب سے بڑا عہدہ ہے، چیئرمین پی سی بی جہاں جاتا ہے اسے وی آئی پی پروٹوکول ملتا ہے۔وہ بولتا ہے تو اس کی بات ٹیلی ویژن کی بریکنگ نیوز بنتی اور اخبارات کی شہہ سرخیوں میں جگہ پاتی ہے۔وہ بیرون ملک جاتا ہے تو اسے سربراہ مملکت کے برابر پروٹوکول ملتا ہے۔
اربوں روپے کا فنڈز اس کے صوابدید پر ہوتا ہے۔کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے کرکٹرز اس کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں تو پھرکیوں نہ ہرکوئی اس عہدہ پر رہنے کی تمنا کرے۔ بلاشبہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیئرمین ذکاء اشرف خداداد صلاحیتوں کے مالک اورکامیاب بزنس مین ہیں، زیڈ ٹی بی ایل کے سربراہ بنائے گئے تو خسارے میں جانے والے بینک کو منافع بخش ادارہ بنا دیا، ان کی نیک نیتی اور ایمانداری پر بھی کسی کو کوئی شک نہیں ہے تاہم ان کی اگلی صفوں میں موجود ان کے قریبی ساتھی ان کے لئے مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں، جناب چیئرمین ارسطو نے سکندر اعظم کو ایتھنز سے رخصت کرتے وقت کہا تھا کہ کہ یاد رکھنا کبھی کسی بے وقوف، مفاد پرست اور ناکام شخص کو اپنا مشیر نہ بنانا اور آپ کے مشیروں کی کابینہ میں تو اسے مفاد پرستوں کی کمی نہیں۔یہ ایسے مشیر ہیں جو شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کو ایران کے کیلنڈر کو ایک ہزار 36 برس آگے کرنے کا مشورہ بھی دیں گے اور ایک گھنٹہ بند رہنے والی گھڑی کو ٹھیک کرنے کی بجائے ساڑھے 3 کروڑ عوام کی گھڑیاں پیچھے کر دینے کی صلاح بھی دیں گے۔
ایسے مشیر محمد شاہ رنگیلا جیسے حکمرانوں کی کارستانیوںپر بھی ''واہ واہ'' کرتے ہیں اور جب برا وقت آ جائے تو ایسے آنکھیں پھیرتے ہیں جیسے جانتے ہی نہ ہوں۔ جناب چیئرمین کرکٹ شائقین آپ کو کامیاب بزنس مین، زیڈ ٹی بی ایل کے کامیاب چیئرمین کی طرح پی سی بی کا بھی مثالی سربراہ دیکھنا چاہتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ امریکی صدر نکسن، شاہ ایران اور محمد شاہ رنگیلا کی تاریخ آپ کے ساتھ بھی دہرائی جائے، کامیابی کی نئی منزلوں اور نئی راہوں کے حصول کے لئے آپ کو اپنے کان اور آنکھیں دونوں کھلے رکھنے ہوں گے۔