بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم 11 ماہ بعد ٹیسٹ میں حصہ لے گی

ویسٹ انڈیز کیخلاف خودکوذہنی طور پردوسرے فارمیٹ میں ڈھالنا ہوگا،تمیم اقبال


Sports Desk November 11, 2012
ویسٹ انڈیز سے سیریز کا ابتدائی معرکہ منگل سے شیر بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوگا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم 11 ماہ بعد ٹیسٹ میں حصہ لے گی،ویسٹ انڈیز سے سیریز کا ابتدائی معرکہ منگل سے شیر بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوگا۔

اوپنر تمیم اقبال پانچ روزہ کرکٹ سے اتنی طویل دوری کو ٹیم کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اچھی نہیں، ہم کافی عرصے بعد ٹیسٹ میں واپس آرہے ہیں، سیریز کے دوران ہمیں خود کو ذہنی طور پر ایک سے دوسرے فارمیٹ میں ڈھالنا ہوگا، اگرہم تواتر سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے تو سوال صرف ہم آہنگ ہونے کا ہوتا، بنگلہ دیش نے پانچ ٹیسٹ گذشتہ برس کھیلے جس میں ایک ڈرا ہوا اور چار میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، یہ 2010 کے مقابلے میں ٹیم کی بہتر کارکردگی کہی جاسکتی ہے جب وہ تمام ساتوں ٹیسٹ ہارگئی تھی، 2010 میں تمیم نے تین سنچریاں بنائی اور 2011 میں بھی ان کی انفرادی کارکردگی بہتر رہی، بیشتر بنگلہ دیشی پلیئرز کو محدود اوورز سے طویل دورانیے کی کرکٹ میں ڈھلنے میں دشواری کا سامنا رہا تھا، تمیم رواں سیزن میں بھی بہترین کارکردگی پیش کرنے کیلیے پُرعزم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پر پلیئر انفرادی طور پر اپنی کارکردگی کو بہتر بناسکتا ہے، اگر کوئی اس انداز میں سوچتا ہے کہ میں سال یا 6ماہ بعد ٹیسٹ کھیل رہا ہوں تو اس کی پرفارمنس اسی کے مطابق ہوگی، لیکن اگرآپ مختلف سوچ اپنا کر یہ فیصلہ کرلیں کہ میں ذہنی طور پر اس چیلنج کیلیے تیار ہوں توبہتر پرفارم کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،انھوں نے مزید کہا کہ اگر آپ پروفیشنل کرکٹر ہوں اوردوبرس ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے بعد ٹوئنٹی 20 میں آئیں تو آف اسٹمپ سے باہر جاتی ہوئی گیندوں کو خالی چھوڑنا نہیں چاہیں گے، بالکل اسی طرح جب آپ ٹوئنٹی 20 سے ٹیسٹ کرکٹ میں آئیں گے تو اس کے مطابق اسٹروکس کا انتخاب کرنا چاہیے، تمیم نے مزید کہاکہ پلیئرز کومواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، اچھا پرفارم کرنے پر ہمیں طویل دورانیے کی کرکٹ کھیلنے کے مزید چانسز ملیں گے۔