آٹو انڈسٹری نے نئی پالیسی پر سخت تحفظات کو مایوس کن قرار دیدیا

کئی سال سے پالیسی کے منتظر تھے،ترغیبات وسہولتیں نئے سرمایہ کاروں کو دی گئیں،ممشاد علی


Kashif Hussain March 22, 2016
کئی سال سے پالیسی کے منتظر تھے،ترغیبات وسہولتیں نئے سرمایہ کاروں کو دی گئیں،ممشاد علی فوٹو: فائل

آٹو انڈسٹری نے حکومت کی جانب سے 4سال کی تاخیر کے بعد جاری کی جانے والی آٹو پالیسی پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پالیسی کو موجودہ سرمایہ کاروں کے لیے مایوس کن قرار دے دیا ہے۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز کے چیئرمین ممشاد علی نے پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مقامی انڈسٹری کئی سال سے پالیسی کی منتظر تھی، پالیسی کے ذریعے آٹو سیکٹر کی ترقی اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے موجودہ اسمبلرز اور پارٹس مینوفیکچررز کو مراعات فراہم کرنے کے بجائے تمام ترغیبات اور سہولتیں نئے سرمایہ کاروں کو دی گئی ہیں۔

چین، بھارت، تھائی لینڈ، کوریا اور انڈونیشیا جیسے ملکوں میں آٹو پالیسی کو سرمایہ کاری، حکومتی محصولات میں اضافے، پیداواری گنجائش بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بطور عمل انگیز استعمال کیا گیا، وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے 2018تک معاشی ترقی کی شرح نمو 7فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا ہے تاہم اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے 18مارچ کو منظور کی جانے والی آٹو پالیسی جی ڈی پی کے اس مطلوبہ ہدف سے مطابقت نہیں رکھتی اور 7فیصد جی ڈی پی کے ہدف کو آسان بنانے کے لیے موثر کردار ادا کرنے کی خصوصیات سے عاری ہے۔

پاکستان میں اس وقت دنیا کی 10سرفہرست کمپنیوں میں شامل 4آٹو اسمبلرز گاڑیاں تیار کر رہے ہیں جو 70فیصد مقامی پرزہ جات پر مشتمل ہیں، اس کے ساتھ پرزہ جات بنانے والی 3ہزار کمپنیاں 30لاکھ افراد کو بالواسطہ اور براہ راست روزگار فراہم کر رہی ہیں، آٹو سیکٹر مکمل طور دستاویزی معیشت کا حصہ ہے، یہ شعبہ ٹیکسوں کی ادائیگی اور بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) میں اضافے کے لحاظ سے پاکستان کے 3سرفہرست شعبوں میں شامل ہے۔

معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے، غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ اوربڑے پیمانے پر روزگار کی فراہمی کے لیے آٹو انڈسٹری کی سرپرستی اور حکومتی سپورٹ کی فراہمی سے بہتر کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ممشاد علی نے حیرت کا اظہار کیا کہ نجکاری کمیشن کے سربراہ اور ای سی سی کے ڈپٹی کنوینر محمد زبیر 2013سے آٹو پالیسی کی تشکیل کے لیے فعال رہے۔

محمد زبیر اور انڈسٹری کے نمائندوں کے درمیان بہت سے ملاقاتیں ہوئیں اور انہوں نے انڈسٹری کی صلاحیتوں کے بارے میں براہ راست معلومات کے حصول کیلیے سال 2015اور 2016کے آٹو شوز میں بھی خصوصی شرکت کی تاہم آخری وقت میں آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے کا بیڑہ سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین مفتاح اسماعیل نے اٹھالیا جو کبھی بھی انڈسٹری سے کی جانے والی مشاورت کا حصہ نہیں رہے اور نہ ہی زمینی حقائق یا مقامی آٹو سیکٹر کی صلاحیتوں کا ادراک رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں پرزہ جات بنانے والی کمپنیاں حکومت کو نئے پروجیکٹس اور توسیعی منصوبوں، نئے پلانٹس و گاڑیوں کے نئے ماڈلز متعارف کرانے کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کی نئی سرمایہ کاری کے بارے میں پیشگی آگاہ کرچکی ہیں، ان منصوبوں کے پیش نظر وزیر خزانہ اسحق ڈار سے انڈسٹری کے لیے 3 بنیادی سہولتوں کی درخواست کی گئی تھی جن میں درآمدی پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے کمپنیوں کو اسپیشل اکنامک زون کی مراعات اور سہولتوں کی فراہمی، موجودہ اسمبلرز کی جانب سے نئے گرین فیلڈ منصوبوں پر سرمایہ کاری کو 2سال تک نئی کمپنیوں جیسی مراعات اور سہولتوں کی فراہمی اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے خصوصی اسکیموں کے غلط استعمال کی روک تھام اور گاڑیوں کی ایج لمٹ میں بتدریج کمی شامل ہیں۔

سال 2015کے دوران 45ہزار استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی گئی جن کی مجموعی مالیت 67ارب روپے سے زائد ہے، اگر اتنی ہی گاڑیاں مقامی سطح پر تیار کی جاتیں تو روزگار کے 1لاکھ 43ہزار نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے تھے۔

مقبول خبریں