بلدیاتی انتخابات

سندھ اور پنجاب میں سپریم کورٹ کے حکم پر کرائے جانے والے بلدیاتی انتخابات کو چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے


Muhammad Saeed Arain March 23, 2016

لاہور: سندھ اور پنجاب میں سپریم کورٹ کے حکم پر کرائے جانے والے بلدیاتی انتخابات کو چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، جس کے بعد یہ بلدیاتی انتخابات ایک ادھورا خواب بلکہ مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ جس عدالتی حکم پر ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے تھے، اب نچلی سطح پر منتخب نمایندے سپریم کورٹ کے فیصلے کے منتظر ہیں، جہاں سماعت 10 مارچ کو غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی، جس پر عوام حیران بھی ہوئے تھے کیونکہ سندھ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، جس کے فیصلے کی امید پر حلف اٹھا لینے والے بلدیاتی نمایندے ہی نہیں، انھیں ووٹ دینے والے بھی منتظر ہیں۔

خود کو جمہوری کہلانے والی صوبائی حکومتوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر نہ چاہتے ہوئے عدالتی حکم کی تعمیل میں جو بلدیاتی انتخابات کرائے وہ ایک مذاق اور عوام کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف تھے، کیونکہ ایسے بلدیاتی انتخابات کا مذاق تو آمر کہلانے والی تین فوجی حکومتوں میں بھی نہیں کیا گیا تھا۔ موجودہ بلدیاتی انتخابات کرانے کا سہرا تو مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بڑے فخر سے اپنے سر سجا رہی ہیں، مگر وہ یہ بھول گئیں کہ ایسے شرمناک بلدیاتی انتخابات تو آمریت کے دور میں بھی نہیں ہوئے تھے اور فوجی حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات کرا کر منتخب نمایندوں سے حلف برداری کے بعد انھیں چارج دینے میں بھی تاخیر نہیں کی تھی اور بلدیاتی نمایندوں نے بلاتاخیر کام شروع کر دیے تھے۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کو اپنے دو فوجی جنرلوں پر ہی نہیں، بلکہ نام نہاد جمہوری حکومتوں میں بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ اب کے دور کے ضلعی نظام میں بلدیاتی اداروں کو جو اختیارات ملے تھے وہ جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق سمیت کسی جمہوری حکومت میں بھی نہیں ملے تھے جو ایک ریکارڈ ہیں۔

ضلعی نظام جیسے اختیارات کا تو اب بلدیاتی نمایندے تصور بھی نہیں کر سکتے، کیونکہ چاروں صوبائی حکومتوں نے اپنے اختیارات استعمال کر کے بلدیاتی اداروں کے تمام اختیارات سلب کر لیے ہیں اور بلدیاتی سربراہوں کو اپنے رحم و کرم پر چھوڑ کر بے اختیار اور اپنا محتاج کر دیا ہے۔ ان بے اختیار بلدیاتی اداروں کو کے پی کے حکومت اختیارات دے رہی ہے نہ بلوچستان کی حکومت کہ جہاں میئرز اور چیئرمین تو منتخب ہو چکے ہیں، مگر وہ اپنے ادارے چلانے کے لیے فنڈز اور اختیارات سے محروم رہ کر احتجاج کر رہے ہیں جب کہ سندھ اور پنجاب کی حکومتیں میئروں، ضلعی چیئرمینوں اور تعلقہ و تحصیل کونسلوں کے چیئرمینوں کا انتخاب نہیں کرانا چاہتیں اور سپریم کورٹ کی حکم امتناعی سے ان کی خواہشیں پوری ہو گئی ہیں۔

دو ماہ قبل راقم نے اپنے کالم بلدیاتی نظام، سب حکومتیں ایک میں لکھا تھا کہ مارچ میں بھی بلدیاتی سربراہوں کے انتخابات کا کوئی امکان نہیں اور اپریل سے نئے بجٹ بننا شروع ہو جائیں گے اور سرکاری ایڈمنسٹریٹر جاری مالی سال کے بجٹ اپنی مرضی سے استعمال کر کے مئی جون میں منتخب ہونے والے بلدیاتی سربراہوں پر کروڑوں اور اربوں روپے کے قرضے ورثے میں دے کر جائیں گے اور لاکھوں روپے رشوت دے کر تقرریاں حاصل کرنے والے سرکاری ایڈمنسٹریٹر ٹھیکیداروں سے اپنا کمیشن مکمل وصول کر کے ہی چارج نو منتخب بلدیاتی سربراہوں کے حوالے کریں گے اور منتخب نمایندے سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے۔

گزشتہ 6 سال سے ملک بھر کے بلدیاتی اداروں پر وہاں کے وزرائے بلدیات نے اپنے من پسند ایڈمنسٹریٹر مقرر کر کے اپنے کارکنوں کی سیاسی بھرتیاں کرائی تھیں، جس کی وجہ سے ملک بھر کے بلدیاتی اداروں میں مقررہ تعداد سے زیادہ عملہ بھرا ہوا ہے، جنھیں تنخواہوں کی ادائیگی مسئلہ بنا ہوا ہے اور سندھ میں تو حالت کئی سال سے خراب ہے اور بلدیاتی ملازمین کئی کئی ماہ گزر چکنے کے بعد بھی تنخواہوں سے محروم رہ کر احتجاج کرتے آ رہے ہیں۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کی 2008ء میں آنے والی جس حکومت نے اپنے پانچ سال پورے کیے تھے، ان پانچ سال میں آصف علی زرداری کے دست راست آغا سراج درانی بااثر و مکمل بااختیار وزیر بلدیات تھے اور مالی بحران ان کے دور ہی میں پیدا ہو گیا تھا، جب کہ سندھ میں پی پی کی موجودہ حکومت کو ابھی تین سال بھی پورے نہیں ہوئے مگر چار وزیر بلدیات تبدیل ہو چکے ہیں۔ 2013ء میں مختصر وقت کے لیے اولین مظفر وزیر بلدیات بنائے گئے پھر شرجیل میمن آئے، جن کے بعد وزیراعلیٰ کے پاس چارج رہا پھر دو تین ماہ کے لیے ناصر شاہ وزیر بلدیات بنائے گئے جو 8 سال تک سکھر کے ضلعی ناظم بھی رہے تھے پھر ان کی جگہ جام خان شورو وزیر بلدیات بنائے گئے جو دیکھیں کب تک رہتے ہیں۔

حیرت اور افسوس ان نام نہاد جمہوری حکومتوں پر ہے جو ارکان اسمبلی کی خواہش پر بلدیاتی انتخابات کے خلاف ہیں اور اپنی مرضی کے سرکاری ایڈمنسٹریٹروں کو بلدیاتی انتخابات کے بعد بھی برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ سندھ اور پنجاب کی حکومتیں منتخب بلدیاتی سربراہوں کے انتخاب کے لیے ہی تیار نہیں ہیں اور الیکشن کمیشن بھی ان حکومتوں کے اشاروں پر چل رہا ہے۔ یہ شرمناک مثال بھی موجود ہے کہ بلوچستان میں بھی بلدیاتی سربراہوں کے انتخابات ایک سال سے زائد عرصے تک نہیں کرائے گئے۔

جمہوری کہلانے والی صوبائی حکومتیں اٹھارویں ترمیم کے بعد خود کو ملکی آئین سے بالاتر سمجھنے لگی ہیں۔ چاروں صوبائی حکومتوں نے 6 سال تک بلدیاتی انتخابات نہ کرا کر آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور انھوں نے مجبور ہوکر سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات کرا کر من پسند نتائج بھی حاصل کر لیے مگر وہ بلدیاتی سربراہوں کے انتخاب میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جا کر جان بوجھ کر مزید تاخیر کرا رہی ہیں اور اب تو سپریم کورٹ بھی بلدیاتی سربراہوں کا انتخاب روک چکی ہے۔

جس سے منتخب بلدیاتی نمایندے اور پریشان ہیں۔ عوام تو توقع کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ چھ سال تک بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کی کھلی آئین شکنی پر چاروں صوبائی حکومتوں کے خلاف کارروائی کرے گی، مگر ایسا نہ ہوا اور سپریم کورٹ کا حکم امتناعی سندھ و پنجاب کی حکومتوں کو مزید تاخیر کا سبب بن رہا ہے۔

سرکاری ایڈمنسٹریٹروں کی تقرریاں لاکھوں روپے کی رشوت پر ہوتی ہیں اور بلدیاتی اداروں کے فنڈز ایڈمنسٹریٹروں کے ذریعے صوبائی حکومتیں اپنی مرضی سے خرچ کرتی ہیں اور اسی لیے بلدیاتی انتخابات ہو جانے کے بعد بھی بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے انتخابات نہیں کرائے جا رہے۔ بلدیاتی ایڈمنسٹریٹر بھی خوش ہیں اور اپنی دی ہوئی رقم بھرپور منافع کے ساتھ وصول کر رہے ہیں اور انھوں نے ارکان اسمبلی کو بھی خوش رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بلدیاتی سربراہوں کے انتخابات کرانے کی بات آج تک نہیں ہوئی اور بلدیاتی انتخابات عوام کے لیے خواب اور بلدیاتی نمایندوں کے لیے مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔

مقبول خبریں