پلُوں کا شہر کوالالمپور

کوالالمپور دنیا کے جدید شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں رکشوں اور پرانی کھٹارا بسوں کا کوئی وجود نہیں۔


Muhammad Saeed Arain November 11, 2012

KARACHI: برادر مسلم ملک ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپورکا شمار اب دنیا کے اہم تفریحی مقامات میں ہوتا ہے اور ایک مسلم ملک کا دارالحکومت کسی یورپی اور ماڈرن ملکوں کے شہروں جیسا ہے۔

اکتوبر کے پہلے عشرے میں جب ہمیں تین روز کے لیے کوالالمپور میں ٹھہرنے اور وہاں کے تفریحی مقامات دیکھنے کا پہلی بار موقع ملا ہمیں تین روز میں دھوپ کی بجائے بارشیں ہی بارشیں دیکھنے کو ملیں اور گرمی بھی محسوس نہیں ہوئی۔ سرسبز اس خوبصورت شہر کی آبادی ایک کروڑ 62 لاکھ ہے جس کے ایئرپورٹ جانے والے راستے پر ملائیشیا کے دارالحکومت کا علاقہ پتراجائیکا واقع ہے جہاں پرائم منسٹر سیکریٹریٹ ، ایوان وزیر اعظم سپریم کورٹ سمیت تمام مرکزی وزارتوں اور سرکاری محکموں کے دفاتر موجود ہیں، اسی علاقے میں دنیا کی بڑی اور مشہور مساجد میں شمار کی جانیوالی پترا جائیکا مسجد ہے جو انتہائی خوبصورت ہے، پترا جائیکا میں خوبصورت عمارتیں اور پارک دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ علاقہ اسلام آباد سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے جسے دیکھنے کے لیے ملائیشیا آنے والے دنیا بھر کے سیاح ضرور آتے ہیں اور اس علاقے کی خوبصورتی سے متاثر ہوتے ہیں ۔

کوالالمپور دنیا کے جدید شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں رکشوں اور پرانی کھٹارا بسوں کا کوئی وجود نہیں اور مختلف رنگوں کی ٹیکسیاں بآسانی دستیاب ہیں اور شہر میں سفر کے لیے اونچائی پر چلنے والی میٹرو ٹرین دن بھر اور رات گئے چلتی نظر آتی ہے۔ ان میٹرو ٹرینوں میں روزانہ لاکھوں افراد سفر کرتے ہیں جن کی آمد و رفت کے لیے شہر بھر میں اونچائی پر ہی اسٹیشن بنائے گئے ہیں، دبئی میں تو تین ڈبوں کی میٹرو ٹرین کہیں اونچائی پر اور کہیں زیر زمین چلتی ہیں مگر کوالالمپورمیں چلنے والی ایک بوگی کی میٹرو ٹرین اونچائی پر بنائے گئے خصوصی ٹریک پر ہی چلتی ہے ۔ ملائیشیا تفریح کے لیے آنے والوں کو ایئرپورٹ پر مختلف ٹوور ٹریولنگ ایجنٹوں سے واسطہ پڑتا ہے جن کے ذریعے پیکیج لے کر کوالالمپورسمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گھوما جا سکتا ہے مگر اکثر ایجنٹ پیکیج پر عمل نہیں کرتے اور رقم وصول کرکے سیاحوں کو پریشان کرتے ہیں اور مقررہ پیکیج کے مطابق تمام مقامات نہیں دکھاتے اور زیادہ وقت میں کم تفریحی مقامات دکھاکر اپنی بچت کے چکر میں رہتے ہیں اور طے شدہ گاڑیاں بمشکل ہی فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان میں لوگ ایوان صدر اور وزیر اعظم کے سامنے سے ہی نہیں گزر سکتے جب کہ کوالالمپورمیں ملائیشیا کے بادشاہ کاکنگ پیلس اہم تفریح گاہ ہے، جہاں مرکزی گیٹ پر آکر سیاح تصاویر بناتے ہیں، مرکزی گیٹ کے دونوں طرف سفید اور سیاہ گھوڑوں پر بیٹھے جوان وہاں موجود ہوتے ہیں اور گیٹ پر موجود سرکاری اہلکار خوش اخلاقی سے سیاحوں کے ساتھ تصویر بناتے ہیں جب کہ ایسے مقامات پر ہمارے یہاں سرکاری اہلکاروں کی رعونت سے اکڑی گردنیں دیکھ کر ہمارے ہم وطن بھی ان سے دور رہنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔

کوالالمپورکے ایک مقام پر بدھ کا بہت بڑا سنہری مجسمہ نصب ہے جس کے برابر میں 285 سیڑھیاں طے کرکے اوپر بدھ مت کے مذہبی مقامات پر بھی جایا جاسکتا ہے وہاں جانے کے لیے کوئی لفٹ نہیں ہوتی۔

ملائیشیا آنے والے کوالالمپور میں کیل ٹاور اور ٹوئن ٹاور ضرور دیکھنے آتے ہیں، کیل ٹاور کے اوپر لفٹ کے ذریعے جا کر شہر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے مگر وہاں جانے کے لیے 35 رنگٹ کا ٹکٹ لینا پڑتا ہے جو پاکستان کے حساب سے ایک ہزار ایک سو دو روپے بنتے ہیں مگر غیر ملکی سیاح ایک اونچے مقام پر بنائے گئے کیل ٹاور ضرور آتے ہیں جب کہ سلور کلر میں بنے ٹوئن ٹاور سے کافی آگے آکر سیاح تصاویر بناتے ہیں اور ان کے عقب میں ٹوئن ٹاور نمایاں ہوتا ہے ۔ کوالالمپورکا ایک تفریحی مقام یادگار شہدا ہے جہاں اونچے مقام پر فوجی جوانوں کے مجسمے نصب ہیں جن میں ایک کے ہاتھ میں قومی پرچم ہے اور دوسرے اپنے زخمی ساتھی کو سنبھالتے نظر آتے ہیں، اس کے علاوہ شہر میں بڑے خوبصورت پارک اور دیگر تفریحی مقامات بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ملائیشیا کے تین شہروں میں ہمیں بازاروں اور دکانوں پر لگے چھوٹے بڑے قومی پرچم بھی بڑی تعداد میں نظر آئے، لنکاوی میں سرکاری گاڑی کو سڑک کے وسط میں لگے پولز سے قومی پرچم احترام سے اتارتے بھی دیکھا جب کہ پاکستان میں یوم آزادی پر قومی پرچم لگا کر لوگ اور بلدیہ عظمیٰ کراچی انھیںاتروانا بھول جاتی ہے اور گرمی اور دھوپ میں ہمارے قومی پرچم کے پھٹ کر چیتھرے چیتھرے ہوکر خود ہی ختم ہوجاتے ہیں اور ہم اپنی آنکھوں سے اپنے قومی پرچم کی پامالی دیکھتے رہتے ہیں۔ کوالالمپورانٹرنیشنل ایئرپورٹ خوبصورت اور ایسی عمارت پر مشتمل ہے جہاں سے باہر کے نظارے بھی نظر آتے ہیں ، انٹرنیشنل فلائٹس کے مسافروں کو ایک ٹرین کے ذریعے لائونچ تک لایا لے جایا جاتا ہے اور ایئرپورٹ پر دن رات غیر ملکوں کے ہوائی جہاز مختصر وقفے سے لینڈنگ اور ٹیک آف کرتے ہیں جب کہ پاکستان میں غیر ملکی ایئرلائنز بہت ہی کم رہ گئی ہیں۔

کوالالمپورکا رقبہ 243 کلومیٹر 94 مربع میل ہے جہاں پلوں کا جال پھیلا ہوا ہے ، ایک فلائی اوور سے اترتے ہی دوسرا شروع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام نہیں ہوتا، ٹریفک قوانین کا احترام کیا جاتا ہے، 1999ء میں تمام بڑے سرکاری دفاتر اور وزارتیں پترا جائیکا منتقل ہوگئی تھیں، کوالالمپور میں قائم بڑے خوبصورت شاپنگ مالز میں رات گئے کاروبار جاری رہتا ہے اور یہ شہر عالمی کھیلوں کا اہم مرکز ہے جب کہ صنعتیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں اور خوبصورت سڑکوں کے جال بچھے ہوئے ہیں اور رات کو روشن ہونے والی مختلف روشنیاں دلفریب منظر پیش کرتی ہیں اور یہاں لوگ لوڈ شیڈنگ کے نام سے بھی آشنا نہیں ہیں۔

مقبول خبریں