مہنگائی اور بدلتے ہوئے رجحانات شادی بیاہ میں بینڈ باجے کی روایت دم توڑ گئی

بینڈ باجےبجاکرشادی بیاہ کی خوشیوں کو دوبالا کرنے والے فنکارفاقہ کشی کا شکار،پیشےسے وابستہ افراد محنت مزدوری کرنے لگے.


Kashif Hussain November 12, 2012
بینڈ باجےبجاکرشادی بیاہ کی خوشیوں کو دوبالا کرنے والے فنکارفاقہ کشی کا شکار،پیشےسے وابستہ افراد محنت مزدوری کرنے لگے. فوٹو : محمدنعمان / ایکسپریس

مہنگائی کے سبب بدلتے ہوئے رجحانات نے ایک اور حسین روایت نگل لی ہے۔

شادی بیاہ میں بینڈ باجے کی روایت دم توڑ چکی ہے اور نسل در نسل اس فن کی منتقلی کا عمل رک گیا ہے، بینڈ باجے بجاکر شادی بیاہ کی خوشیوں کو دوبالا کرنے والے فنکار فاقہ کشی کا شکار ہیں، رہی سہی کسر شہر میں جاری بدامنی نے پوری کردی،کلف دار وردیوں، چمچماتے ڈھول باجوں کے ہمراہ بارات کے آگے خوشیوں کی دھنیں بکھیرنے والی درجنوں کمپنیاں اور بینڈ گروپ حالات کا شکار ہوکر اس شعبے سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں اور اس پیشے سے وابستہ افراد کیلیے محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا، کراچی میں بینڈ باجا کمپنیوں کا مرکز سمجھا جانے والا گارڈن کے ایم سی مارکیٹ کی بالائی منزل پر واقع ہے۔

جہاں 2درجن کے قریب بینڈ کمپنیوں کے دفاتر واقع ہیں،90کی دہائی کے خاتمے سے قبل شادی بیاہ میں بینڈ باجے کی روایت زور پر تھی ایک بینڈ گروپ میں 10 سے 12افراد شامل ہوتے ہیں جنھیں ایک پروگرام میں مشکل سے 300سے 400روپے مل جاتے ہیں، پائپ بینڈ گروپ 3000سے 4000روپے فی پروگرام لیتے ہیں جبکہ تانبے کے باجوں پر مشتمل براس بینڈ گروپ 6000سے 7000روپے میں پروگرام کرتے ہیں، پائپ گروپ میں زیادہ تر پائپ اور مختلف قسم کے ڈرم اور ڈھول شامل ہوتے ہیں جبکہ براس بینڈ پیتل کے بنے ہوئے بڑے بیس، براس، کارنیٹ، پیتل کی چھوٹی شنہائیاں اور ٹرم پٹ شامل ہیں۔

مقبول خبریں