دہرے بلدیاتی نظام سے سندھ کا مستقبل خطرے میں ہے ممتاز بھٹو

حکومت کراچی و سندھ میں امن قائم نہیں کر سکتی تو مستعفی ہو جائے ، میڈیا سے گفتگو


Numainda Express November 12, 2012
نئے بلدیاتی نظام کی واپسی تک حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے، ڈاکٹر قادر مگسی۔ فوٹو : شاہد علی / ایکسپریس

مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما و سابق و زیر اعلیٰ سندھ سردار ممتاز علی بھٹو نے کہا ہے کہ اگر حکومت کراچی سمیت سندھ میں امن قائم نہیں کرسکتی تو ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہو جائے ۔

وہ حیدرآباد میں ایس ٹی پی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ ملاقات میں نون لیگ کے انجینیئر ایوب شر، ایس ٹی پی کے حیدر شاہانی، مظفر کلہوڑو اور دیگر رہنما بھی شریک تھے۔ دونوں رہنماؤں نے دہرے بلدیاتی نظام کے خلاف جدوجہد تیز کرنے پر اتفاق بھی کیا۔ ممتاز بھٹو نے کہا کہ وفاق اور سندھ میں اس وقت ان لوگوںکی حکمرانی ہے جو خود کو سندھی کہلاتے ہیں لیکن وہ سندھ اور سندھی عوام سے مخلص نہیں ،نئے بلدیاتی نظام سے سندھ کا مستقبل خطرے میںہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن قائم کرنے کا کوئی نسخہ نہیں ہوتا، کراچی اور دیگر شہریوں میں ڈبل سواری پر پابندی لگا کر امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔

حکومت میں اتنی اہلیت نہیں کہ وہ جرائم پیشہ عناصر پر اپنا خوف بٹھا سکے، اگر کراچی کا امن خراب کرنے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے تو حکومت اسے بے نقاب کر کے کاٹ کیوں نہیں دیتی۔ ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام کی صورت میں سندھ میں سیاسی ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، یہ سیاسی مسئلہ ہے جوکہ عدالتوں میں درخواستیں دینے یا عرضداشتیں پیش کرنے سے حل نہیں ہوسکتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم پرستوں کی کوشش ہے کہ بلدیاتی نظام کے خلاف عوامی جدوجہد اور غم وغصے کو ووٹ کی طاقت میں تبدیل کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ ہم حکومت سے بلدیاتی نظام کے حوالے سے صرف اسی صورت بات کریں گے جب حکومت یہ بل واپس لے۔