شہری کے قتل میں ملوث رینجرز اہلکاروں کی سزا کیخلاف اپیل التوا کا شکار

وکلائے صفائی قانونی موشگافیوں کا فائدہ اٹھانے کیلیے سماعت ملتوی کرارہے ہیں، اپیلوں کا فیصلہ فوری ہونا چاہیے،وکیل مدعی.


Staff Reporter November 12, 2012
رینجرز اہلکار سرفراز شاہ کو گولی کا نشانہ بنارہے ہیں،ملزمان نے سزا کیخلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے (فائل فوٹو)

شہری کے قتل میں ملوث رینجرز اہلکاروںکو پھانسی اور عمرقید کی سزا کے تاریخی فیصلے کے خلاف ملزمان کی اپیل طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے۔

تاہم مدعی مقدمہ کے وکیل کا موقف ہے کہ وکلائے صفائی ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت اس اپیل کی سماعت کوملتوی کرارہے ہیں تاکہ 2سال کی مدت میں اپیل کا فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں ملزمان قانونی بنیادوں پر خود بخود ضمانت کے حقدار ہوجائیں گے، مدعی سالک شاہ نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بھائی سرفراز شاہ کی ہلاکت کے الزام میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت 01نے 12 اگست 2011 کو رینجرز اہلکار شاہد ظفر کو پھانسی جبکہ دیگر اہلکاروں محمد افضل، بہا الدین ، لیاقت علی ، محمد طارق ا ور منٹھارکو عمر قیدکی سزا سنائی تھی ، ان 6 رینجرز اہلکاروں کے علاوہ ایک سویلین افسر خان کو بھی عمرقیدکی سزا سنائی تھی۔

ملزمان نے ایک ہفتے کے اندر ہی 17اگست کو اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائرکردی ،سالک شاہ کے مطابق رینجرز اہلکار جن عہدوں پر فائز تھے ان کی تنخواہ اتنی نہیں تھی کہ وہ شہرکے ممتاز اور فوجداری قوانین کے ان مہنگے ماہرین کی خدمات حاصل کرسکتے جن کی خدمات انھوں نے حاصل کی ہیں، سالک شاہ کے مطابق یہ ملکی عدالتی نظام کی کمزوری ہے یا ملزمان کے وکلا کی بہتر حکمت عملی کہ ان کے بھائی کے قتل کے ملزمان کی اپیل کی سماعت بمشکل 4/5مرتبہ سماعت کے لیے بینچ کے سامنے آئی تاہم ملزمان کے 4وکلا میں سے کبھی ایک کبھی دوسرا حاضر نہیں ہوتے۔

جس کے باعث اپیل کی سماعت نہیں ہوپا تی ،آخری بار اکتوبر 2012 کو بھی ایسا ہی ہوا ہے ، مدعی کے وکیل جاوید چھتاری ایڈووکیٹ نے بتایاکہ ملزمان کی اپیل کی سماعت نہ ہونے سے ہمارا ایک نقصان تو یہ ہے کہ ہماری اپیل کی بھی سماعت نہیں ہوپاتی، ہم نے بھی 5 رینجرز اہلکاروں اور سویلین افسرخانکی عمرقید کی سزا کو پھانسی میں تبدیل کرنے کی اپیل دائر کی ہوئی ہے۔

دوسرا یہ کہ قانون کے مطابق اگر کسی اپیل کا فیصلہ دو سال کی مدت میں نہ ہوسکے تو ملزمان مقدمے کے حقائق سے قطع نظر خود بخود ضمانت پر رہائی کے مستحق ہوجاتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ملزمان کے وکلا کی منصوبہ بندی ہے کہ معاملے کو ہر ممکن طریقے سے التوا کا شکار کیا جائے تاکہ ملک بھر بالخصوص عوام اور میڈیا اس واقعے کو بھول جا ئے اور وہ قانونی موشگافیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے موکلوں کے حق میں صورتحال تبدیل کرسکیں، انھوں نے کہا کہ ہم بلاوجہ کسی کو قید میں رکھنے کے خواہشمند نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کے حصول کے لیے عدالت آئے ہوئے ہیں،اس لیے ہماری خواہش ہے کہ اپیلوں کا فیصلہ فوری اور میرٹ پر ہو۔