پاکستانی ویمن کرکٹ ٹیم کی شکست لیکن …

افسوس ناک امر یہ ہےکہ خواتین کی پذیرائی نہ توحکومتی سطح پر ہوتی ہےنہ ہی انھیں اتنے فنڈز اور سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں


Editorial March 28, 2016
خواتین کھلاڑیوں کی مناسب کوچنگ اور عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے وافر فنڈز فراہم کیے جائیں۔ فوٹو : کرک انفو

ویمنز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے اہم ترین میچ میں پاکستانی ویمن ٹیم انگلش ٹیم سے شکست کھا کر سیریز سے باہر ہوگئی لیکن اختتامی لیگ میچ میں ناکامی سے قطع نظر گرین شرٹس نے مجموعی طور پر عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کر کے شائقین کرکٹ کے دل جیت لیے جو یقیناً قابل ستائش ہے۔

پاکستان کی مایہ ناز خواتین کھلاڑیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر نہ صرف کرکٹ بلکہ دیگر کھیلوں میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی ہیں، بشرطیکہ انھیں مواقعے فراہم کیے جائیں۔ پاکستانی خواتین کو جب بھی موقع ملا انھوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام سرخرو کیا ہے، ماضی میں کوہ پیما ثمینہ بیگ، ایتھلیٹ نسیم حمید، سائیکلسٹ سدرہ صدف ، بیڈمنٹن اسٹار پلوشہ بشیر، اسکائنگ میں عرفانہ ولی آمنہ ولی ،ایتھلیٹ غزالہ سلیمان، فٹ بالر حاجرہ خان، اسکوائش اسٹار مارریہ طور، ویٹ لفٹر ٹونکل سہیل، تیراک رباب رضا سمیت کرن بلوچ، کارلا خان، رابعہ قادر، شبانہ اختراور دیگر اسپورٹ ویمن اسٹار نے ہر میدان میں خود کو ثابت کیا ہے۔

لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ خواتین کی پذیرائی نہ تو حکومتی سطح پر ہوتی ہے نہ ہی انھیں اتنے فنڈز اور سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں جس کی وہ مستحق ہیں۔ یہ وہ کوتاہی ہے جس کے باعث ہماری خواتین کھلاڑی محض اپنے بل بوتے پر محنت کررہی ہیں۔ صائب ہوگا کہ تمام کھیلوں میں خواتین کو بھی مرد ٹیموں کے برابر توجہ دی جائے اور عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے سپورٹ کیا جائے۔

ویمنز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ایونٹ کے پہلے میچ میں گرین شرٹس نے ویسٹ انڈین ٹیم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، تاہم سنسنی خیز مقابلے کے بعد انھیں 4 رنز سے ناکامی ہوئی، اس کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف کامیابی قومی ٹیم کا مقدر بنی۔ بھارت کے خلاف فتح نے پوری قوم کی توجہ خواتین کرکٹ کی جانب کھینچ لی۔ ویمنز ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں شریک پاکستانی بیٹس ویمن سدرہ امین مجموعی طور پر 99 رنز بنا کر ملکی پلیئر میں سب سے نمایاں رہیں، بسمہ معروف نے چاروں میچز میں شرکت کرتے ہوئے 76 رنز، جب کہ اسماویہ اقبال اور ناہیدہ خان نے 39، 39 رنز بنائے، کپتان ثنا میر اور منیبہ علی کی کارکردگی بھی شاندار رہی۔ بولنگ میں اسپنر انعیم امین نے 7 وکٹیں اپنے نام کیں، جس میں ان کی بہترین کاوش 16 رنز کے عوض 4 شکار شامل ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال گزشتہ سے قبل خواتین ٹیمیں اپنے بل بوتے پر میچز میں شرکت کرتی تھیں اور انھیں کسی قسم کے کنٹریکٹ میں بھی شامل نہیں کیا جاتا تھا، نیز خواتین پلیئرز کا معاوضہ اب بھی نہایت قلیل ہے۔ مناسب ہوگا کہ خواتین کھلاڑیوں کی حکومتی سطح پر دادرسی کی جائے، ملکی سطح پر ان کی کوچنگ اور لیگ چیمپئن شپس منعقد کی جائیں ۔خواتین کھلاڑیوں کی مناسب کوچنگ اور عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے وافر فنڈز فراہم کیے جائیں۔

مقبول خبریں