بجلی کے عذاب
ملک گزشتہ کئی برس سے بجلی کی قلت کے شدید بحران میں مبتلا ہے
ISLAMABAD:
ملک گزشتہ کئی برس سے بجلی کی قلت کے شدید بحران میں مبتلا ہے اور ملک کے عوام بجلی کے جس عذاب سے گزر رہے ہیں، اس سے صرف وہ لوگ ہی واقف ہیں جن کے پاس جنریٹر اور یو پی ایس کی سہولت نہیں ہے اور رہے حکمران انھوں نے تو اس سلسلے میں معمولی تکلیف بھی نہیں اٹھائی کیونکہ ان کے لیے تو لوڈ شیڈنگ ہے ہی نہیں۔
حکمرانوں کے علاقے چونکہ وی وی آئی پی علاقے ہیں جو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں۔ حکمران اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل کر عوام میں تو جاتے نہیں اور انھیں اگر کبھی عوامی اجتماعات اور سرکاری تقریبات میں جانا ہو تو بجلی کی ممکنہ خرابی سے بھی بچنے کے لیے وہاں بھاری جنریٹرز پہلے ہی منگوا لیے جاتے ہیں تا کہ حکمرانوں کو نہ پسینہ آئے نہ ان کے لیے لگائے گئے لاؤڈ اسپیکرز خراب ہوں۔
پیپلزپارٹی کی گزشتہ حکومت نے اپنے پانچ سالوں کی مدت تو ضرور پوری کر لی مگر ملک و قوم کے اس اہم مسئلے کے حل پر توجہ نہیں دی اور باہر سے بجلی کے ایسے ناقص اور مہنگے پلانٹس ضرور منگوائے جن سے عوام کو تو کیا فائدہ ہونا تھا یہ سارا فائدہ ان سابق وزیر اور متعلقہ افسروں کو کمیشن کی صورت میں ملا اور ملک کے سابق وزیر اعظم راجہ رینٹل پاور ضرور کہلائے۔
پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے بجلی پیدا نہ کر کے عوام سے اپنے کیے کی سزا پائی اور موجودہ حکمران عام انتخابات کے دوران عوام کو بجلی کا بحران ختم کرانے کے لیے مختلف تاریخیں دیتے رہے اور اپنے اقتدار کے پونے تین سالوں میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ کرا سکے اور اب 2018ء تک بجلی کا بحران ختم کرانے کی امید دلا رہے ہیں اور انھوں نے پی پی کے مقابلے میں اس اہم مسئلے کے حل اور بجلی کی پیداوار بڑھانے پر توجہ ضرور دی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں گرمیوں کا چوتھا موسم شروع ہو چکا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کچھ کمی ضرور آئی ہے مگر ان کے دور کے سردیوں کے تینوں سالوں میں شدید سردی میں بھی لوڈشیڈنگ جاری رہی اور بجلی کے کم استعمال کے باوجود عوام کو بجلی نہیں ملی۔
عوام کو حکمرانوں کے وعدوں پر تو اعتبار نہیں کہ وہ اپنی بقایا مدت میں اپنے وعدے پر مکمل عمل کرا دیں گے لیکن توقع ضرور ہے کہ یہ اہم مسئلہ کسی حد تک حکومت حل کرا دے گی وگرنہ انھیں بھی پیپلز پارٹی کی عبرتناک صورتحال جیسا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ عوام انتخابات میں اپنا غصہ ضرور نکالتے ہیں اور حکومت عوامی جذبات سے آگاہ ضرور ہے اور اسی لیے سنجیدہ کوشش ضرور کرے گی۔
ایک زمانے میں ملک کے دیہات تک بجلی پہنچائی گئی اور اس وقت کی حکومتوں میں بڑے اشتہار چلے کہ میرے گاؤں میں بجلی آئی ہے۔ بجلی نہ ہونے سے گاؤں کو تو کیا بجلی ملنی ہے لوڈشیڈنگ نے تو شہروں کو بھی تاریک کر رکھا ہے اور ملک کے دیہات کو تو بمشکل چار پانچ گھنٹوں کی بجلی میسر ہے اور دیہات میں رہنے والی اکثریتی آبادی بجلی نہ ہونے کے عذاب میں مبتلا ہے۔
ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق مارچ کے آخری دنوں میں دن گرم ہوا تو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بعض علاقوں میں لوڈشیڈنگ آٹھ سے دس گھنٹوں تک پہنچی ہے اور کے الیکٹرک کی آزاد ریاست میں عدلیہ سمیت حکومت بے بس ہے اور کوئی کے الیکٹرک سے نہیں پوچھ رہا کہ کے ای ایس سی کی نجکاری کے وقت بجلی کی پیداوار بڑھانے کا جو معاہدہ ہوا تھا اس پر عمل کیوں نہیں کیا جا رہا۔ کے الیکٹرک فیول کے ذریعے بجلی پیدا کیوں نہیں کر رہا۔
گزشتہ سال کے الیکٹرک کی وجہ سے کراچی میں گرمی سے سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے تھے اور ملک میں کے الیکٹرک کے خلاف بڑا احتجاج ہوا تھا مگر پی پی حکومت کی طرح مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بھی کے الیکٹرک کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیا کیونکہ دونوں پارٹیوں کو عرب ممالک سے ملنے والے مفادات عوام سے زیادہ عزیز ہیں اور وہ کے الیکٹرک کے مالکوں کی ناراضگی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
حکومت نے واپڈا کو ختم کر کے کراچی سے باہر حیسکو، کیسکو، میسکو، لیسکو، پیسکو و دیگر ناموں سے کمپنیاں بنا دی تھیں، جو وزارت بجلی کے ماتحت ہیں اور ہاں صورتحال کے الیکٹرک کے مقابلے میں پھر بھی بہتر ہے کیونکہ بجلی کی شکایات، میٹروں کی خرابی اور خاص طور پر اوور بلنگ کی شنوائی ہو جاتی ہے کیونکہ وہاں کے الیکٹرک جیسی بادشاہت نہیں ہے جب کہ کے الیکٹرک کے جان بوجھ کر بھیجے گئے اضافی بل حرف آخر ہوتے ہیں۔
جہاں ایسے بلوں کی درستگی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ قسطیں کر دی جاتی ہیں اور ہر صارف کے الیکٹرک کے نزدیک چور ہے اور بجلی کی چوری میں ملوث کے الیکٹرک کا عملہ فرشتہ ہے جس سے کوئی غلطی نہیں ہو سکتی اور کے الیکٹرک کے صارفین کی اکثریت اضافی بلنگ کا عذاب مسلسل بھگت رہی ہے جس کے خلاف شنوائی ملک میں تو ناممکن ہو چکی ہے اور صارفین کی اعلیٰ عدالتوں کو بھیجی گئی درخواستیں بھی اثر نہیں دکھا سکیں حالانکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور جج صاحبان کراچی میں خود کے الیکٹرک کی حشر سامانیاں دیکھ چکے ہیں اور سوموٹو نوٹس اب ممکن نہیں رہے۔
واپڈا کے ملازمین نجکاری کی حکومتی کوشش کو مسلسل ناکام بناتے آ رہے ہیں اور حکومت کوشش کے باوجود ناکام ہے کیونکہ واپڈا کی تمام مزدور تنظیمیں متحد اور نجکاری کے خلاف ہیں جب کہ کے الیکٹرک انتظامیہ اپنی مزدور یونینوں کو مکمل بے اثر بنا چکی ہے۔
بجلی کے معاملات کے لیے حکومت نے اپنا سرکاری ادارہ نیپرا بنا رکھا ہے جو کے الیکٹرک سمیت دیگر بجلی کمپنیوں کے نرخوں میں کمی و بیشی کے علاوہ ان کے خلاف شکایات کا نیپرا سرکاری بجلی کے اداروں سے زیادہ خیال رکھتا ہے کیونکہ سرکاری اداروں کے افسران خود کھاتے ہیں اور دوسروں کو نہیں کھلاتے جب کہ کے الیکٹرک نیپرا کا ہر طرح خیال رکھتا ہے اور نیپرا سے مفادات حاصل کرتا ہے۔ نیپرا جب بھی بجلی کے نرخوں میں کمی کر کے عوام کے مفاد میں فیصلہ کرتا ہے تو اس کے عوامی مفاد کے فیصلے کا اطلاق کے الیکٹرک پر نہیں ہوتا تا کہ اسے کوئی نقصان نہ ہو جب کہ نرخ بڑھاتے وقت کے الیکٹرک پر نیپرا کے فیصلے کا فوری اطلاق ہوتا ہے۔ نیپرا کے الیکٹرک کے خلاف دکھانے کے لیے عوامی شکایتیں بھی سنتا ہے مگر فیصلہ کے الیکٹرک ہی کے حق میں اکثر ہوتا ہے۔
گزشتہ سال گرمی سے کراچی میں ہلاکتوں کے الزام میں نیپرا نے کے الیکٹرک پر صرف ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا ہے جس پر پیپلز پارٹی کراچی نے صرف ایک کروڑ جرمانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کے الیکٹرک کی نااہلی سے گرمی سے جاں بحق ہونے والوں کو معاوضہ دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کے الیکٹرک حسب سابق اس جرمانے کے خلاف عدالت سے حکم امتناعی لے لے گا اور جرمانے سے بھی بچ جائے گا۔
بجلی کے معاملے میں حکومت دہری پالیسی پر عمل پیرا ہے اور بجلی کے صارفین لوڈشیڈنگ کے ساتھ اضافی بلنگ کا بھی عذاب بھگت رہے ہیں اور اضافی بلنگ کی شکایات سب سے زیادہ کے الیکٹرک کے خلاف ہیں جہاں ایک سال بعد بھی بل باقاعدگی سے ادا کرنے والوں کے نئے بلوں میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ بقایاجات کے بل بھیجے گئے ہیں جو من مانے اور غیر قانونی ہیں۔ اگر بقایاجات تھے تو کے الیکٹرک کیوں خاموش تھا مگر حکومت، عدلیہ اور نیپرا کی یہ خاموشی مزید عذاب بن کر رہ گئی ہے۔