ناسا کی طاقتور ترین خلائی دوربین کیپلر کے سگنل بند ہوگئے

خلائی دوربین کو مارچ 2009 خلا میں روانہ کیا گیا جس نے اپنا مشن 2012 میں مکمل کیا، ناسا


ویب ڈیسک April 12, 2016
خلائی دوربین کو مارچ 2009 خلا میں روانہ کیا گیا جس نے اپنا مشن 2012 میں مکمل کیا، ناسا، فوٹو؛ فائل

لاہور: آسمان کی وسعتوں کی تفصیلات سے آگاہی کوئی آسان کام نہیں اس کے لیے ناسا کروڑوں ڈالر خرچ کرتا ہے اور ایسے ہی ایک خلائی دوربین کو لاکھوں ڈالر لگا کر خلا میں بھیجا گیا لیکن 7 سال بعد ہی اس سے سگنل آنا بند ہوگئے ہیں جس کے بعد ناسا نے ہنگامی طور پر اس کے بحالی کا کام شروع کردیا ہے۔

زمین سے 7 کروڑ 50 میل دور سے سائنس دانوں کو 5 ہزار سے زائد سیاروں سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی طاقتور ترین خلائی دوربین کیپلر سے سنگنل آنا بند ہوگئے ہیں جس نے ناسا کے سائنس دانوں کو پریشان کردیا ہے۔ ناسا کے مطابق آخری بار کیپلر سے رابطہ 4 اپریل کو ہوا تھا جس کے بعد سے وہ ایمرجنسی موڈ میں چلی گئی ہے جب کہ سائنس دانوں نے اس کی دوبارہ بحالی پر تیزی سے کام بھی شروع کردیا ہے۔ سائنس دانوں نے کہکشاں کے کروڑوں ستاروں میں ایک نئے سیارے کی تلاش کا کام کپلر کے ذمہ کیا تھا اور وہ پر امید تھے کہ وہ نظام شمسی کے باہر ایک اور سیارے کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن اچانک اس میں آنے والی خرابی نے انہیں پریشان کردیا ہے۔

ناسا نے 60 کروڑ ڈالر سے کیلپرنامی اس خلائی دوربین کو تیار کرکے مارچ 2009 خلا میں روانہ کیا اور اس نے اپنا ابتدائی مشن 2012 میں مکمل کرلیا تاہم اس کے بعد اس میں کئی بار خامیاں آتی رہیں جنہیں دور کیا جاتا رہا۔ ناسا کے مشن مینیجر کا کہنا ہے کہ روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے کیپلر صرف 13 منٹ میں سگنل زمین پر واپس بھیج دیتا ہے اس لیے اس وقت سب سے اہم کام اسے ایمرجنسی موڈ سے نکالنا ہے۔