صحت کا شعبہ مزید فعالیت کا متقاضی

حفاظتی ٹیکےنہ لگانےسےہرسال سیکڑوں بچےمرجاتےہیں جبکہ حفاظتی ٹیکوں سےدنیا بھرمیں سالانہ تقریباً30لاکھ اموات کوروکاجاتاہے


Editorial April 20, 2016
1988میں سالانہ پولیو کے 3لاکھ کیسز سامنے آرہے تھے جب کہ 2011میں 655کیسز سامنے آئے فوٹو : فائل

صحت کے شعبے میں بعض اقدامات کی اطلاعات حوصلہ افزا ہیں ۔وفاق نے قبائلی علاقوں میں جاںبحق ہونے والے پولیو ورکرز اور رضاکاروں کو شہداء پیکیج دینے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ پشاور سمیت صوبہ بھر کے حساس علاقوں میں پولیو مہم شروع ہوگئی۔کراچی میں انسداد پولیو مہم شروع ہوگئی ہے، کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ رواں سال سندھ سے پولیو وائرس کا خاتمہ ہدف ہے، ادھر وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر نے کہا ہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کو وزیراعظم ہیلتھ انشورنس پروگرام کا دائرہ کار مزید شہروں تک وسیع کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ علاج کی سہولتیں ملک کے طول و عرض میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائی جا سکیں۔

حفاظتی ٹیکے نہ لگانے سے ہرسال سیکڑوں بچے مرجاتے ہیں جب کہ حفاظتی ٹیکوں سے دنیا بھر میں سالانہ تقریباً30لاکھ اموات کو روکا جاتا ہے لیکن پاکستان میں 5سال سے کم عمرکے 27فیصد بچوں کی اموات ان موذی بیماریوں سے ہوتی ہے جنھیں حفاظتی ٹیکہ جات اور ویکسینیشن کے ذریعے روکا جاسکتا ہے، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سندھ کے حوالہ ا سے بتایا گیا کہ ویکسینیشن کے باعث دنیا بھر میں 2000سے 2013کے دوران خسرہ سے ہونے والی اموات میں 75فیصد کمی ہوئی، انفلوئینزا سے ہونے والی بیماریوں اور پیچیدگیوں میں 60 فیصد اور اس سے ہونے والی اموات میں 80 فیصد کمی ہوئی، اس کے علاوہ پولیو کے کیسز میں 99فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

1988میں سالانہ پولیو کے 3لاکھ کیسز سامنے آرہے تھے جب کہ 2011میں 655کیسز سامنے آئے اور چیچک کا 10سال میں دنیا بھر سے خاتمہ کر دیا گیا، تاہم ضلع پشاور میں نوزائیدہ بچوں کو بی سی جی ویکسین لگانے کے لیے آٹو ڈسپوزیبل سرنجیں ناپید ہوگئیں ، کمشنر کوئٹہ اور ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے سربراہ نے ہائی رسک ایریا خصوصا قلعہ عبداللہ میں رواں ماہ ہونے والی سہ روزہ انسداد پولیو مہم مزید بہتر انداز میں منعقد کرانے کی ہدایات کی اور متنبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، اسی قسم کی ہدایات ملک بھر میں ارباب اختیار کی جانب سے جاری ہونی چاہئیں تاکہ عوام کے لیے صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو مستقل و یقینی بنایا جاسکے۔