الٹا وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ

عجب نصیب پاکستان کا ، کہ ہمیں شاید ہی افغانستان کی قیادت کی جانب سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہو


Editorial April 28, 2016
پاکستان تو خود دہشتگردی کا شکار ملک ہے۔ دہشتگردی کے تسلسل نے پاکستان کے وجود کو ہلا کر رکھ دیا، فوٹو: فائل

انسانی فطرت و مزاج کا حصہ ہے کہ اسے پرائے کی بات کا اتنا دکھ نہیں ہوتا، جتنا اپنے کی بات کا ہوتا ہے، پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کو برادر اسلامی ملک سمجھا ہے،اس کی خیرخواہی چاہی ہے لیکن عجب نصیب پاکستان کا ، کہ ہمیں شاید ہی افغانستان کی قیادت کی جانب سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہو۔ سابق افغان صدرحامدکرزئی ہوں یا موجودہ صدر اشرف غنی، جب بھی لب کشائی کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لو کے تھپیڑے ہمارے گالوں کو سرخ کررہے ہیں۔

تازہ ترین بیان جو افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے افغان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے دیا، وہ کچھ یوں تھا کہ افغانستان طالبان کو مذاکرات کی میز پرلانے کے سلسلے میں اب پاکستان سے کوئی توقع نہیں رکھتا۔یہ بیان ایسا ہے کہ دل کا نشانہ لے کر تیر مارا جائے، یہی وجہ تھی کہ ترجمان دفترخارجہ کو جوابی وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان حکومت اورافغان طالبان کے مابین مصالحت کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں، ہم نے فریقین کے درمیان پہلے مذاکراتی دورکی میزبانی بھی کی، تاہم افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پرلانے کی ذمے داری صرف پاکستان کی نہیں۔

ہم تو سمجھتے ہیں کہ اول تو افغان صدر کو ایسا بیان وہ بھی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران دینا ہی نہیں چاہیے تھا، جس کے جواب میں پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان کوکچھ یاد دلانے کی نوبت آتی، ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان تین دہائی گزرنے کے باوجود تاحال افغانستان کے مہاجرین کا بوجھ برداشت کر رہا ہے، خانہ جنگی اور غیرملکی افواج کی مداخلت کے شکار ملک میں پاکستان تو پائیدار امن اور استحکام کی دامے، درمے، سخنے کوشش کررہا ہے، الٹا افغان صدر احسان فراموشی کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔

کیا وہ نہیں جانتے کہ پاکستان میں جو تباہی و بربادی آئی ہے وہ سب افغانستان سے دوستی ومحبت کا رشتہ نبھانے کی وجہ سے آئی ہے، اسلحے اورمنشیات کی بہتات، بالخصوص ہیروئن کے نشے کے باعث نسلوں کا تباہ ہونا، چاہے خود کش بم دھماکوں میں ساٹھ ہزار پاکستانیوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو یا پھر پورے انفرااسٹرکچرکی اربوں ڈالرکی تباہی۔ ان تلخ حقائق کے باوجود پاکستان، افغانستان، چین اور امریکا پر مشتمل 4 رکنی رابطہ گروپ بنانے کا مقصد افغانستان میں امن اوراستحکام لانا ہے۔ پاکستان تو خود دہشتگردی کا شکار ملک ہے۔ دہشتگردی کے تسلسل نے پاکستان کے وجود کو ہلا کر رکھ دیا، دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں جن کے خلاف افغان حکومت کوئی کارروائی نہیں کرتی،کیا یہی صلہ ہے پاکستان کی قربانیوں کا، یہ سوال افغان صدرکو اپنے ضمیر سے پوچھنا چاہیے ۔