عالم اسلام اور بھارت کے استعماری عزائم

پروفیسر حافظ محمد سعید  جمعرات 28 اپريل 2016

ترکی کے دارالحکومت استنبول میں56 مسلم ممالک کی نمایندہ تنظیم ’’اوآئی سی‘‘ کے تیرہویں دو روزہ اجلاس کا موضوع وقت اور حالات کی مناسبت سے’’اتحاد و یکجہتی برائے امن و انصاف‘‘ رکھا گیا۔ اجلاس میں مسلم امہ کو درپیش تمام مسائل بشمول دہشت گردی، مغرب کے مسلم امہ کے خلاف نفرت انگیز رجحان و بیانات، رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات کے توہین آمیز خاکے، فلسطین، مسئلہ کشمیر، شام، لیبیا اور یمن میں جاری بحران کا خاتمہ، آزادی اظہار کے نام پر اسلام اور مقدس مقامات کی تضحیک، مسلم دنیا میں فرقہ وارانہ تقسیم کا خاتمہ، تجارت معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، صحت اور تعلیم سمیت تمام شعبہ جات میں او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان تعاون اور مسلم امہ کا مستقبل محفوظ بنانے پر زور دیا گیا۔

یہ بات خوش آیند ہے کہ او آئی سی کے اجلاس میں دیگر مسائل کے علاوہ مسئلہ کشمیر پر بھی گفتگو کی گئی اور کانفرنس کے جاری اعلامیہ میں تحریک آزادی کشمیر کی اصولی حمایت کرتے ہو ئے واضح کیا گیا کہ بھارتی جارحیت اور پرتشدد کاروائیاں قابل قبول نہیں ہیں۔ ا و آئی سی کے سیکریٹری جنرل ایاد امین مدنی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں جموں کشمیر کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ ہنوز حل طلب ہے۔

اہل کشمیر کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ لہذا ضروری ہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحد ہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیا جائے۔ ایاد امین نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ اوآئی سی کا ایک خصوصی نمایندہ مقبوضہ جموں کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے وادی میں بھیجا جائے گا۔

او آئی سی اس وقت مسلم امہ کا سب سے بڑا اتحاد ہے اس کا قیام سعودی عرب کی کوششوں سے عمل میں آیا اور اس کا صدر دفتر سعودی عرب کے دارالحکومت جدہ میں واقع ہے۔ یہ اتحاد اس وقت بنا جب ستمبر 1969ء کو یہودی مسجد اقصی پر حملہ آور ہوئے۔ اس کے بعد جب شاہ فیصل شہید سعودی عرب کے فرماں روا بنے اس وقت اسی پلیٹ فارم پر انھوں نے قبلہ اول کی آزادی کے لیے پوری دنیا کے مسلمان حکمرانوں کو متحد و متفق کر دیا بالآخر یہی اتحاد اسلا م دشمنوں کے گلے کا پھندابن گیا۔

جہاں تک مسئلہ کشمیر اور او آئی سی کا تعلق ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ حالیہ تحریک آزادی کشمیر کا آغاز 1988ء میں ہوا تھا۔ اس سے ایک سال پہلے جنوری 1987ء میں کویت میں او آئی سی کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا۔ پاکستان سے جنرل ضیاء الحق نے اجلاس میں شرکت کی انھوں نے جہاں افغانستان فلسطین اور دنیا کے دیگر خطوں کے مظلوم مسلمانوں کے حق اور آزادی کی بات کی وہاں انھوں نے مسئلہ کشمیر کے بارے میں بھی دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ’’اہل فلسطین کی طرح کشمیر کے مسلمان بھی مظلوم ہیں جو بھارتی جارحیت کا شکار مسلم دنیا کی توجہ اور مدد کے طلبگار ہیں۔ فلسطین کی طرح اہل کشمیر کو بھی مسلم امہ کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان اہل کشمیر کی مدد و حمایت سے دستبردار ہو ا ہے اور نہ ہو گا۔ اگر دنیا جنوبی ایشیا میں امن چاہتی ہے تو اس کے لیے پہلے مسئلہ کشمیر کا حل کیا جانا ضروری ہے۔‘‘

یہ پہلا موقع تھا جب کسی عالمی اسلامی فورم پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آواز اٹھائی گئی۔ اس موقع پر بھارت کی بھرپور کوشش تھی کہ اسلامی سر براہی کا نفرنس کے مقررین و سامعین کے کان کشمیر کے نام سے ناآشنا رہیں لیکن بھارت کی کوئی کوشش بھی کار گر نہ ہو سکی۔

1988ء میں شروع ہونے والی تحریک آزادی کشمیر 90ء کی دہائی میں اس شان سے داخل ہوئی کہ یہ بھارتی حکمرانوںکے گلے میں ہڈی کی طرح پھنس چکی تھی۔ بھارتی نیتاؤں اور جرنیلوں کے لیے ا سے اگلنا ممکن تھا اور نہ نگلنا ممکن تھا اس لیے کہ دونوں صورتوں میں بھارت کی موت تھی۔ اس موقع پر بھارت نے مفتی سعید اور فاروق عبداللہ جیسے غداروں اور ضمیر فروشوں کو بعض مسلمان ملکوں کے دورے پر بھیجا اور ان مہروں کے ذریعے مسلمان حکمرانواں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ کشمیری بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

ان حالات میں اگست 1990ء میں قاہرہ میں او آئی سی کا اجلاس تھا۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کو تنہا کرنے کا بھارت کا پروپیگنڈہ زوروں پر تھا تب پاکستان کے انتہائی قریبی دوست سعودی عرب کے اس وقت کے وزیر خارجہ سعود الفیصل کا نفرنس کے صدر تھے۔ انھوں نے نہ صرف بھارت کے تما م حربوں اور ہتھنکڈوں پر پانی پھیر دیا بلکہ بھر پور طریقے سے پاکستان کی حمایت کی، مقبوضہ جموں کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا، مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔ یہ درست ہے کہ اس وقت سے اب تک او آئی سی نے ہمیشہ مظلوم اہل کشمیر کی بھر پور مدد و حمایت کی ہے تاہم یہ حمایت اعلامیوں اور قراردادوں کی بجائے عملی اقدامات کی متقاضی ہے۔

مسلمان حکمرانوں اور بالخصوص عرب ممالک کے حکمرانوں سے ہم کہنا چائیں گے کہ بھارت نے کشمیری مسلمانوں پر جو جنگ مسلط کر رکھی ہے یہ زمین پر قبضے کی نہیں بلکہ اسلام دشمنی اور عالم اسلام پر قبضہ کی جنگ ہے۔ بھارتی استعمار اور استبداد کی نظریں صرف مقبوضہ جموں کشمیر پر ہی نہیں بلکہ پاکستان سمیت ارد گرد کے تمام اسلامی ممالک پر لگی ہوئی ہیں۔ اس ضمن میں بھارت کی جدید خارجہ پالیسی کے معمار ڈاکٹر ایس آر پٹیل اپنی کتاب Foreign policy of India میں لکھتے ہیں ’’بھارت کے دفاع کے لیے ضروری ہے کہ سنگاپور اور نہر سویز دونوں ہمارے کنٹرول میں ہوں۔‘‘

کئی ایک خود ساختہ بھارتی مورخین کے مطابق تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب دنیا کے نقشے پر’’ عظیم تر ہندوستان‘‘ کے نام سے ایک ملک موجود تھا جس کی سرحدیں مشرق میں انڈونیشیا، ملائشیا، سنگاپور اور مغرب میں دریائے نیل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ یہاں تک کہ جزیرہ نمائے عرب بھی اس میں شامل تھا۔ یہ خود ساختہ مورخین ماضی کے اسی گم گشتہ بھارت کی بازیابی کے خواہشمند ہیں۔

بات یہاں تک ہی محدود نہیں بعض ہندو فلسفی اس سے بھی آگے کی سوچتے اور دریدہ دہنی کرتے ہوئے کہتے ہیں نعوذبااللہ خانہ کعبہ بھی پہلے رام کا مندر تھا جس پر مسلمانوں کے پیغمبر نے قبضہ کر لیا۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کوشش کرنی ہو گی کہ خانہ کعبہ پر دوبارہ ہمارا قبضہ ہو جائے تا کہ اسے مندر میں تبدیل کر کے رام کا بت نصب کیا جاسکے۔

چنانچہ اس سلسلہ میں مشہور بھارتی فلسفی اور مفکرپی این اوک اپنی کتاب Some Blunders of Indian History میں ’’کعبہ دراصل ہندؤوں کا مندر ہے‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے ’’اس امر کی تاریخ میں کئی شہادتیں ملتی ہیں کہ کسی زمانے میں ہندو مہاراجہ بکرماجیت کی حکومت کی حدود پورے جزیرہ نمائے عرب تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اور بکرماجیت نے 58 ق م میں عرب کے شہر مکہ میں رام کا مندر تعمیر کیا تھا۔‘‘

بابری مسجد کے بارے میں بھی ہندؤوں کا دعوی تھا کہ یہ رام کی جائے پیدائش تھی پھر دنیا نے دیکھا کہ 6 دسمبر 1992ء کو یہ مسجد شہید کر دی گئی۔ ہندؤو ں کا یہی دعویٰ خانہ کعبہ کے بارے میں بھی ہے۔ اس پس منظر میں پی این اوک کی ہرزہ سرائی سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ بھارتی رہنماؤں کی سوچ مشرق وسطی میں صرف معیشت و تجارت کی بالادستی تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک ایسی وسیع تر مذہبی ہندو ریاست کے خواب دیکھ رہے ہیں کہ جس کی بنیاد رام راج پر ہو اور سرحدیں افغانستان سے لے کر حجاز مقدس تک پھیلی ہوں۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے توکشمیری مجاہدین اپنے وطن کی آزادی کی ہی نہیں بلکہ پاکستان سمیت عالم عرب اور حجاز مقدس کے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں لہٰذاپاکستان کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر مضبوط، دوٹوک اور اصولی موقف اختیار کرے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات اور تجارت میں کشمیر کو سر فہرست رکھے۔ بھارتی مورخین اور پایسی ساز افراد کے عالم عرب ،حجاز مقدس اور بالخصوص حرمین کے بارے میں عرب میڈیا، علماء شیوخ، حرمین کے ائمہ، عرب سفارت خانوں، حکمرانوں، اسلامی سربراہی کانفرنس اور اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس کے ذمے داران کو آگاہ کرے۔

بلاشبہ اس وقت امت مسلمہ مشکل حالات سے دوچار ہے۔ نائن الیون کے نام پر امریکا نے پہلے افغانستان اور عراق کو تباہ کیا اب 15 سال بعد امریکا سعودی عرب کو اس واقعہ کا ذمے دار قرار دیکر ایک بار پھر تباہی اور بربادی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ مسلم ممالک متحد ہوں، باہم تجارت کو فروغ دیں، ڈالر اور پونڈ کی غلامی سے نکل کر اسلامی بینک بنائیں اپنی کرنسی تشکیل دیں، دفاع اور معیشت کو مضبوط کریں، قران مجید سے رہنمائی لیں، ان شاء اللہ ان کے مسائل حل ہو جائینگے، غلامی کے بند ھن ٹوٹ جائینگے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔