ایٹمی اسلحہ اور نسل انسانی

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے امریکا‘ چین اور دیگر ایٹمی ریاستوں پر زور دیا ہے۔


Editorial April 28, 2016
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے امریکا‘ چین اور دیگر ایٹمی ریاستوں پر زور دیا ہے۔ فوٹو؛ فائل

لاہور: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے امریکا' چین اور دیگر ایٹمی ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایٹمی تجربات کا ''پاگل پن'' بند کر دیں اور سی این ٹی بی ٹی (Comprehensive Nuclear Test Ban Treaty) کے جامع سمجھوتے کی توثیق کریں جو 20 سال قبل منظور کیا گیا تھا۔

بان کی مون نے کہا کہ میں ان آٹھ ممالک پر زور دے رہا ہوں جنہوں نے متذکرہ معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں کیونکہ ان کے دستخطوں کے بغیر اس معاہدے کی توثیق نہیں ہو سکتی۔ سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں متذکرہ معاہدے کی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیکریٹری جنرل نے کہا جوہری تجربوں کے نتیجے میں پانی میں زہر پھیل جاتا ہے جب کہ فضا میں کینسر کی آلودگی پیدا ہو جاتی ہے اور ریڈیائی آلودگی نسلوں در نسلوں کی تباہی کا باعث بن جاتی ہے گویا ایٹمی تجربات پوری انسانیت کے لیے ناقابل معافی جرم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جن آٹھ ممالک نے اس معاہدے کی توثیق نہیں کی' ان میں امریکا' چین' بھارت' پاکستان' شمالی کوریا اور اسرائیل کے علاوہ ایران اور مصر بھی شامل ہیں۔ امریکا نے پہلا ایٹمی تجربہ 16 جولائی 1945ء کو نیو میکسیکو کے صحرا میں کیا تھا جب کہ ستمبر 1996ء تک دنیا بھر میں دو ہزار سے زیادہ ایٹمی تجربات کیے جا چکے تھے۔

1992ء میں سرد جنگ کے خاتمے تک امریکا 1032 ایٹمی تجربے کر چکا تھا جب کہ 1990ء تک روس کے ایٹمی تجربات کی تعداد 715 تھی۔ بلاشبہ ایٹمی ہتھیار اور ان کے تجربات کرۂ ارض اور اس پر موجود بنی نوع انسان ہی نہیں بلکہ تمام جانداروں کی بقا کے لیے سنگین خطرہ ہیں' اگر انسان نے اپنا دوسروں پر قبضہ کرنے کا جنون ختم نہ کیا تو یہ ایٹمی ہتھیار کسی روز کرہ ارض کے خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں۔