افغانستان کی دھمکی

افغان آرمی چیف کی طرف سےپاکستان کےخلاف کارروائی کی کھلی دھمکی پاکستان کےلیےخطرے کی گھنٹی اورمشکل صورت حال کا عندیہ ہے


Editorial May 03, 2016
افغان حکومت کو پاکستان کو دھمکیاں دینے کے بجائے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ فوٹو: فائل

افغانستان آرمی چیف جنرل قدام شاہ شعیم نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سرحد پار سے جارحیت بند نہ ہوئی تو فوجی طاقت کا آخری آپشن استعمال کیا جائے گا۔ افغان صدر کے نائب ترجمان شاہ حسین مرتضوی نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے سرحد پار سے راکٹ حملے پر پاکستان کے ساتھ براہ راست بات چیت کی ہے' افغان میڈیا کے مطابق افغان فوج کو جوابی کارروائی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

افغان آرمی چیف کی طرف سے پاکستان کے خلاف کارروائی کی کھلی دھمکی پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی اور مشکل صورت حال کا عندیہ ہے۔ گزشتہ دنوں افغان صدر اشرف غنی نے افغان پارلیمنٹ کو مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان افغان طالبان بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تو وہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان صدر اشرف غنی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا صرف پاکستان کی نہیں تمام فریقین کی ذمے داری ہے' اس نے ہمیشہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے مابین مصالحت کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں' پاکستان' افغانستان' چین اور امریکا پر مشتمل چار رکنی رابطہ گروپ بنانے کا مقصد افغانستان میں امن اور استحکام لانا ہے' اس مقصد کے حصول کے لیے تمام فریقین کو ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

پاکستان نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات چاہتا ہے ،وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت کبھی نہیں دے گا اور وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور جنگ لڑ رہا ہے لیکن دہشت گردوں کو فوری طور پر ختم کرنا کوئی آسان کام نہیں یہ ایک طویل اور مشکلات سے بھرپور مرحلہ ہے جس کے لیے عالمی دنیا کو اس کی مدد کرنا چاہیے۔ پہلے افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی اب افغان آرمی چیف نے براہ راست پاکستان کے خلاف کارروائی کی دھمکی دے دی ہے جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے کے بجائے ماضی کی کرزئی حکومت کی طرح معاندانہ اور جارحانہ رویہ رکھے گی۔

افغان حکومت کے اس رویے کے بعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر افغان حکومت سرحدوں پر کوئی کارروائی کرتی ہے تو پاکستان کے لیے اس کی شمالی سرحد پر مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ افغان حکومت کس کی آشیر باد پر ایسا کر رہی ہے، وہاں موجود امریکی اور نیٹو حکام اس مسئلے پر خاموشی کیوں اختیار کیے ہوئے ہیں اور وہ افغان حکومت کو پرامن رہنے اور پاکستان سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی ترغیب کیوں نہیں دے رہے جب کہ صورت حال یہ ہے کہ افغان حکومت مکمل طور پر امریکا کے زیراثر اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان ایک عرصے سے افغان حکومت سے شکوہ کرتا رہا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردوں کے گروہ پاکستانی علاقے میں نہ صرف دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے بلکہ سیکیورٹی اداروں کی چوکیوں کو بھی مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

افغان حکومت نے اس مسئلے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور نہ اس نے پاکستان کے خدشات دور کرنے کے لیے دہشت گردوں کے سرحد پار کرنے کے راستے روکنے کے لیے کوئی اقدامات کیے۔ جب سرحد پار سے دہشت گردوں کے گروہ پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں تو پاکستانی سیکیورٹی اہلکار بھی اپنے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کرتے ہیں' اس موقع پر افغان فورسز کو پاکستانی فورسز کا ساتھ دیتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے مگر انھوں نے آج تک ایسا نہیں کیا بلکہ الٹا پاکستان پر سرحد پار حملوں کا الزام لگا کر فوجی کارروائی کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ پوری دنیا پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر کے بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور باقی رہ جانے والے دہشت گرد مختلف علاقوں میں چھپ کر اپنی مذموم کارروائیاں کر رہے ہیں۔

افغان حکومت کو پاکستان کو دھمکیاں دینے کے بجائے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ افغان حکومت تمام تر امریکی اور نیٹو امداد کے باوجود داخلی سطح پر جنگجوؤں کی کارروائیوں پر قابو نہیں پا سکی اور اسے ان کے خلاف شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ افغان فورسز کی صلاحیت کا یہ عالم ہے کہ کچھ عرصہ قبل افغان طالبان نے قندوز اور دیگر علاقوں پر افغان فورسز کو شکست دے کر وہاں قبضہ کر لیا تھا۔ پاکستان کو افغانستان کی طرف سے فوجی کارروائی کی دھمکی کے مسئلے پر خاموش رہنے کے بجائے اسے فی الفور اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہیے اور دنیا کی توجہ افغان حکومت کے جارحانہ رویے کی جانب دلانا چاہیے۔ یہ ملکی سرحدوں کے تحفظ اور سلامتی کا معاملہ ہے اس پر روایتی انداز میں خاموشی مستقبل میں بڑی مشکلات اور مسائل کا سبب بنے گی۔