عالمی یوم آزادی صحافت

دنیا بھر میں آج 3 مئی2016 کو اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو کے زیر اہتمام یوم آزادی صحافت منایا جارہا ہے


Editorial May 03, 2016
پاکستان میں عوام کے جاننے کے حق کی جستجو میں آزادی صحافت کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی ہے۔ فوٹو : فائل

دنیا بھر میں آج 3 مئی2016 کو اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو کے زیر اہتمام یوم آزادی صحافت منایا جارہا ہے۔اس دن اہل صحافت اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ وہ ایک آزاد ، ذمے داراور انتہاپسندوں کے ہولناک حملوں ، دیگر پریشر گروپس اور پر تشدد عناصر یا ریاستی دباؤ سے بے خوف رہتے ہوئے عوام کے اطلاعات تک رسائی کے بنیادی حق کے لیے لڑتے رہیں گے جب کہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی یکسوئی سے جاری رکھیں گے۔

یونیسکو کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ادارہ نے 2030کے لیے استحکام پذیر ترقیاتی مقاصد کے حصول کا عہد کررکھا ہے تاکہ دنیا سے غربت کا خاتمہ ہو ، نوع انسانی کو خوشحالی نصیب ہو،امن عالم کے آدرش کو فروغ حاصل ہو اور کرہ ارض کے تحفظ کے لیے مذکورہ مقاصد پر پر جوش انداز میں کام کیا جائے ۔تاہم یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوگا جب اطلاعات کا معیار بلند تر ہو اور صحافت آزاد اور ہر قسم کے خوف و خطر اور ہولناک حملوں سے محفوظ ہو جب کہ عالمی صورتحال اس کے برعکس ہے۔

تیسری دنیا میں صحافت معرض خطر میں ہے، اس دن کے حوالے سے آزادی صحافت کو جمہوریت کا بنیادی اصول قراردیا جاتا ہے،اس اصول کی پر جوش نمود دنیا بھر کے صحافیوں نے اپنے خون جگر سے کی ہے ، اور حقائق کی تشہیر اور جبرو ستم کے خلاف سینہ سپر ہوکر اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے جانیں نچھاور کی ہیں۔1993 میں یوم صحافت کا دن منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یونیسکو نے اپنے 26ویں اجلاس میں اس دن کو عالمی سطح پر منانے کی سفارش کی تھی اور اس کا سبب افریقی صحافیوں کی اس اپیل کا ردعمل تھا جس میں اہل صحافت کو آزادی اور تکثیریت پسندی کے پرچم کو سر بلند رکھنے کے لیے متحد ہونے کو کہا گیا تھا۔

آج دنیا بھر کے سو سے زائد ممالک میں یوم آزادی صحافت منانے کی تقریبات جاری رہیں گی، اس ضمن میں بڑی تقریبات 2 مئی سے 4 مئی تک فن لینڈ میں یونیسکو کے اشتراک سے منعقد کی جارہی ہیں۔ پاکستان میں عوام کے جاننے کے حق کی جستجو میں آزادی صحافت کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی ہے، اس لیے ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے عالمی یوم آزادی صحافت جوش و خروش سے منانے کا عزم کیا ہے۔