بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی

پانامہ لیکس کے انکشافات کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی ایک بار پھر عروج پر نظر آرہی ہے


Muhammad Saeed Arain May 03, 2016

پانامہ لیکس کے انکشافات کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی ایک بار پھر عروج پر نظر آرہی ہے اور اسی بنیاد پر حکومت کے خلاف ایک بار پھر بڑا سیاسی اتحاد بنانے کی کوششیں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ ماضی کی طرح اس مجوزہ اتحاد کا مقصد نواز شریف حکومت سے نجات نظر آرہا ہے جس کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔

میاں نواز شریف کو ہٹاکر جلد سے جلد خود وزیراعظم بننے کی عمران خان کی خواہش پرانی ہے اور حصول اقتدار کا حق پی ٹی آئی سمیت ہر حکومت مخالف جماعت کا ہے مگر حیرت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی سابقہ اور موجودہ حکومتوں پرکرپشن کے سنگین الزامات لگانے والی پی ٹی آئی اب میاں نواز شریف کی سیاسی دشمنی میں پیپلزپارٹی کے قریب آگئی ہے اور اب دونوں پارٹیاں دیگر حکومت مخالف سیاسی پارٹیوں سے بھی رابطے کرکے حکومت کے خلاف متحد ہونے کی کوشش کررہی ہیں اور 'گو نواز گو' کے نعرے کی حامیوں میں اب پیپلزپارٹی بھی پیش پیش ہے۔

عمران خان کے دھرنے میں حکومت کا ساتھ دینے والی پیپلزپارٹی پانامہ لیکس کے انکشافات کے وقت مسلم لیگ ن کی قیادت کی مبینہ کرپشن کے خلاف تھی مگر اب پیپلزپارٹی بھی گو نواز گو کے حامی ہوگئی ہے۔ پی پی پہلے دعویٰ کرتی تھی کہ ن لیگ کو اپنی 5 سالہ مدت پوری کرنے کا حق ہے کیوں کہ ن لیگ کو سال 2013ء میں 2018ء تک کے لیے منتخب کیا گیاتھا مگر پانامہ لیکس کے بعد پی پی پی میں اب بھی دو رائے موجود ہیں اور پی پی پی کے بعض رہنماؤں کی طرح اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اب تک ن لیگ کی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہیں کیا، پی پی کے بعض رہنما اب وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے لگے ہیں مگر بلاول زرداری کے برعکس آصف علی زرداری ابھی تماشا دیکھ رہے ہیں اور اب تک ان کا واضح موقف سامنے نہیں آیا اور وہ وقت کا انتظارکررہے ہیں۔

مسلم لیگ ن حکومت کی 3 سالہ کارکردگی اپنی جگہ مگر ان پر عمران خان اور دیگر کی طرف سے عائد کیے جانے والے کرپشن کے الزامات نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو عوام میں متنازعہ ضرور بنادیا ہے اور وہ سابق صدر آصف زرداری اور ان کی حکومت کی مبینہ کرپشن کے بعد یہ ضرور سوچ رہے ہیں کہ حکمران خاندان کے پاس اس قدردولت کہاں سے آگئی، حکومت مخالف یہ بات تسلیم کرنے پر تیار نہیں کہ محض کاروبار کے ذریعے وزیراعظم کے صاحبزادگان اتنی بڑی جائیدادوں کے مالک بن گئے ہیں۔ حکمرانوں کے حامی اسے کاروباری ترقی قرار دے رہے ہیں جب کہ اپوزیشن رہنما یہ بات ماننے کو تیار نہیں اور ان کا الزام ہے کہ یہ ساری دولت ملک میں کی جانے والی مبینہ کرپشن کے ذریعے حاصل کرکے باہر بھیجی گئی ہے۔حکمران خاندان کے مختلف بیانات بھی اپوزیشن کے الزامات کو تقویت پہنچاچکے ہیں۔

ماضی میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کے سرے محل کا مالک ہونے کی بڑی دھوم تھی اور دونوں اس ملکیت سے انکاری تھے مگر بعد میں سرے محل کی ملکیت تسلیم کی گئی تھی اور سیاست دان اور حکمران کرتے بھی یہی آئے ہیں اور وہ کرپشن اور دیگر الزامات کو تسلیم نہیں کرتے اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عوام ان کی باتوں پر یقین کرلیںگے۔

وزیراعظم نواز شریف اب تک اپنی جلاوطنی کے معاہدے سے انکاری ہیں مگر انھوں نے جلاوطنی کے معاہدے کی وجوہات قوم کو بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی حالانکہ قوم جانتی ہے کہ وہ مجبور تھے اگر وہ فوجی سربراہ کی بات نہ مانتے تو ذوالفقار علی بھٹو جیسا حشر ان کا بھی ہوسکتا تھا۔ اس لیے نواز شریف کو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری میں جلاوطن ہونا پڑا تھا اور اب معاہدہ تسلیم نہ کرنا بھی ان کی مجبوری ہے۔

قوم حکمرانوں کے ساتھ اپوزیشن کا کردار بھی دیکھ رہی ہے اور وزیراعظم بننے کے لیے عمران خان کی جلد بازی اور بے چینی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ عمران خان بھی سیاسی مفاد کے لیے موقف بدلنے میں مشہور ہوچکے ہیں اور وزیراعظم سے یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ میاں صاحب! ''ہن ساڈی واری آن دو'' ملک کا آیندہ اقتدار اب عمران خان اپنا حق سمجھ رہے ہیں کہ پی پی پی اور ن لیگ اقتدار کی تین تین باری لے چکی ہیں اب یہ حق پی ٹی آئی کا ہے۔

سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت یہ کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن میں وزیراعظم بننے کے امیدوار بہت ہیں اور اسی لیے اپوزیشن متحد نہیں ہورہی۔ مسلم لیگ ق کا اقتدار تو اب خواب بن چکا مگر اس نے نواز شریف کی ہر حالت میں مخالفت اپنا منشور بنالیا ہے جب کہ شیخ رشید نے تو گو نواز گو کے نعرے کو اپنا ایجنڈا قرار دے دیا ہے۔

ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھانے میں پارلیمنٹ میں موجود مختلف نظریات رکھنے والی دو بڑی پارٹیوں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے ساتھ پارلیمنٹ بلکہ ملک سے ہی باہر رہنے والے علامہ طاہر القادری کی بھی شدید خواہش ہے کہ شریفوں کے اقتدار سے جلد نجات مل جائے، پیپلزپارٹی بھی اس خواہش میں اتنی گرگئی ہے کہ اس نے قومی اسمبلی میں صرف ایک نشست رکھنے والے شیخ رشید کی لال حویلی کی یاترا سے بھی گریز نہیں کیا اور تو اور خود بلاول زرداری بھی ملاقات کے لیے پی پی کے مخالف شیخ رشید سے ملنے پہنچ گئے، جنھیں ان کی والدہ نے گرفتار کرکے بہاولپور جیل کی سیر کرائی تھی۔

ملک کی چوتھی بڑی پارلیمانی پارٹی متحدہ قومی موومنٹ خود شدید بحران میں مبتلا ہے اور پانامہ لیکس کے بعد محتاط پالیسی اختیارکیے ہوئے ہے جن سے پی پی رہنما بھی رابطہ کرچکے ہیں مگر متحدہ کسی وجہ سے ابھی کھل کر حکومت کی مخالفت میں سامنے نہیں آرہی اور چند نشستیں رکھنے والی اے این پی اور ق لیگ اور دیگر متحدہ اپوزیشن کے قیام میں دلچسپی ضرور رکھتے ہیں۔

متحدہ اپوزیشن کے خواہش مند اپنے سیاسی مفاد کو پہلے ترجیح دے رہے ہیں اور ان کے پاس ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور محض نواز شریف دشمنی میں متحد ہونے پر مجبور ہیں جن میں دو بڑے نام پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی ہیں اور دونوں دیگر چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کا طریقہ اقتدار مختلف ہے وہ آصف زرداری کی طرح اپنے حلیفوں کو ساتھ لے کر نہیں چل رہے اور وفاق میں صرف مولانا فضل الرحمن ان کے حلیف زیادہ اور حریف کم نظر آتے ہیں جب کہ بلوچستان کی دو علاقائی پارٹیاں اقتدار کے لیے وزیراعظم کے ساتھ ہیں۔

متحدہ تنہائی کا شکار اور اپنے انتشار میں ہے جس کی اپوزیشن کی کوئی بھی جماعت کھل کر سیاسی سپورٹ نہیں کرے گی اور اسٹیبلشمنٹ سے شاکی متحدہ کوحکومت سے بھی کوئی امید نہیں ہے اور اس کا تو اب کراچی میں میئر منتخب ہونا بھی مشکل لگ رہا ہے۔

پارلیمنٹ میں مسلم لیگ ن کی واضح اکثریت ہے جس کے اقتدار کو بظاہر توکوئی خطرہ نظر نہیں آرہا مگر پارلیمنٹ سے باہر وفاقی اور پنجاب حکومتوں کو اپنے مخالفین کا سامنا ضرور ہے جو متحد ہوکر ان کے لیے مزید مسائل پیدا کرنا چاہیں گے جو حکمران صرف تدبر سے ہی ناکام بناسکتے ہیں۔

مقبول خبریں